Tuesday, 30 June 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Do Azali Dushmano Mein Dair Pa Aman Ki Bekar Talash

Do Azali Dushmano Mein Dair Pa Aman Ki Bekar Talash

میڈیا کے لئے لکھنے اور بولنے سے رزق کمانے والوں کو یہ دریافت کرنے میں بہت وقت لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کی بدولت آپ کے الفاظ کو ملے شیئرز اور لائیکس گمراہ کن جال ہیں۔ مقبولیت کی حرص میں آپ بتدریج لوگوں میں "مقبول" دِکھتے موضوعات تک محدود ہوجاتے ہیں۔ ان موضوعات پر لکھنا چھوڑ دیتے ہیں جو آپ کی دانست میں اہمیت کے حامل ہیں۔

بھارتی بنگال جغرافیائی ہی نہیں ذہنی اعتبار سے بھی ہمارے لئے ایک اجنبی خطہ ہے۔ حال ہی میں وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ مودی سرکار نے انہیں ہر نوع کی دھونس ودھاندلی استعمال کرتے ہوئے جیت لیا۔ دھاندلی ہم جیسے ممالک میں ہوئے انتخاب کے حوالے سے معمول تصور ہوتی ہے۔ بھارتی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں کے انتخابی حوالوں سے ڈھٹائی کے ساتھ بروئے کار لائے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنا میرے قارئین کی توجہ حاصل نہ کرپایا۔

میری بے ہنری کے علاوہ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ بھارتی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے میں یہ خدشہ اجاگر کرنے میں بھی ناکام رہا کہ بنگال کو فتح کرنے کے لئے مودی سرکار جو حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اس کا حتمی مقصد بھارت میں مقیم ہر مسلمان کو غدار قرار دیتے ہوئے دوسرے درجے کے شہری کے مقام تک دھکیلنا ہے۔ تعصب اور نفرت فقط بھارت میں مقیم مسلمانوں تک ہی محدود رہے تو شاید اسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ یورپ کے کئی ممالک خصوصاََ فرانس میں ان دنوں مسلم دشمن رویے عوامی سطح پر مقبول سے مقبول تر ہورہے ہیں۔ یہ رویے مگر وہاں کی حکومت نے سرکاری طورپر اپنانے سے اب تک گریز کیا ہے۔

فرانس کے برعکس مودی سرکار اپنی قوت واختیار نہایت وحشت کے ساتھ مسلمانوں کو اچھوت بنانے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہیں نشانہ بناتے ہوئے "فساد کی اصل جڑ" قیام پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ حتمی نشانہ میری ناقص رائے میں لہٰذا پاکستان ہے۔ ہم مگر مودی سرکار کی مسلمانوں سے نفرت کی شدت سے قطعاََ غافل ہیں۔ بھارتی بنگال کی انتخابی مہم پر توجہ مبذول رکھتے ہوئے درحقیقت اصرار کرنا چاہ رہا تھا کہ مذکورہ انتخابات وسیع تر حوالوں سے مودی سرکار کے اس دعویٰ کا عملی مظاہرہ تھے جو گزشتہ برس کے مئی میں پاکستان کے خلاف شروع ہوئے "آپریشن سندور" کے خاتمے کی نہیں بلکہ "تعطل" کی بات کرتاہے۔

مودی سرکار کی بھارتی بنگال کو جنونی لگن کے ذریعے فتح کرنے کی تفصیلات یاد رکھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر سرگوشیوں کے ذریعے یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپاامن کی تلاش کے لئے نام نہاد ٹریک-ٹو والی ملاقاتیں شروع کی جاچکی ہیں۔ اس تناظر میں آخری اجلاس چند روز قبل نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں ہوا۔ اس میں شرکت کرنے والوں کی جو فہرست سوشل میڈیا پر عیاں ہوئی ان میں تین ایسے نام بھی شامل تھے جن سے برسوں کی شناسائی ہے۔ ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے بھی لیکن تصدیق یا تردید کی خاطر میں نے ان سے رابطے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔

نام نہاد "پیپلز ٹو پیپلز" اور "سول سوسائٹی" کے نمائندوں کی باہمی ملاقاتوں کی بدولت جنوبی ایشیاء کے دوازلی دشمنوں کے مابین دیرپاامن کی تلاش کا سلسلہ 1980ء کی دہائی کے وسط سے شروع ہوا تھا۔ میں بھی اس ضمن میں سادہ لوح خلوص کے ساتھ چند تنظیموں میں ضرورت سے زیادہ متحرک رہا۔ اپنی پرخلوص کوششوں کی وجہ سے حب الوطنی کے خود ساختہ ٹھیکے داروں سے غداری کے طعنے سنے۔ بھارتی سرکار نے بھی ہمیشہ مشکوک تصور کیا۔ تین سے زیادہ مرتبہ مجھے پیشہ وارانہ فرائض ادا کرنے کے لئے ویزے کے حصول میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خفیہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے مابین دیرپاامن کی تلاش میری دانست میں کاربے سود ہے۔ سیرسپاٹے کی خاطر ہوئی آنیاں جانیاں ہیں جس کا ارتکاب کرتے افراد خود کو دورِ حاضر کے بسمارک اور ڈاکٹر ہنری کسنجر تصور کرنے کے گماں میں مبتلا رہتے ہیں۔

خارجہ امور پر لکھنے والے خصوصاََ بھارتی امور کے ماہر تصور ہوتے لکھاری پاکستانیوں کی اکثریت کو سمجھا ہی نہیں پائے ہیں کہ 1990ء کی دہائی کے آخری برسوں سے ہندوتوا کے نام سے مسلم اور پاکستان دشمنی بھارت کی ہندواکثریت کے دل ودماغ پر حاوی ہوچکی ہے۔ 1984ء سے 2005ء تک تقریباََ ہر برس بھارت جانے کی بدولت میں اس کے عروج کاکئی حوالوں سے عینی شاہد ہوں۔ رواں صدی کے آغاز میں جس انگریزی روزنامے کا ملازم تھا اس کی انتظامیہ کی شدید خواہش تھی کہ میں ان کے نمائندے کی حیثیت دہلی میں تعینات ہوجائوں۔ میری بچیاں مگر اپنے ننھیال اور ددھیال سے جدا ہونا نہیں چاہتی تھیں۔ ان کی خوشی اور بزرگوں کی تسلی کے لئے بالآخر اخبار کی انتظامیہ سے سمجھوتہ یہ ہوا کہ میں بھارت میں تین ماہ قیام کے بعد دو مہینوں کے لئے پاکستان آیا کروں گا اور دو ماہ وطن میں رہنے کے بعد تین ماہ کے لئے دلی لوٹ جائوں گا۔ مذکورہ "سمجھوتے" سے قبل مگردلی میں رہائش کے لئے مکان ڈھونڈنے کو مجبور ہوا۔

دلی میں مکانوں کے کرائے ناقابل برداشت ہیں۔ اخبار کا نمائندہ ہوتے ہوئے لیکن میں سفید پوشی کا بھرم رکھنے والا گھریا فلیٹ کرائے پر لے سکتا تھا۔ کئی فلیٹ جو پسند آئے وہاں رہنا اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ دیگر فلیٹوں کے رہائشی اپنے ہمسایے میں مسلمانوں کا رہنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ انہیں شکایت تھی کہ مسلمان گھروں میں پکائے گوشت کی بو پوری عمارت میں پھیل جاتی ہے۔ مسلمان محلے نسبتاََ پسماندہ علاقوں میں تھے اور وہاں سے سرکاری دفاتر اور پریس کلب وغیرہ تک آنا طویل اور مشکل سفر کا متقاضی تھا۔ فلیٹ کے حصول میں ناکامی کے بعد گھروں کے پورشن ڈھونڈنا شروع کئے۔ انتہائی مہنگے کرائے پر میسر پورشن بھی مگر بہت تنگ اور سانس گھونٹنے کے لئے تعمیر ہوتے محسوس ہوتے۔ بالآخر میں نے "جن پت" ہوٹل میں قیام ہی کو ترجیح دی۔ بھارتی وزارت سیاحت کے تحت چلایا یہ ہوٹل نئی دلی کے مرکز میں واقع جن پت روڈ پر قیام پاکستان سے قبل قائم ہوا تھا۔ اس کے عین سامنے سڑک کے اس پار دلی کے جنرل پوسٹ آفس کی عمارت تھی۔ وہاں سے میں 24/7اپنے گھر یا دفتر سے رابطہ کرسکتا تھا۔

رواں صدی کے ابتدائی سالوں میں صبح اٹھ کر ریموٹ اٹھاتا تو تقریباََ ہر چینل پر گیروے کپڑے پہنے افراد سنسکرت الفاظ سے بھری ہندی میں مذہبی بھاشن دے رہے ہوتے۔ ان بھاشنوں کے علاوہ مہا بھارت اور رامائن میں بتائی داستانیں بھی بھاری بھر کم بجٹ کے ساتھ ٹی وی کے لئے تیار کی جارہی تھیں۔ اپنے صحافی دوستوں سے میں ٹی وی پر مذہبی پروگراموں کی بہتات کا ذکر کرتا تو ان کی اکثریت کندھے اچکاتے ہوئے مجھے یہ بتاتی کہ ایسے پروگرام بھارتی سیاست وثقافت پر اثرانداز ہو نہیں سکتے۔ ہندومذہب بنیادی طورپر "اجتماعی" شکل اختیار نہیں کرسکتا۔ لوگ اپنے ہی گھروں میں صبح اٹھ کر پوجا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مندر مسلمانوں کی مساجد کی طرح ہندوکمیونٹی کا مرکز ہو نہیں سکتا۔

میرے دوستوں کے دعوے تاہم فقط مضحکہ خیز حد تک غلط ثابت ہوئے جب لال کرشن ایڈوانی کی قیادت میں بابری مسجد کو گراکر وہاں وسیع وعریض مندر بنانے کی تحریک شروع ہوئی۔ بھارت کے ایک سفر کے دوران ہی میں نے بالآخر بابری مسجد کو جنونی ہجوم کے ہاتھوں مسمار ہوتا بھی دیکھ لیا۔ بھارتی بنگال کی حالیہ انتخابی مہم پر نگاہ رکھتے ہوئے میں نہایت ٹھنڈے مزاج کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مذکورہ مہم چلاتے ہوئے مودی سرکار مسلم دشمنی کے انگریزی محاورے کے مطابق Next Level(بلند یا بدتر مقام) تک چلی گئی ہے اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر یہ رویہ جلد یا بدیر ہر صورت اثرانداز ہوگا۔ ٹریک ٹو کے نام پر ہوئی آنیاں جانیاں اس تناظر میں کسی کام نہیں آئیں گی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais