Friday, 11 September 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Dil o Dimagh Par Mayoosi Musallat Karne Walay Auham

Dil o Dimagh Par Mayoosi Musallat Karne Walay Auham

جمعرات کی صبح یہ کالم لکھنے کیلئے قلم اٹھاتے ہی خیال آیا کہ گزشتہ تین دنوں کی اوسط نکالیں تو سات روپے روزانہ کے حساب سے پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ تین دنوں میں 21روپے اضافے کے باوجود اعتماد سے لکھ نہیں سکتا کہ جمعہ کی صبح اٹھوں گا تومزید کتنا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ ہر مہینے کے لئے طے ہوئی آمدنی کا جائزہ لوں تو وہ اپنی جگہ ساکت ہے۔ اس میں ایک روپے اضافے کی بھی امید نہیں۔ میری آمدنی یوں مسلسل کم ہورہی ہے۔ اس سے روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پر واجب رقم ادا کرنے کے لئے بھی مجھے اب تک بچائی رقم میں سے کچھ نکالنا ہوگا۔ یوں مستقبل کے بارے میں مزید متفکر ہوجاؤں گا۔ صحافت میں پنشن کی گنجائش نہیں۔ کالم نگار ویسے بھی دیہاڑی دار ہوتا ہے۔ میرے منہ میں خاک۔ فشار خون اچانک بے قابو ہونے کی وجہ سے مفلوج ہوگیا تو دیہاڑی سے بھی جاتا رہوں گا۔

تین دنوں میں 21 روپے کے اضافی بوجھ کا جائزہ لیتے ہوئے صحافی کے لئے اپنی ذات کو نظرانداز کرتے ہوئے خلقِ خدا کی اکثریت کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں نچلے متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کی آمدنی پچاس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ بندھی ٹکی آمدنی والے گھرانوں کے عموماََ تین سے چار بچے بھی ہوتے ہیں۔ ٹھوس اعدادوشمار کی عدم موجودگی میں بآسانی دعویٰ کرسکتا ہوں کہ مذکورہ طبقے کی اکثریت کرائے کے مکانوں میں رہتی ہے۔ مکان کے کرائے کے علاوہ بجلی اور گیس کے بل بھی ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ان سب کی ادائیگی کے بعد بچوں کی تعلیم اور انہیں سکول پہنچانا اور گھر لے کر آنا بھی ضروری ہے۔ ان کی روزمرہ زندگی کا محدب عدسے سے جائزہ لینے کی کوشش کی تو دل لہو سے بھرگیا۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے مابین آبنائے ہرمز پر قبضے کی جنگ جاری رہی تو نچلے متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت خطِ غربت سے کہیں نیچے چلی جائے گی۔ ان کی جگہ درمیانی متوسط طبقے کے افراد آجائیں گے۔ بتدریج مگر نام نہاد سفید پوش متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت بھی غربت کی لکیر کو غچہ دینے کی تگ ودو میں مصروف رہے گی۔ ہمارے معاشرے میں یوں بالآخر انتہائی امیر اور انتہائی غریب طبقات ہی رہ جائیں گے۔

یہ بات لکھنے کے بعد خیال آیا کہ شاید میرا دماغ مایوس ہوکر مفلوج ہوچکا ہے۔ ہوسکتا ہے مالیخولیا کا مرض لاحق ہوچکا ہو۔ ہماری خلق خدا کا مستقبل اتنا ہی مایوس کن ہوتا تو 24/7ہمیں باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی سکرینوں پر گزشتہ کئی دنوں سے فقط یہ سوال ہی زیر بحث نہ ہوتا کہ پاکستان کے عوام کی زندگیوں میں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے چھوٹے صوبوں کی ضرورت ہے یانئے انتظامی یونٹ ہی مجرب نسخہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ریگولر میڈیا پر بک جانے کا الزام ہے۔ سوشل میڈیا اس کی جگہ حق وصداقت کا علم بردار تصور ہورہا ہے۔ اس پر چھائے ذہن سازوں کی گفتگو سنیں تو نہایت سنجیدگی سے اس امکان کو زیر بحث لایا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے واضح حکم کے باوجود شہباز حکومت نے بانی تحریک انصاف کو نجی شعبے میں چلائے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل نہ کرکے توہین عدالت کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔

ممکنہ توہین عدالت سے بچنے کے لئے سوشل میڈیا پرچھائے ذہن سازوں کی نگاہ میں حکومت نے اڈیالہ جیل میں قید تین "سزا یافتہ افراد" کو مبینہ طورپر یہ حقیقت اجاگر کرنے کے لئے "استعمال" کیا کہ قانون کی نگاہ میں جیل میں قید ہر سزا یافتہ شخص مساوی حقوق کا حامل ہے۔ عمران خان کو اگر طبی بنیادوں پر اپنی جیب سے ایک مہنگے ہسپتال سے علاج کروانے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے تو باقی سزا یافتہ قیدیوں کو بھی ایسی ہی سہولت سے محروم کیوں رکھا جائے۔ مذکورہ سوال "آئینی اہمیت" کا حامل بن چکا ہے۔ اسی باعث بہت چاؤسے بنائی وفاقی آئینی عدالت سے رجوع ہوا ہے۔ پاکستانی خبریں

شہباز حکومت کی توہینِ عدالت کی بدولت "فراغت" کی امید باندھنے کے علاوہ خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی "سٹریٹ موومنٹ" بھی ہیجانی انداز میں زیر بحث ہے۔ ستمبر کی 27 تاریخ کو مذکورہ تحریک کی بدولت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی توقع بھی باندھی جارہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول وڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں یوں ریگولر اور سوشل میڈیا کا درد سر نہیں۔ مذکورہ تناظر میں جمعرات کی صبح یہ کالم لکھنے کے لئے قلم اٹھاتے ہی جو خیالات میرے ذہن میں سیلاب کی طرح امڈے وہ مالیخولیا کے مرض میں مبتلا شخص کے دل ودماغ پر مایوسی مسلط کرنے والے اوہام محسوس ہوئے۔

صحافت کی انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد موت کا اعلان کرنے والے محققین مصر ہیں کہ دورِ حاضر میں قاری یا ناظر "خبر" جاننے کے لئے کسی زمانے میں صحافت کا ذریعہ تصور ہوتے ریگولر یا سوشل میڈیا کا رخ نہیں کرتے۔ انہیں حالات کا "غیر جانب دارانہ تجزیہ" بھی درکار نہیں۔ ان کے دل و دماغ میں ہر اہم مسئلے کا حل موجو د ہے۔ "صحافی" سے وہ فقط اپنے اذہان میں موجود تجزیوں کا اثبات (Validation) چاہتے ہیں۔ مذکورہ تناظر میں اپنی "صحافت" کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو فرسودہ اور بیکار محسوس کرتا ہوں۔ ڈھٹائی سے مگر لکھتا اور بولتا چلا جارہا ہوں۔ وجہ اس کی ٹھوس حقائق ہیں۔ ان حقائق کے نتائج سے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھتے ہی آنکھ بند کرکے محفوظ رہا نہیں جاسکتا۔

رواں برس کے مارچ میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے سے قبل آبنائے ہرمز سے تقریباََ 175جہاز روزانہ کی بنیاد پر خلیج میں داخل اور وہاں سے باہر آیا کرتے تھے۔ گزرے منگل کے دن مگر اسی آبنائے سے فقط چھ جہاز گزرے۔ ان میں سے 5خلیج میں داخل ہوئے اور وہاں سے صرف ایک جہاز کھلے سمندر میں آیا۔ سادہ ترین لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ منگل کے دن صرف ایک تیل یا گیس بردار جہاز خلیج کے کسی ملک سے بین الاقوامی سمندر میں داخل ہوا ہے۔ غالباََ اسی باعث منگل کی رات حکومت پاکستان نے پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں یکمشت 13روپے اضافے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز کے علاوہ باب المندب کے نام سے مشہور ہوئی ایک اور راہگزر بھی ہے۔ وہ اب حوثی ملیشیا کے اچھالے میزائلوں کانشانہ بن رہی ہے۔ خلیج ممالک کے جہاز اس راہگزر سے بحر ہند میں داخل ہوکر نہر سوئز کے ذریعے یورپ کے مختلف ممالک کو اپنا تیل، گیس اور کھاد وغیرہ فراہم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی حوثی حملوں کے باعث بندش یورپ کو سردیوں کی آمد کے ساتھ توانائی کے بحران کے خوف میں مبتلا کرے گی۔ جنگ کا دائرہ یوں پھیلتا چلا جارہا ہے۔ ہمارا ریگولر اور سوشل میڈیا لیکن اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ دو عالمی جنگوں کے بدترین آغاز سے قبل بھی شاید دنیا کے نام نہاد سوچنے سمجھنے والوں پر ایسی ہی بے حسی یا لاتعلقی مسلط رہی ہوگی۔ اودھ کے "بانکے" بھی تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلام بننے سے قبل مرغ لڑانے اور مشاعروں میں اپنی پسند کے شعرا کی داد وتحسین میں مصروف رہا کرتے تھے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui