Wednesday, 04 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. America Ko Iran Mein Maduro Jesa Janasheen Nahi Mil Sakta

America Ko Iran Mein Maduro Jesa Janasheen Nahi Mil Sakta

دفاعی امور کے حوالے سے بارہا دہرایا ایک اصول ہے۔ یہ متنبہ کرتا ہے کہ برسوں کی مشق کی بدولت تیار کئے منصوبے میدانِ جنگ میں پہلی گولی چلتے ہی عمل کے قابل نہیں رہتے۔ ایران کے روحانی رہ نما علی خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل میری ناقص رائے میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اب ایسا ہی محسوس کررہے ہیں۔

اسرائیل کے جاسوسی اداروں کی ایران کے حساس ترین اداروں تک رسائی تو چند برس قبل اس وقت ہی ثابت ہوگئی تھی جب حماس کے بانیوں میں سے ایک اہم ترین رہ نما کو دورہ تہران کے دوران وہاں کے فوجی علاقے میں قائم ایک "محفوظ ترین" عمارت میں نہایت سرعت ومہارت سے شہید کردیا گیا تھا۔ سی آئی اے بھی کئی دہائیوں سے ایران پر کڑی نگاہ ر کھے ہوئے ہے۔ معلومات تک رسائی ہی مگر جنگوں میں حتمی کردار کی حامل نہیں ہوتی۔

افغانستان پر دو دہائیوں تک قابض رہنے کے باوجود امریکہ وہاں کی اجتماعی نفسیات کو گرفت میں نہ لاسکا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت تیار کئے ہتھیاروں اور اربوں ڈالر کے زیاں کے با وجود بالآخر اس کی افواج کو وہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکلنا پڑا۔ ایران کے حوالے سے بھی معاملہ فقط حساس اداروں اور مقامات یا فیصلہ سازی کے عمل میں کلیدی شمار ہوتی شخصیات تک رسائی پر محدود نہ تھا۔ ایرانی ثقافت اور اجتماعی یادداشت کا معروضی تجزیہ بھی درکار تھا جسے رسائی کی رعونت میں نظرانداز کردیا گیا۔

محض ایک رپورٹر ہوتے ہوئے اس کالم میں یہ عرض گزارنے کی کوشش کی تھی کہ ایران وینزویلا نہیں ہے۔ وہاں کے حتمی فیصلہ ساز منتخب صدر اور پارلیمان نہیں بلکہ رہبر وروحانی رہ نما ہوتے ہیں۔ ایران کے روحانی رہ نما مگر نصابی کتب میں سمجھائے "آمروں " سے قطعی مختلف ہوتے ہیں۔ "آیت اللہ" کے منصب تک پہنچنے کے لئے روحانی رہ نما منتخب ہونے سے قبل علی خامنہ ای کو تعلیم وتربیت کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد فیصلہ سازی کے لئے فی الوقت تین شخصیات پر مشتمل ایک فیصلہ ساز کونسل تشکیل دی گئی ہے۔

ایرانی صدر کے علاوہ مذکورہ کونسل میں عدلیہ کی نمائندگی کے ساتھ مذہبی اداروں سے آیت اللہ علی رضا نامزد ہوئے ہیں۔ وہ ایران کے شہر یزدسے 11سال کی عمر میں قم تشریف لائے تھے اور برسوں کی تعلیم وتربیت کے بعد ایک طالب علم سے "آیت اللہ" کے مقام تک پہنچے۔ پورے ایران میں مساجد سے منسلک مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ شاہ ایران کے دنوں میں بھی وہ حکومتی مدد کے محتاج نہیں تھے۔ بازار سے "خمس" کی مد میں جمع ہوئی رقوم مدرسوں کے اس جال کو معاشی خودمختاری فراہم کرتی ہیں۔ ملک بھر میں پھیلے اور مدارج کی بے شمار پرتوں پر مبنی اس نظام سے ابھرے ایک رہ نما کو بزورقوت ہٹانے کے بعد بھی حتمی فیصلہ سازی کا اختیار روحانی رہ نما کے جانشین کو ازخود منتقل ہوجاتا ہے اور جانشین کا انتخاب بھی آئین میں واضح طورپر بیان کئے نظام کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔

وینزویلا کا صدر مادورو ایک نصابی آمر تھا۔ امریکہ نے اسے بیوی سمیت اغواء کرلیا تو اس کی جگہ اس کی جماعت ہی سے ابھری نائب صدر امریکی اطاعت میں اپنے ملک کا نظام سنبھالے ہوئے ہے۔ ایران کے مذہبی بندوبست میں سے ایسے جانشین کی توقع خام خیالی تھی۔ مذہبی بنیادوں پر اٹھائے ڈھانچے کے برعکس ایران کی "سیاسی" قیادت معاملات سنبھال سکتی تھی۔ ایسا مگر اسی صورت ممکن ہوتا اگر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی عوام "آزادی" کے جذبات سے مغلوب ہوئے سڑکوں پر نکل آتے۔ ایران میں رائج حکومتی بندوبست کے شدید ترین مخالف بھی امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحانہ کارروائی کے ذریعے علی خامنہ ای کی شہادت کے بارے میں حیران وششدر محسوس کررہے ہیں۔

سڑکوں پر بھاری اجتماع کی صورت فقط سوگواران نمودار ہوئے جن میں گھریلو خواتین کی تعداد متاثر کن تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں نے معمولات زندگی معطل کررکھے ہیں۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد چالیس روز کے سوگ نے انہیں مزید جامد کردیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایران میں مذہبی، سیاسی اور عسکری قیادت پر مبنی فیصلہ کن تکون میں سے کوئی ایک شخصیت آگے بڑھ کر امریکہ اور اسرائیل سے "رحم کی بھیک"مانگتی نظر آئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد طاقت کے جو بنیادی ستون تعمیر ہوئے ہیں ان میں شخصیات نہیں ڈھانچے جسے انگریزی میں سسٹم کہا جاسکتا ہے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ ڈھانچے فی ا لحال ایرانی عوام کے ہاتھوں مسمار ہونہیں سکتے۔ امریکہ اور اسرائیل کو لہٰذا فضائی حملے جاری رکھنا ہوں گے۔ ان کے نتیجے میں جو تباہی اور بربادی پھیل رہی ہے وہ طویل المدتی بنیادوں پر ایرانی عوام کے دلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نفرت کو مزید گہراکرے گی۔

افغانستان اور عراق میں "رجیم چینج" کے لئے ا مریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان ممالک میں روزمرہّ زندگی کو رواں رکھنے کے لئے اپنی افواج اتارنا پڑی تھیں۔ ان کی نگہبانی میں وہاں عبوری حکومتوں کے بعد "منتخب" حکومتوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔ "انتخاب" کی بدولت قائم ہوئے حکومتی ڈھانچے مگر امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ عراق سے دورِ حاضر کی متشدد ترین "دانش" ابھری۔ کرد علاقوں نے کامل خودمختاری حاصل کرلی۔ افغانستان میں فقط طالبان ہی فاتح بن کر لوٹے۔

ایران میں بھی فوجیں اتارے بغیر امریکہ اور اسرائیل وہاں 47سال سے قائم حکومتی ڈھانچے سے نجات حاصل نہیں کرسکتے۔ اسی باعث اسرائیل کئی برسوں سے یہ سوچ رہا ہے کہ ایران کو اس کی موجودہ جغرافیائی حدود پر مشتمل متحد ملک کی صورت برقرار رہنے نہ دیا جائے۔ کرد علیحدگی پسندوں کے علاوہ بلوچستان کی "جداگانہ قومی شناخت" اجاگر کرنے پر بھی کام ہورہا ہے۔ آذربائیجان کو اُکسایا جاسکتا ہے کہ وہ آذری بولنے والے علاقوں کو اپنا حصہ بناکر "عظیم تر آذربائیجان" کے قیام کی بابت سوچے۔ جو منصوبے بنائے گئے ہیں انہیں عملی صورت دینے کے لئے بہت وقت درکار ہے۔ ایران کو لہٰذا اس کی اجتماعی یادداشت کے علاوہ مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہوئے ڈھانچوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کامل خلفشار وابتری کے سپرد کردیا گیا ہے۔

ایران پر مسلط کیا خلفشار مگر اس ملک تک ہی محدود نہیں رہا۔ ایران کے عسکری ڈھانچے اپنی قیادت کے قتل کئے جانے کے باوجود پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق اسرائیل اور ہمسایہ ممالک کو میزائلوں کی ز د میں رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی بقاء کے خدشے میں تقریباََ "خودکش" ہوئے پوری دنیا کو معاشی بحران کی نذر کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کی جانب سے اٹھائے اقدامات کا فوری اثر تیل کی قیمت میں نمایاں ہورہا ہے۔

امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار کے حوالے سے کسی اور ملک کا محتاج نہ ہونے کے باوجود اپنے شہریوں کو پٹرول کا ایک گیلن اب 3ڈالر میں فراہم کرنا شروع ہوگیا ہے۔ آسمان کو چھوتی تیل کی قیمت پاکستان جیسے ممالک پر مہنگائی کے جو عذاب نازل کریں گی ان کے بارے میں سوچتے ہوئے ذہن مفلوج ہوجاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران ہی نہیں دنیا کے اکثریتی ممالک کو بھی معاشی بحران کے الاؤ میں جھونک دیا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais