Wednesday, 09 September 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Dharno Kemuqabil Riyasat Ki Khaal Moti Hone Ka Paigham

Dharno Kemuqabil Riyasat Ki Khaal Moti Hone Ka Paigham

پیر کی رات سونے سے قبل تازہ ترین خبروں کے لئے سوشل میڈیا کے کوچے میں گھوم رہا تھا تو نیند کے جھونکوں نے مضمحل بنادیا۔ لیپ ٹاپ بند کرنے ہی والا تھا تو حکومت کے جاری کردہ ایک نو ٹی فکیشن پر نظر پڑ گئی۔ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے اضافے کا اعلان تھا۔ اسے دیکھتے ہی نیند کیا ہوش ہی اڑ گئے۔ گزرے ہفتے کے آخری دنوں سے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لئے مطلوبہ دستاویز جمع کررہا تھا۔ انہیں دیکھ کر جھٹکا لگا۔

آمدنی ہرگز نہیں بڑھی تھی۔ گھریلو اخراجات میں اضافے کے علاو ہ طبی مسائل سے جڑے خرچے عزت سے مرنے کے لئے بچائی رقم میں بھی نقب لگانا شروع ہوچکے تھے۔ غیر یقینی مستقبل کے خوف کے باوجود مجرموں کی طرح ایسی دستاویز جمع کرنے میں مصروف رہا جو حاکموں کو یقین دلائے کہ میں اپنی آمدنی پر واجب ٹیکس باقاعدگی سے ادا کررہا ہوں۔ انہیں جمع کرتے ہوئے مستقل یہ خیال آتا ہے کہ عمر کے جس حصے میں داخل ہوچکا ہوں وہاں برسوں سے ٹیکس گزار ہوتے ہوئے چند سہولتوں کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ کوئی ایک بھی لیکن میسر نہیں۔

تین دن قبل بین الاقوامی طورپر مستند مانی ایک ریسرچ کمپنی کی تحقیق نظرسے گزری تھی۔ اس کے مطابق سات پاکستانیوں میں سے فقط ایک فرد ملکی معیشت کے بارے میں مطمئن محسوس کررہا ہے۔ فقط چار ماہ قبل چارمیں سے ایک شخص پرامید بتایا گیا تھا۔ چار مہینوں میں مستحکم معیشت کی امید کم کرنے کی وجوہات میں سرفہرست ایران اور امریکہ کی جنگ بتائی گئی۔ اس کی وجہ سے ہمارے ہاں درآمد ہوئے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا تو روزمرہ ضرورت کی اشیاء￿ کے نرخ بھی بڑھ گئے۔ افراطِ زر میں مزید اضافے کی ایک اہم وجہ بجلی کی قیمتیں بھی ہیں جو پٹرول کے بحران کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

پٹرول کی قیمت میں یکمشت تیرہ روپے کو چھوتے اضافے کا اعلان پڑھتے ہی خیال آیا کہ سوشل میڈیا پر عوام کی اکثریت حکومت کو برا بھلا کہنا شروع ہوگئی ہوگی۔ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو ایکس سے رجوع کیا۔ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ لوگوں کی اکثریت حکومت کو پیر کی رات ہوئے اضافے کا ذمہ دار ٹھہراکر برا بھلا کہنے کے بجائے جماعت اسلامی کے نسبتاََ جواں سال امیر حافظ نعیم الرحمن کا تمسخراڑارہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے جماعت اسلامی کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی ناقابل برداشت قیمتوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔ حافظ صاحب اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ حکومت اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر لیوی کے نام سے جان لیوا "بھتہ" وصول کرنا چھوڑدے تو عوام کے لئے آسانیاں فراہم ہوسکتی ہیں۔

لیوی مگر حکومت کو امراء پر واجب ٹیکسوں کے حصول میں ناکامی کے بعد اپنے خرچے پورے کرنے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود وزراء کا ایک وفد حافظ نعیم الرحمن اور ان کے سا تھیوں سے ملا۔ ملاقات کے دوران جماعت اسلامی کی جانب سے لیوی سے نجات حاصل کرنے کا ایک فارمولہ پیش کرنے کا دعویٰ ہوا۔ رعایا کو مذکورہ فارمولے سے غافل رکھا گیا ہے۔ شنید ہے کہ مذکورہ فارمولے پر غور کے لئے حکومت نے تین روز کی مہلت مانگی۔ "مہلت" ملنے کے چند ہی گھنٹوں بعد 13روپے کو چھوتے اضافے کا اعلان کردیا گیا۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ حکومت جماعت اسلامی کے احتجاج سے خائف نہیں۔ اسے معمول کا رونا پیٹنا تصور کرتے ہوئے نظرانداز کررہی ہے۔ لوگ حکومت کو کوسنے کے بجائے جماعت اسلامی کا تمسخراڑانے میں مصروف ہیں۔

جماعت اسلامی کو دیے طعنے مگر وسیع تر تناظر میں رعایا کی بے بسی کا دل دہلا دینے والا اعتراف ہیں۔ انتہائی واجب وجوہات کے باوجود عوامی احتجاج کی محدودات بے نقاب کررہے ہیں۔ پیغام یہ مل رہا ہے کہ ریاست کی کھال موٹی ہے۔ دھرنے اسے جھکا نہیں سکتے۔ عوام کو اس کا ہر فیصلہ فدویانہ انداز میں قبول کرنا ہوگا۔

اسرائیل اور امریکہ نے رواں برس کے مارچ کا آغازہوتے ہی انتہائی ناقص اور احمقانہ حکمت عملی کے ساتھ ایران پر جس حملے کا آغاز کیا اس نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز جیسی اہم راہداری کا تقریباََاجارہ دار بنادیا ہے۔ خلیجی ممالک سے بیرون ملک بھجوایا تیل مذکورہ آبنائے سے گزرکر پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء سے جنوب مشرقی ایشیاء کے کئی ممالک تک پہنچتا ہے۔ دنیا کی طاقتور ترین بحری قوت ہونے کے باوجود امریکہ اس راہداری سے آئی تجارت کی حفاظت یقینی نہیں بناسکا۔ چند برادر ممالک کی مدد سے پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ بنائی تھی۔ دونوں کے درمیان بالآخر ایک معاہدہ بھی ہوا۔ اس پر عملدرآمد مگر نہیں ہوپایا۔

ایران کے انتہاپسند حلقے پراعتماد ہیں کہ آبنائے ہرمز کو ایران کے کامل کنٹرول سے آزاد کروانے کے لئے جس نوعیت کی جنگ درکار ہے ٹرمپ اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کی کمزوری کا ٹھنڈے مزاج سے جائزہ لیتے ہوئے امریکہ کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے وسط مدتی انتخاب کا تہران کے انتہا پسند بے تابی سے انتظار کررہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ کی جماعت مذکورہ انتخابات کے دوران بدترین شکست کا سامنا کرے گی۔ اس کی ممکنہ شکست کو مزید ذلت آمیز بنانے کے لئے پاسدارانِ انقلاب شطرنج کے ماہر کھلاڑیوں کی طرح ستمبر کے آغاز سے ان دیوہیکل تیل بردار جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کے تحفظ کا امریکہ نے وعدہ کررکھا ہوتا ہے۔ تیل کی ترسیل ناممکن بنانے کے علاوہ امریکہ کی چند فوجی تنصیبات کو خلیجی ممالک ہی میں نہیں بلکہ اردن جیسے دور دراز ممالک میں بھی نشانہ بناتے ہوئے امریکہ کو اشتعال دلایاجارہا ہے۔ نہایت ڈھٹائی سے تھوڑی بڑھک بازی کے بعد ٹرمپ صنعتی ذہانت کی مدد سے بنائے کارٹون دکھاتے ہوئے جی کو خوش رکھتا ہے۔ ایران کو بھرپور انداز میں جواب دینے کی ہمت سے محروم ہوا نظر آرہا ہے۔

امریکہ کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے تقریباََ بے بس دکھانے کے بعد یمن میں موجود حوثی ملیشیاء کوبھی ہلہ شیری دی جارہی ہے۔ یمن کے پانیوں میں باب المندب کے نام سے موجود راہداری آبنائے ہرمز کا متبادل ہوسکتی ہے۔ کم از کم سعودی عرب اپنا تیل اس راہداری کے ذریعے ہم جیسے ملکو ں کو باآسانی بھجواسکتا ہے۔ حوثی ملیشیاء نے مگر اب باب المندب سے گزرتے جہازوں پر ہی نہیں سعودی عرب میں تیل پیدا اور ذخیرہ کرنے والے علاقوں پر بھی میزائل اچھالنا شروع کردیے ہیں۔ ستمبر کے پہلے دس دنوں میں بنیادی طورپر خام تیل کی قیمت ایران نہیں بلکہ حوثی ملیشیاء کے حملوں کی وجہ سے بھی ناقابل برداشت ہورہی ہے۔ سفارتی مہارت سے یوں پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین حال ہی میں ہوئے "مکہ معاہدے" کو بے اثر دکھانے کے منصوبے کا آغاز ہوچکا ہے۔

ہماری معاشی بقاء کے لئے گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی صورتحال پر کامل توجہ مبذول کرنے کے بجائے پاکستان کا ریگولر اور سوشل میڈیا گزشتہ کئی دنوں سے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت کی بحث میں الجھا دیا گیا ہے۔ پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں 13روپے کے یکمشت اضافے کی خبر نئے انتظامی یونٹوں کی حمایت میں بھڑکائے شوروغوغا میں دب چکی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui