Thursday, 14 May 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. America, Iran Muzakrat, Pakistan Salis Nahi, Sahulat Kar Hai

America, Iran Muzakrat, Pakistan Salis Nahi, Sahulat Kar Hai

ایران کی امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور اس کے بعد دیرپا امن کے لئے مذاکرات کی بات چلی تو میں بارہا دہرانا شروع ہوگیا کہ پاکستان مذکورہ عمل کا سہولت کا ر ہے ثالث نہیں۔ بے شمار دوستوں کو ثالثی اور سہولت کاری کے مابین فرق رکھنے کی فریاد پسند نہ آئی۔ حب الوطنی کے چند خود ساختہ اجارہ داروں نے بلکہ الزام لگایا کہ دو ٹکے کا یہ صحافی مادرِ وطن کو "ثالث" کے لئے مختص تکریم ملنے سے خوش نہیں۔ اسے "سہولت کار" کی سطح پر "گرا" رہا ہے۔ دل خوش فہم محض امید ہی باندھ سکتا ہے کہ گزشتہ دو دنوں سے امریکہ کے طاقتور نشریاتی ادارے سی بی ایس (CBS)کی جانب سے پاکستان کو جس انداز میں رپورٹ کیا جارہا ہے اس سے آگہی کی بدولت دوست جان چکے ہوں گے کہ میں اپنے ملک کو ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر "ثالثی" کی "ذمہ داری" سے کیوں بچانا چاہ رہا تھا۔

متحارب فریقین کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے لازمی ہے کہ آپ انہیں معقول شرائط تسلیم کرنے کو رضا مند کرنے کے لئے بوقت ضرورت تھوڑی تڑی بھی لگاسکیں۔ "ثالثی" ایک نوعیت کی "چودھراہٹ" ہے اور پنچائت کے سرپنج چودھری کو صلح کی معقول شرائط نہ ماننے والے کا حقہ پانی بند کرنے کا اختیار میسر ہوتا ہے۔

مسلم اُمہ کا واحد ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان بے تحاشہ آبادی کا حامل ایک غریب اور مقروض ملک ہے۔ امریکہ دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار ہے۔ آئی ایم ایف جیسے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہمیں دیوالیہ سے بچانے کے لئے اس کے اشارے کا انتظار کرتے ہیں۔ ایران ایک قدیم تہذیب اورسلطنت کا وارث ہونے کے علاوہ تیل اور گیس کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ فروری 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ دنیا بھر کی جانب سے لگائی اقتصادی پابندیوں کے باوجود وقار سے زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا ہے۔ بطور "ثالث" امریکہ یا ایران کو بوقت ضرورت "بندے داپتر" بننے کو مجبور کرنے کے لئے پاکستان کے پلے کچھ نہیں۔ اسی باعث "ثالث" کہلوانے سے گریز کو ترجیح دینا ضروری سمجھا تھا۔

پاکستان کو بطور "ثالث" ابھرتا دیکھ کر ہمارے ازلی دشمن ہی نہیں چند برادرانِ یوسف جیسے "دوست" ممالک بھی ناخوش محسوس کررہے تھے۔ منتظر تھے کہ ایران-امریکہ مذاکرات ناکام ہوں تو ان میں ناقابل حل دِکھتی مشکلات کے حقیقی ذمہ داروں کا پتہ لگانے کے بجائے ہماری "ثالثی" پر سوال اٹھانے کی مہم شروع کردی جائے۔ پاکستان کو مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار ہی ٹھہرانے کی کوشش نہیں ہورہی۔ بے بنیاد اور بھونڈا الزام یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ پاکستان ایران کے جدید ترین جاسوسی آلات سے لیس ایک جنگی جہاز کو راولپنڈی میں "محفوظ مقام" فراہم کئے ہوئے ہے۔

ایران کے چند طیاروں کی راولپنڈی میں محفوظ پارکنگ کا الزام لگاتے ہوئے یہ حقیقت ڈھٹائی سے نظرانداز کی جارہی ہے کہ جن طیاروں کا ذکر ہے وہ جنگ بندی ہوجانے کے بعد ہماری سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔ "جاسوسی آلات سے لیس" طیارے کا حقیقی مقصد ایران کی قومی اسمبلی کے سپیکر اور وزیر خارجہ کے علاوہ امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کے لئے اسلام آباد آنے والے بھاری بھر کم ایرانی وفد کے سفر اور یہاں قیام کی حفاظت یقینی بنانا تھا۔ ایسا ہی اہتمام امریکہ کی جانب سے اپنے نائب صدر اور اس کے معاونین کے لئے بھی یقینی بنایا گیا تھا۔ مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہ پہنچا تو دوسرے دور کی یقینی کا تاثر برقرار رکھنے کیلئے ایران اور امریکہ نے اپنے وفود کو فضائی حصار کی حفاظت فراہم کرنے والے چند طیارے پاکستان ہی میں پارک رکھے۔ یہ سہولت فقط ایران کے لئے مختص نہیں تھی۔

امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا۔ دونوں کے وفود مزید مشاورت کے لئے اپنے وطن لوٹ گئے۔ دریں اثناء دوسرے دور کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے پاکستان کی وساطت سے پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ بے قرار تھا کہ بدھ کے روز چین پہنچنے سے قبل وہ ایران کے ساتھ اپنی ترجیح کا معاہدہ حاصل کرلے۔ چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران یہ تاثر اجاگر کرے کہ اس نے ایران جیسے سخت گیر ملک کوبھی اپنے تھلے لگالیا ہے۔ ہزاروں برس پرانی سفارتی چالوں کے وارث ہوتے ہوئے ایران ٹرمپ کو وہ پتے فراہم کرنے سے گریز کرتا رہا جو اسے چین جانے سے قبل درکار تھے۔

اپنی پسند کا معاہدہ نہ حاصل کرنے کی وجہ سے ٹرمپ بہت تلملایا ہوا ہے۔ اس کے غصے اور مایوسی کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد اسرائیل نواز معاونین کی موثر تعداد نے یکسو ہوکر یہ تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان نے بطور "ثالث" غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کیا۔ امریکہ کو بلکہ ایران کی منشاء کے مطابق جھکانے کی کوشش کی۔ پاکستان کو موردالزام ٹھہرانے کے لئے مگر سنسنی خیز "خبر" بھی درکار تھی۔ امریکہ کا مو￿†ر نشریاتی ادارہ سی بی ایس اس کے لئے استعمال ہوا۔

سی بی ایس گزشتہ کئی دہائیوں سے کامیاب اورمشہور ترین فلمیں بنانے والے ایک ادارے کا ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ وہ عموماََ ری پبلکن جماعت کا مخالف تصور ہوتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اسے اکثر "فیک نیوز" پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ حالیہ صدارتی انتخاب سے قبل سی بی ایس نے ڈیموکریٹ پارٹی کی کملاہیرس کا ایک طویل انٹرویو کیا تھا۔ ٹرمپ مصررہا کہ مذکورہ انٹرویو کے کئی حصے اس کی مخالف امیدوار کو متاثر کن خیالات کی حامل ٹھہرانے کا تاثر پھیلانے کے لئے سکرین پر دکھائے نہیں گئے۔

کملا کا انٹرویو جس انداز میں ایڈٹ ہوا تھا اسے ٹرمپ نے صحافتی دیانتداری پکارا اور سی بی ایس کو اپنے خلاف سازش کا مجرم ٹھہراتے ہوئے بھاری بھر کم جرمانے کا نوٹس بھیج دیا۔ وہ صدر منتخب ہوگیا تو سی بی ایس نے میرٹ کی بنیادپر عدالتوں میں اپنا دفاع کرنے کے بجائے ٹرمپ کو ایک کروڑ 60لاکھ ڈالر ادا کرنے کے بعد راضی کرلیا۔ ٹرمپ اس کے باوجود معاف کرنے کو آمادہ نہیں ہوا۔ اپنے ایک امیر ترین دوست کو جو اسرائیل کا کٹر اور فیاض حمایتی بھی ہے سی بی ایس خریدنے کا مشن سونپ دیا۔ اس اجارہ دار سیٹھ نے سی بی ایس کے فیصلہ کن حصص خرید کر اپنے بیٹے کو سی بی ایس کا سربراہ تعینات کردیا ہے۔ سی بی ایس سے رات گئے مزاحیہ کمنٹری کرنے والے سٹیفن کولبرٹ کوبھی رواں مہینے میں "ٹرمپ دشمنی" کی وجہ سے فارغ کردیا جائے گا۔

پاکستان کے خلاف بے پرکی کی خبر نشر کرنے سے پہلے سی بی ایس نے اسرائیلی وزیر اعظم کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس کے دوران نیتن یاہونے نہایت ڈھٹائی سے الزام لگایا کہ پاکستان کے چند "تہہ خانوں " میں قائم ادارے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر اسرائیل کے خلاف جھوٹی اور منفی خبریں پھیلاتے ہوئے امریکی عوام کی اکثریت کو صیہونی انتہاپسندوں کا مخالف بنارہے ہیں۔ لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستان کو اس نے اسرائیل کے خلاف ابلاغی جنگ کا کلیدی کماندار ٹھہرادیا۔

نیتن یاہوکے منہ سے پاکستان کو اسرائیل مخالف جنگ کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد سی بی ایس کی ایک رپورٹر نے کہانی لکھی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بہانے ایران کے چند جنگی طیارے پاکستان آئے۔ ان میں سے جدید ترین جاسوسی آلات سے لیس ایک طیارہ ابھی بھی راولپنڈی میں کھڑا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے دی منطقی وضاحت کے باوجود کہانی یہ پھیلائی گئی کہ پاکستان ایران کے "حساس" طیاروں کو امریکہ کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کے لئے اپنے ہاں پناہ دئے ہوئے ہے۔

جو کہانی گھڑی گئی اسے اسرائیل کا ایک دائمی چمچہ -سینیٹر لینڈسی گراہم- مستقل اچھالے جارہا ہے۔ امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی میں منگل کے روز وہ اسی کہانی کی بنیاد پر امریکی وزیر جنگ کی موجودگی میں کیمروں کے روبرو بڑبڑاتا بھی رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ مگر ابھی تک پاکستان کے کردار سے مطمئن ہونے کا تاثر دیتے ہوئے اسے سراہا رہا ہے۔ اس کو گھیرے میں لئے کئی معاونین مگر سرگوشیوں میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکائے چلے جارہے ہیں۔

ایران پر اپنے تئیں جنگ مسلط کرنے کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو کچھ حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ ایران بھی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں۔ سنجیدہ مبصرین کو خدشہ ہے کہ چین سے واپسی کے بعد ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا ایک اور رائونڈ لگانا چاہے گا۔ وہ رائونڈ لگا تو ایران بھی ہماری "ثالثی" پر چند سوالات اٹھانے کو مجبور ہوگا۔ نہایت سوچ بچار کے ساتھ طے کی حکمت عملی کے ذریعے ہمیں "ثالث" کی "پگ" اتار کر محض سہولت کار رہنے پر اصرار کرنا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais