Tuesday, 05 May 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. America Aur Iran Mein Sulah Ke Madoom Hote Imkanat

America Aur Iran Mein Sulah Ke Madoom Hote Imkanat

رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی جو کالم لکھا ہے اس میں اشاروں کنایوں کی مدد سے یہ دعویٰ کردیا کہ 14مئی کے روز چینی صدر سے ملاقات کے لئے جہاز میں بیٹھنے سے قبل امریکی صدر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا خواہش مند ہے۔ اس کی خواہش کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ ا یران بھی کم ازکم جنگ بندی برقرار رکھنا چاہے۔ جنگ بندی کو طول دینے کے لئے مگر دیرپا امن کی تلاش کے لئے مذاکرات جاری رکھنا بھی ضروری ہے اور اس تناظر میں اسلام آباد ایک بار پھر دونوں فریقین کی سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

مقامی اور عالمی میڈیا کی نگاہوں سے اوجھل مذکورہ بالا تناظر میں جو رابطے ہورہے ہیں ان کی تفصیلات تک رسائی میسر نہیں۔ عملی صحافت کے طویل برسوں کی بدولت بنائے تعلقات اور جبلت کی صورت تبدیل ہوئے تجربات کے طفیل اگرچہ اشارے ملے ہیں کہ رواں مہینے نویا دس تا ریخ کو امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ایک بار پھر اسلام آسکتے ہیں۔ ممکنہ مذاکرات کار کے نام اور عہدے مگر جاننے میں ناکام رہا۔

رواں ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے ایک اور دور کے امکانات کی تصدیق ذمہ دار سرکاری ذرائع سے ہونہیں رہی۔ اسلام آباد کے "حساس علاقوں" کی ویسی نگرانی بھی نظر نہیں آرہی جو چند ہفتے قبل دونوں ممالک کے وفود کے انتظار میں لاگو ہوئی نظر آرہی تھی۔ اسلام آباد داخلے کے تمام راستوں پر نگرانی کے ناکے البتہ بدستور قائم ہیں۔ شہر کے حساس علاقوں کو "سیل" کرنے کا جو تجربہ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی یقینی بنانے والے اداروں نے اب تک حاصل کیاہے اس کی بدولت اسلام آباد کو اگرچہ چند گھنٹوں کے نوٹس پر "قلعہ بند" ہوا شہر بنایا جاسکتا ہے۔

دیرپا امن کی تلاش کے لئے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے مابین ایک اور دور کے امکانات ٹھوس حوالوں سے جان کر جی مطمئن ہوگیا تھا۔ ہفتے اور اتوار کے دن عالمی اخبارات میں لہٰذا ایران اور امریکہ کے بارے میں تازہ ترین خبریں اور مضامین ڈھونڈ کر پڑھنے کے بجائے جلے ہوئے دل نے اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے حوالے سے اٹھے تنازعہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر چھائی چسکہ بھری کہانیوں سے جی بہلایا۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا کے "اونترے منڈے" دنیا بھر کے مسائل بھلاکر بانی تحریک انصاف سے کئی برس قبل علیحدہ ہوئی جمائمہ گولڈ اسمتھ کی منگنی کی خبروں سے حظ ا ٹھاتے رہے۔ مجھے ایسی کہانیوں پر نگاہ ڈالنے سے بھی گھن آتی ہے۔

پیر کی صبح اٹھا ہوں تو یہ کالم لکھنے سے قبل سوشل میڈیا کا پھیرا لگایا۔ ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے ہمارے ہاں کی اتوار اور پیر کی درمیانی رات لکھا ایک پیغام وہاں متعدد لوگوں نے پوسٹ کیا ہوا تھا۔ مذکورہ پیغام نظر بظاہر یہ اشارہ دے رہا تھا کہ ٹرمپ کا صبر جواب دے گیا ہے۔ وہ ایران کے ساتھ ہوئی جنگ بندی کو نظرانداز کرتے ہوئے فضائی بمباری بھی شروع کرنا نہیں چاہ رہا۔ فیصلہ فقط یہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی چاہ میں خلیج فارس کے پانیوں میں 8 سے زیادہ ہفتوں سے پھنسے تیل بردار جہازوں کو امریکہ کی "حفاظتی چھتری" تلے لے کر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔

ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے کے بغیر آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی "امریکی چھتری" تلے نقل وحرکت پاسدارانِ انقلاب جارحانہ اقدام قرار دے سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے کئی حصوں میں بارودی سرنگیں پھینکنے کے بعد انہوں نے چند راہداریوں کو "محفوظ" بنارکھا ہے۔ وہاں سے گزرنے کے لئے مگر ایران حکومت سے اجازت کے علاوہ اسے "ٹول" نما فیس بھی ادا کرنا پڑرہی ہے۔ ٹرمپ کی اعلان کردہ "چھتری" مذکورہ تناظر میں یک طرفہ اور جارحانہ فیصلہ شمار ہوگی۔ اپنی "خودمختاری" یاد دلانے کے لئے پاسدارانِ انقلاب لہٰذا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں اور تیل بردار بنکروں پر ڈرون اور میزائل حملے شروع کرسکتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے فراہم کردہ "چھتری" اپنے تئیں تیل سے لدے جہازوں کے کپتان اور عملے کو اعتماد فراہم نہیں کرسکتی۔ لندن میں موجود انشورنس کے دھندے کی پانچ اجارہ دار کمپنیاں آبنائے ہرمز سے ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے کے ارادے کا اظہار کرنے والے جہازوں کا بیمہ کرنے سے انکارکردیں گی۔ اگررضا مند بھی ہوئیں تو انشورنس کے لئے اتنی رقم کا تقاضہ کریں گی جسے ادا کرنے کی مفت تیل حاصل کرنے والے بھی ہمت نہیں دکھاسکتے۔ قصہ مختصر دو دنوں تک پرامید رہنے کے بعد پیر کی صبح مجھے ایران اور امریکہ کے مابین صلح کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے خدشہ بلکہ یہ لاحق رہا کہ ٹرمپ کے اتوار اور پیر کی درمیانی رات لکھے پیغام سے حوصلہ پانے کے بعد اگر کسی تیل بردار ٹینکرنے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی ہے تو وہ پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کی زد میں آچکا ہوگا۔ اس کے جواب میں ایران کی ناکہ بندی پر مامور امریکی بحری بیڑوں نے "دفاعی کارروائیاں" شروع کردیں تو ایران- امریکہ جنگ بندی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ خوف کے مارے ذہن نے اس کے نتائج سوچنے سے پرہیز کیا۔

جی کو تسلی دینے کے لئے یہ فرض کرنے کو ترجیح دے رہا ہوں کہ پاکستان کی وساطت سے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جن پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے انہیں نگاہ میں رکھتے ہوئے ٹرمپ امریکی عوام اور دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ "امریکی چھتری" تلے آبنائے ہرمز سے بحری تجارت بحال ہوسکتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب مگر اسے آبنائے ہرمز کی بندش کے خاتمے کا کریڈٹ دینے کو رضا مند ہونہیں سکتے۔ ان کے لئے بھی اپنے عوام اور دنیا کو یہ دکھانا لازمی ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز تو کیا ایک عام کشتی بھی پاسدارانِ انقلاب کی اجازت کے بغیر گزر نہیں سکتی۔

آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت کی بحالی کے لئے لازمی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دونوں کا بھرم رکھنے کیلئے کوئی سمجھوتہ باقاعدہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا نظر آئے۔ میرے دل خوش فہم کو امید ہے کہ "امریکی چھتری" والی بڑھک ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لئے لگائی گئی ہے۔ عقل کا غلام ذہن مگر اندیشہ ہائے دور دراز میں پیر کا دن چڑھتے ہی مبتلا ہوگیا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais