Wednesday, 17 June 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Faisal Vawda Ki Nazar Mein Nakam o Nikamma Hukumati Bandobast

Faisal Vawda Ki Nazar Mein Nakam o Nikamma Hukumati Bandobast

انگریزی میں ایک ترکیب استعمال ہوتی ہے: Doom of Prophet اردو میں اس کا سادہ متبادل ڈھونڈ نہ پایا۔ پنجابی میں البتہ چند اشخاص کو "کالی زبان والا" کہا جاتا ہے۔ وہ جب بھی بولتے ہیں برے کی خبرہی لاتے ہیں۔ انہیں بدشگونی کا پیغامبر کہا جاسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (نون) میں شامل ہوئے بغیر ان کے ووٹوں سے سینیٹرمنتخب ہوئے فیصل واوڈا صاحب کے بارے میں لیکن میں کالی زبان کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب برتوں گا۔ انہیں دیانتداری سے "فیصل واوڈا-سب تو ڈاہڈا" یعنی سب سے طاقتور(یا بھاری) فیصل واوڈا پکارتا ہوں۔ میری گستاخیوں کے باوجود جب بھی ملے خلوص بھرے احترام سے ملے۔ ایک مرتبہ یہ اطلاع دیتے ہوئے شرمسار کردیا کہ ان کے والد میرے صحافتی کام کو سراہتے ہیں اور اکثر واوڈاصاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ میری تحریریں اور ٹی وی سکرینوں پر ادا کئے الفاظ غور سے پڑھا اور سناکریں۔

واوڈا صاحب کی پرخلوص انکساری لیکن مجھے یہ کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی کہ لگی لپٹی رکھے بغیر حالات کو برجستہ جرا￿„ سے بیان کردینے میں وہ اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ ٹی وی سکرین کے تقاضوں کو جبلی انداز میں سمجھنے کی وجہ سے اپنی دانست میں نالائق وناکام سیاستدانوں کی بھد اڑاتے ہوئے ناظرین کو حیران کردیتے ہیں۔

کسی دور میں راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے "ٹپکتی چھت تلے رہنے کو مجبور غریب"کی خودساختہ آواز ہوئے ایک صاحب بھی سکرین پر بہت رونق لگایا کرتے تھے۔ نوکری بچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ناظرین کی تمنا میں دل جلاتے صف اوّل کے قابل حصہ تنخواہیں لینے والے اینکر خواتین وحضرات ان کے درپرڈی ایس این جی لے کر حاضر ہوتے۔ ان کے ساتھ ون آن ون انٹرویو کرتے۔ ملکی تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے لال حویلی کے یہ مکین انتہائی ڈھٹائی سے غلط حوالے دیتے۔ غریب کے دُکھ میں دل جلاتے۔ ان صاحب کے ہاتھ میں ایک سگار ہوتا جس کی قیمت ہزاروں میں ہوتی۔ نہایت رعونت سے اسے اپنی انگلیوں میں رکھ کر مثال کے طورپر یہ دعویٰ فرماتے کہ چین کے انقلابی رہ نما مائوزے تنگ نے انہیں خصوصی دعوت دے کر اپنے سے ملاقات کے لئے بلایا اور ان سے عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والے "انقلابی نسخے" جاننے کی کوشش کی۔

مجھے حسرت ہی رہی کہ سکرین پر چہرہ نمائی کی وجہ سے عقل کل تصور ہوتے اینکر خواتین وحضرات کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کرلیتے کہ وہ صاحب کونسے برس کے کس مہینے کی کونسی تاریخ کو چیئرمین مائو سے کتنے گھنٹوں کوملے تھے۔ مائو جیسے تاریخ ساز رہ نمائوں کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ چینی سفارت خانے سے رابطہ کرکے بآسانی لال حویلی کے مکین کی مائوزے تنگ سے ہوئی کسی ملاقات کی تفصیل معلوم کی جاسکتی تھی۔ سکرین کی رونق بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے مگر ریٹنگوں کو یقینی بنانے والے کسی اینکرنے حقائق کی تلاش یا "فیکٹ چیک" کے لئے زحمت اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ مائوزے تنگ کو انقلاب مسلسل کے نسخے بتانے والے صاحب گزشتہ کئی مہینوں سے مین سٹریم میڈیا سے غائب ہیں۔ راولپنڈی کے تنگ بازاروں کی ریڑھیوں پر کھڑے ہوکر عام آدمی کی طرح سودا سلف لینے کی وڈیوزبناکر اپنے زندہ ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔

واوڈا صاحب ان صاحب کے برعکس منہ پھٹ ہونے کے باوجود مائوزے تنگ جیسی قدآور شخصیات سے ملاقاتوں کی جھوٹی داستانیں نہیں سناتے۔ تاریخ ساز شخصیت تو دور کی بات ہے واوڈا صاحب پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے طاقتور ترین افراد میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی قریبی دوستی کا دعویٰ نہیں کرتے۔ بدشگونیاں بیان کرتے ہوئے محض اپنے مشاہدات و معلومات پر انحصار کئے سنائی دیتے ہیں۔

اپریل 2022ء کے مہینے سے ہمارے ہاں بتدریج جو حکومتی بندوبست قائم ومستحکم ہوا ہے اس میں پیکا جیسے قوانین نے میرے کئی منہ پھٹ ہوئے ساتھیوں کی زبانیں گنگ کررکھی ہے۔ پیدائشی بزدل ہوتے ہوئے میں حق گوئی کا بھرم رکھنے کی خاطر اشاروں کنایوں میں کچھ طاقتور لوگوں کے طنزیہ ذکرکے بعد آگے بڑھ جایا کرتا تھا۔ اب ہر لفظ کو نہایت احتیاط سے لکھنا یا بولنا پڑتا ہے۔ واوڈا صاحب مگر مرد قلندر کی طرح منہ آئی بات برجستہ بیان کردیتے ہیں اور پیر کی شام طویل وقفے کے بعد وہ صف اول میں شمار ہوتے میرے چند اینکر دوستوں کے ٹاک شوز میں شریک ہوئے اور برجستہ حق گوئی سے ہمیں چونکا دیا۔

کلیدی پیغام ان کا یہ تھا کہ ملک میں سب اچھا نہیں ہے اور یہ پیغام اس دن کی شام دیا گیا جب پاکستان کے وزیر اعظم بذاتِ خود قومی اسمبلی تشریف لائے تھے۔ قوم کو مبارک دی کہ پاکستان کی کاوشوں خصوصاََ فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی مسلسل لگن کی بدولت ہم 47سال سے ایک دوسرے کے خلاف مستقل چپقلش میں مبتلا رہے ایران اور امریکہ کے مابین دیرپاامن کی راہ بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ ہماری کاوشوں سے رواں برس کے مارچ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں وقفہ آیا۔ جنگ بندی کے دوران ایسے کئی مراحل آئے جب دنیا تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھتی محسوس ہوئی۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی تجارت کوروکنے کیلئے لگائی امریکہ کی بحری ناکہ بندی نے دنیا بھر میں تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بنانا شروع کردیا۔ خلیج کی چند ریاستوں کی قابل رشک خوش حالی عارضی محسوس ہونا شروع ہوگئی۔ ایران کو پتھر کے زمانے میں لوٹانے کی دھمکیاں ملیں اور وہ اسرائیل کو نیست ونابود کرنے کے عزم کا اظہار کرنا شروع ہوگیا۔ ایسے ہیجان خیز ایام میں چند برادر ممالک کی مدد سے پاکستان نے ایران کے ساتھ مستقل رابطہ برقرار رکھا۔ اسے تباہ کن جنگ میں الجھنے کے بجائے اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے معاملات سلجھانے کو مائل کیا۔

امریکی صدر اسرائیل سے دیرینہ دوستی بھلاکر ہماری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرتے رہے۔ بارہا ہمارے وزیر اعظم اور فیلڈمارشل کے نام لے کر پاکستان کی امن کی خاطر ہوئی کاوشوں کو سراہا۔ بالآخر ہماری نیک نیتی بارآور ثابت ہوئی۔ 14جون کی رات ایران اور امریکہ جنگ بندی کو دیرپا امن میں تبدیل کرنے کے لئے مذاکرات کو آمادہ ہوگئے۔ 19جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پاکستان کی دعوت پر امریکہ اور ان کے نمائندے باہم مل کر مفاہمتی یادداشت پر دستخط ثبت کردیں گے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز ہر نوع کی تجارت کے لئے کھول دی جائے گی۔ ایران کی بحری ناکہ بندی کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور مصر سے ایران تک پھیلے قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک دیرپاامن کی چھتری تلے دنیا بھر میں استحکام اور معاشی ترقی یقینی بنانے میں مصروف ہوجائیں گے۔

قصہ مختصر پیر 15جون 2026ء کا دن اپریل 2022ء سے متعارف اور بتدریج مستحکم ہوئے حکومتی بندوبست کے لئے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ 25کروڑ کی آبادی کے باوجود غریب اور قرضوں میں جکڑے پاکستان کے ایران اور امریکہ کے مابین خونخوار جنگ رکوانے میں کردار کو دنیا کے طاقتور ترین ممالک نے دل کھول کر سراہا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن -بھارت- کی جلن اگرچہ دیدنی تھی۔

اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔ یاد رہے کہ واوڈا صاحب کی پیر کی شام بیان کردہ بدشگونیاں ملکی سیاست پر کڑی نگاہ رکھنے والے سہیل وڑائچ صاحب کے لکھے اس کالم کے بعد منظر عام پر آئی ہیں جس میں انہوں نے جولائی کے آغاز سے موجودہ حکومتی بندوبست کا زوال شروع ہوجانے کے امکانات کا اظہار کیا تھا۔ یکم جولائی 2026ء سے دو ہفتے قبل ہی مگر واوڈا صاحب نے سہیل وڑائچ کے بیان کردہ امکانات کے حقیقت بن جانے کی "نوید" سنادی ہے۔ سکرینوں پر رونق لگادی۔ ان کے ہوتے ہوئے مجھ جیسے ہوا کے دوش پر رکھے چراغوں کی طرح ٹمٹاتے قلم گھسیٹ آپ کی توجہ کی تمنا میں لکھیں تو کیا لکھیں؟

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais