یہ کالم جمعرات کی صبح چھپے گا۔ اس کے چھپ جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکی صدر نے فیصلہ کرنا ہے کہ ایران پر فضائی حملوں میں جو وقفہ آیا اس میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔ مصر سے فلپائن تک پھیلے خلیجی ممالک کے بعد ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ مشرقی ایشیاء میں کروڑوں عوام کے اطمینان کے لئے ضروری ہے کہ کامل جنگ بندی اگر ممکن نہیں تب بھی مذکورہ وقفے میں اضافے کا اعلان ہو۔ علاوہ ازیں ایران بھی ان ممالک کے لئے تیل لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت فراہم کرتا رہے۔ ان دوخوہشات کو عملی شکل دینا تاہم میرے اور آپ کے بس کی بات نہیں۔ ربّ کریم سے فقط فریاد ہی کرسکتے ہیں۔
صحافی ٹھوس معلومات کے فقدان سے مجبور ہوکر ربّ کریم سے دعا مانگتے ہوئے درحقیقت اپنی محدودات کے اعتراف سے گھبراتے ہیں۔ ٹھوس معلومات میسر نہ ہوں تو "حق گوئی" کے ذریعے ایمان کی حرارت بھڑکانا شروع ہوجاتے ہیں۔ اپنی ٹانگ اونچی دکھانے کے جنون میں ایسی "حق گوئی" سے میں گھبراتا ہوں۔ یہ "حق گوئی" قارئین وناظرین کے دلوں میں نسلوں سے جمع ہوئے تعصبات کو درست ثابت کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ شیئرز اور لائیکس کے حصول کی ہوس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس سے گریز ہی میں عافیت ہے۔
بے تحاشہ آبادی کے حامل ایک غریب اور مقروض ملک کے صحافی اردو میں لکھے کالموں کے ذریعے کروڑوں انسانوں کے مقدر کا فیصلہ کرنے والوں پر اثرانداز ہو نہیں سکتے۔ معدودے چند نشریاتی اور اشاعتی ادارے اس ضمن میں تقریباََ اجارہ داری کے حامل ہیں۔ سازشی کہانیوں سے فطری نفرت کے باوجود بے تحاشہ ذاتی تجربات کی بدولت یہ لکھنے کو مجبور ہوں کہ ابلاغ کے ہنراور ذرائع پر کامل گرفت نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اپنی ترجیح کا بیانیہ فروغ دینے کے حوالے سے اجارہ دار بنادیا ہے۔ نام نہاد عالم اسلام بے پناہ وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ابلاغ کے دھندے پر صیہونی ذہن سازوں کا اجارہ توڑنے میں شرمناک حد تک ناکام رہا ہے۔
گزرے پیر کی شام امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں لوٹنے سے روکنے کے لئے اس نے 48گھنٹوں کی جس مہلت کا اعلان کیا تھا اس کی مدت میں پانچ دنوں کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ تفصیلات بتائے بغیر ایران کو دی مہلت میں توسیع کا سبب اس نے ایران کے ساتھ جاری رابطوں کو ٹھہرایا۔ اس اعلان کے بعد صحافیانہ تجسس کی آڑ میں عالمی سیٹھوں کے لئے بائبل شمار ہوتے "فنانشل ٹائمز" نے خبردی کہ امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ روابط پاکستان کے توسط سے ہورہے ہیں۔ پاکستان کے ذ کرنے ہمارے کئی ازلی دشمنوں کو پریشان کردیا۔ وہ "دال میں کالے" کی تلاش کو ڈٹ گئے۔
دریں اثناء "اندر کی چوندی چوندی"خبریں دینے کے حوالے سے مشہور اور واشنگٹن میں تعینات ایک اسرائیلی صحافی متحرک ہوگیا۔ بارک راود (Barak Ravid)اس کا نا م ہے۔ صحافت کا شعبہ اختیار کرنے سے قبل مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے حوالے سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوگیا۔ فوجی ملازمت کے دس سے زیادہ برس اس نے اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے لئے کام کیا۔ نظر بظاہر صحافت کا شعبہ اس نے فوج سے ریٹائرہوکر اختیار کیا ہے۔ اس کے ماضی کو مگر نظرانداز کیا نہیں جاسکتا۔ ان دنوں وہ انٹرنیٹ کے لئے مختصر الفاظ میں "تازہ ترین" خبریں دینے والی ایک نیوز ایجنسی کے لئے کام کرتا ہے۔ Axiosاس خبررساں ادارے کا نام ہے۔ امریکی صدر کے علاوہ وہاں کے اہم ترین وزراء اور فیصلہ سازوں سے جب چاہے فون پر رابطہ کرسکتا ہے۔ امریکہ کے کلیدی اداروں کی سوچ جاننے کے لئے اس کی دی خبروں کو نہایت توجہ سے دیکھنا لازمی ہے۔
بارک راود نے سب سے پہلے یہ حیران کن خبر دی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں ایران کے نمائندوں سے مذاکرات کرسکتا ہے۔ جے ڈی وینس کے نام نے چونکا دیا۔ ایران کے ساتھ ٹرمپ اب تک اپنے داماد جیرڈکشنر اور دیرینہ دوست وکاروباری شراکت دار سٹیوویٹکوف کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ کشنر اور ویٹکوف ہی نے اسے ایران کی "ہٹ دھرمی" سے آگاہ کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کا ساتھ دینے کو مجبور کیا۔
جے ڈی وینس بنیادی طورپر ناول نگار تھا۔ اس کا ایک ناول ان کروڑوں امریکی خاندانوں کا المیہ بیان کرتا ہے جو نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث مسلسل بے ر وزگار ہیں۔ بڑے شہروں سے دور اشرافیہ کی جانب سے نظرانداز کئے قصبات میں محصور ہوئے مشکلات سے بھرپورزندگی گزاررہے ہیں۔ اس کے ناول کو فلمایا گیا تو وینس امریکہ کے تقریباََ ہر گھر میں مشہور ہوگیا۔ چین کو وہ امریکہ کا اصل دشمن سمجھتا ہے۔
اس کا خیال ہے کہ امریکی صنعت کاروں نے اپنے ممالک میں سرمایہ کاری کی بجائے چین میں سستی جرارت کے لالچ میں کارخانے لگاکر اقتصادی اعتبار سے امریکہ کو کمزور بنایا۔ اس سوچ کی بنائپر وہ ٹرمپ کے ان حامیوں میں نمایاں ترین ہے جو میگا گروپ کہلاتے ہیں۔ اس گروہ کا بنیادی نعرہ ہے کہ امریکہ دو بارہ عظیم بنائو (Make America Great Again) لہٰذا Maga (میگا) امریکہ کودوبارہ عظیم بنانے کی خاطر یہ گروہ مصر ہے کہ ٹرمپ حکومت کو ماضی کی حکومتوں کی طرح "پرانی جنگوں " میں بھی ملوث ہونا نہیں چاہیے۔ افغانستان اور عراق پر فوجی قبضے کے بعد وہاں "جمہوری نظام"کا قیام بھی امریکہ کا دردِ سر نہیں تھا۔
مذکورہ سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میگا خیالات کے حامل افراد اسرائیل کوبھی تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بارک راود کی جانب سے پاکستان کے توسط سے امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ رابطوں کی خبردینے کا اصل مقصد درحقیقت اسرائیل اور اس کے دوستوں کو خبردار کرنا تھا کہ جیرڈ کشنر اور سٹیوویٹکوف اب ایران سے گفتگو نہیں کریں گے۔ یہ فریضہ میگا کے حامی جے ڈی وینس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ایران اور مریکہ کے مابین خفیہ ر وابط کو مشکوک بنانے کے ہنرِ ابلاغ کی مدد سے یوں خطرناک واردات ڈال دی گئی ہے۔ اس کا مقصد اس تاثر کو اجاگر کرنا ہے کہ ایران امریکہ سے مذاکرات کے لئے اپنی ترجیح کے نمائندوں کا انتخاب کررہا ہے۔ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک پر گویا اپنا حکم چلارہا ہے۔
بارک راود کی دی خبر کو بعدازاں سی این این نے اچک لیا۔ اپنی نشریات کے کئی گھنٹے یہ ثابت کرنے میں خرچ کردئے کہ ایران کے بندوبست حکومت پر "انتہا پسندوں" کے غلبے کی وجہ سے تہران مذاکرات پر رضا مندی کے اظہار سے ہچکچارہا ہے۔ منگل کی رات مگر یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوگیا کہ ایران کو "دوست ممالک" کے ذریعے امریکی پیغامات وصول ہورہے ہیں اور "پائیدار امن" کی خاطر ان کا جواب بھی فراہم کیا جارہا ہے۔
"ذہن سازی" کے گھنائونے عمل پر چھائے اسرائیل نواز میڈیا کی اولین ترجیح فی الوقت یہ ثابت کرنا ہے کہ "ایرانی دبائو، سے گھبراکر صدر ٹرمپ جیرڈ کشنر اور سٹیوویٹکوف کے بجائے جے ڈی وینس کو تہران کے نامزد کئے نمائندوں سے مذاکرات کیلئے پاکستان بھیجے گا۔ اسرائیل نواز ذہن سازوں کی چال مگر کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ٹرمپ اپنی سیاسی بقاء کے لئے ایران کے ساتھ مذاکرات کو مجبور ہے اور اسے خطے میں پائیدار امن یقینی بنانے کی خاطر قابل اعتبار لچک دکھانا ہوگی۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کی طوالت وگرنہ اس خطے ہی کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم کے لئے بھی تباہی وبربادی کا باعث ثابت ہوگی۔