Friday, 31 July 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Baat Nikal Kar Bohat Door Chali Gayi Hai

Baat Nikal Kar Bohat Door Chali Gayi Hai

اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنا کوئی ہمارے سیاستدانوں سے سیکھے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ ہمارے حساس ترین اور شہ رگ تصور ہوتے آزادکشمیر میں ایک تحریک جاری ہے۔ بے تحاشہ حوالوں سے واجب نظر آتی شکایتوں کی بنیاد پر چلی یہ تحریک بتدریج انتہا پسندی کی راہ پر چل نکلی۔ مذاکرات کے ذریعے کچھ لو کچھ دو کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے "تخت یا تختہ" کی ضد اپنائی تو کالعدم اور متشدد تنظیموں سے منسلک افراد اس کی صفوں میں گھس کر بالآخر ریاست کو للکارنے لگے۔

ریاستی رٹ بحال کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے فیصلہ یہ ہوا کہ آزادکشمیر میں انتخابات ہر صورت "بروقت" ہونگے۔ "بروقت انتخابات" کے لئے اپنائی ضد ان ہی سیاستدانوں نے اپنائی جو آئینِ پاکستان کی ان شقوں کو 2002ء کے بعد حقارت سے نظرانداز کرتے رہے تھے جو قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہوجانے کے بعد ہر صورت "نوے دنوں " میں نئے انتخابات کا تقاضہ کرتی ہیں۔ حساس اور شہ رگ کہلاتے آزادکشمیر میں جبکہ جائز وجوہات کی بنیادپر "بروقت" کی گردان بھلاتے ہوئے ریاستی رٹ کی بحالی پر توجہ مرکوز رکھنا درکار تھی۔

منتخب حکومت کی جستجو میں انتخابی عمل کو لیکن مرحلہ وار کروانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کا اعلان ہوتے ہی اس کالم میں یہ خاکساردہائی مچانا شروع ہوگیا کہ انتخابی عمل کو دہائیوں سے مشکوک تصور کرنے والی قوم مرحلہ وار انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے کے بجائے ان کی شفافیت پر سوال اٹھائے گی۔ میری بدقسمتی کہ انتخابی عمل کے پہلے مرحلے کے دوران میرپور ڈویڑن کے لئے مختص 13نشستوں پر ہوئی پولنگ کے دوران بے تحاشہ بے ضابطگیاں دیدہ دلیری سے سرزد ہوتی نظر آئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے ایک دیرینہ اور قدآور رہنما ہیں۔ نام ہے ان کا چودھری یٰسین۔ میرا ان سے محض دو مرتبہ چند سماجی تقاریب میں سرسری تعارف اور ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ آزادکشمیر کی سیاست پر نگاہ رکھنے والے تمام ساتھی مگر ان کی سیاست سے ہزاروں اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے بھی مجھے سمجھاتے رہے کہ وہ اپنے آبائی شہر کوٹلی اور اس کے مضافاتی قصبوں میں بہت مقبول ہیں۔ برادری اور دھڑے کے حوالے سے بھی بہت طاقتور مانے جاتے ہیں۔ آزادکشمیر کے لئے گزشتہ ہفتے منعقد ہوئے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران وہ دونشستوں سے امیدوار تھے۔ ان میں سے ایک حلقہ نسبتاََ "شہری" تھا۔

اس حلقے میں دیگرشہری حلقوں کی طرح ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب یا ٹرن آئوٹ روایت سے کہیں کم رہا۔ مذکورہ حلقے میں نسبتاََ کم ٹرن آئوٹ کے باوجود وہ یہ حلقہ جیت گئے۔ اپنے "آبائی" قصبے اور دیہات سے لیکن وہ ریکارڈ بناتے ٹرن آئوٹ کے باوجود حیران کن اکثریت سے ہارتے نظر آئے۔ دریں اثناء سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیوز کے ذریعے تصور یہ پھیلا کہ ان کے "دیہاتی" حلقے میں تقریباََ 30پولنگ اسٹیشن ان کے مخالفین کے کامل قبضے میں جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی حلقے کے ایک گھر میں بھی مبینہ طورپر مشکوک افراد بیلٹ پیپروں پر ٹھپے لگاتے ہوئے بکسے بھرتے نظر آئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیوز نے پیپلز پارٹی کو دھاندلی کی دہائی مچانے کو مجبور کردیا۔ دھاندلی کا واویلا مچانے والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مظفر آباد گئے۔ وہاں اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی مزاحمتی تاریخ کو جذباتی انداز میں یاد کیا۔ عہد باندھا کہ وہ میرپور کے "دھاندلی زدہ" نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔

قضیہ فقط میرپور ڈویڑن کے لئے مختص 13نشستوں کے نتائج پر سوالات اٹھانے تک ہی محدود رہتا تو شاید مجھے یہ کالم لکھنے کی ضروت ہی محسوس نہ ہوتی۔ بات نکل کر لیکن بہت دوو چلی گئی اور سندھ کے وزیر اطلاعات جناب شرجیل میمن کی جانب سے روزانہ ہوتی اور ملک بھر کے ٹی وی چینلوں کی سکرینوں پر برائہ راست دکھائی پریس کانفرنسوں کے ذریعے پیپلز پارٹی 2024ء کے فروری میں پاکستان میں ہوئے عام انتخابات پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی۔ وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت اب نام نہاد فارم 47کی پیداوار پکاری جارہی ہے۔

میرپور کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بتدریج فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر بتاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کی ہر حوالے سے ساجھے دار پیپلز پرٹی اب 2024ء کے انتخابی عمل کو مشکوک بنارہی ہے۔

اس کے سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنے کے بجائے مسلم لیگ (نون) بھی پیپلز پارٹی کو "رونے دھونے" کے طعنے دے رہی ہے۔ ابتداََ وسوسوں بھرے دلوں کے مالک عوام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان جاری لفظی گولہ باری کو اس تحریک سے توجہ ہٹانے کی چال تصور کرتی رہی جس نے کئی ہفتوں سے آزادکشمیر کے معمولات زندگی کو مفلوج بنارکھا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے مگر اس جنگ کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ دیکھنا ہوگا اس کا انجام کیا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui