وفاقی آئینی عدالت نے منگل کے روز سزا یافتہ قیدیوں کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے بجائے بذاتِ خود غور کا جو فیصلہ سنایا اس نے سوشل میڈیا پر چھائے کئی "ذہن سازوں " کو حیران وپریشان کردیا۔ لوگوں میں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی کہ مذکورہ فیصلے نے سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت کی "ماتحت عدالت" میں بدل دیا ہے۔ "یک دم" ہوئے فیصلے پر یوں ماتم کنائی کی گنجائش نکال لی گئی۔
سزا یافتہ قیدیوں کے علاج کا معاملہ اگر بانی تحریک انصاف کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے زیر بحث نہ ہوتا تو "خبروں " کے قارئین وناظرین کی اکثریت شاید آج بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کو ملک کی سب سے بڑی عدالت تصور کررہی ہوتی۔ تلخ حقیقت مگر یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی کئی حوالوں ں سے پاکستان کی دیگر عدالتوں پر برتری آئین کی 27ویں ترمیم منظور کرتے ہوئے طے کردی گئی تھی۔ مجھ سمیت تقریباََ ہر صحافی خلق خدا کو لیکن مذکورہ حقیقت سے خاطر خواہ انداز میں آگاہ کرنے میں ناکام رہا۔ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے کی جرات سے ہم محروم ہوچکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے تین عزت مآب ججوں پر مشتمل بنچ نے 18اگست 2026ء کے دن تحریری حکم کے ذریعے یہ حکم صادر کیا تھاکہ عمران خان صاحب کو ان کے خاندان کی خواہش کے مطابق اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل کردیا جائے۔ جس منتقلی کا حکم ہوا اس کا مجھ جیسے قانون کی باریکیوں سے نابلد افراد کی نگاہ میں اطلاق کم از کم 16ستمبر کی 2026ء تک لازمی تھا۔ یہ وہ دن تھا جب سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کے طبی معاملات کے حوالے سے اپنے روبرو پیش ہوئی درخواست کی سماعت جاری رکھنا تھی۔
قانون کی نزاکتوں سے نابلد ہوتے ہوئے مذکورہ فیصلے سے میں ذاتی طورپر خوش بھی ہوا۔ بانی تحریک انصاف کی سیاست کا دیرینہ ناقد ہونے کے باوجود دیانتداری سے محسوس کیا کہ سابق وزیر ا عظم کی ہسپتال منتقلی پاکستان میں سیاسی کشیدگی وتنائو میں کمی لانے کی راہ بناسکتی ہے۔ صحافت کو بطور پیشہ مگر انٹرنیٹ کی ایجاد سے قبل اپنایا تھا۔ اس دور میں صحافی اپنی رائے بنانے میں کافی وقت لگایا کرتے تھے۔ عدالتی فیصلوں پر تبصرہ آرائی سے قبل تحریری فیصلے کو بغور پڑھنالازمی تھا۔ نہایت توجہ کی بدولت اخذ کئے نتائج کی تصدیق یا تردید کے لئے چند وکلاء سے رابطہ کرکے ذہن صاف کرنے کی کوشش بھی ہوتی۔ تحریری فیصلہ بغور پڑھنے اور وکلاء کی رائے جاننے کے بعد لکھی خبر مگر جب ہمارے سینئرز کے روبرورکھی جاتی تو وہ اپنی میز پر طلب کرکے مجھ جیسے اتائیوں کے اخذ کردہ نتائج کے نیچے سرخ لکیریں لگاکر شرمسار کردیتے۔ دورِ حاضر کی صحافت ایڈیٹر کی نگہبانی سے کامل آزاد ہے۔ اب عقل کل بنے ہم اپنی رائے کو "بریکنگ نیوز" کی صورت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں کے ذریعے پیش کرکے دادوتحسین سمیٹ لیتے ہیں۔
ماقبل انٹرنیٹ صحافت کے عادی ہونے کی وجہ سے میں نے 18اگست کی سہ پہر جاری ہوئے فیصلے کو تین سے زیادہ مرتبہ غور سے پڑھا تھا۔ تیسری بار یہ خیال کوندا کہ اگر مذکورہ فیصلے پر ہوبہو عمل ہوگیا تو جیل میں مقید سنگین الزامات کے تحت سزا یافتہ ہوئے دیگر قیدی بھی اپنے لئے بھی ایسی سہولتوں کا تقاضا کرسکتے ہیں جو بانی تحریک انصاف کو فراہم کرنے کا حکم ہوا ہے۔ جو خیال ذہن میں آیا اس کا ٹی وی شو میں اظہار کردیا۔ عجب اتفاق یہ بھی ہوا کہ چند ہی دن بعد اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنے لئے تقریباََ ویسی ہی سہولتوں کا تقاضا کیا جو عمران خان صاحب کو فراہم کرنے کا حکم ہوا تھا۔
مذکورہ درخواستوں کے پیش ہونے کی وجہ سرکار کی تھپکی ہوسکتی ہے۔ ممکنہ تھپکی کی تصدیق یا تردید مگر میرے لئے ممکن نہیں۔ حکومت نے ویسے بھی عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے چند گھنٹوں کے لئے سرکاری طورپر چلائے پمز بھجوایا تھا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ حکومت کے اس رویے کو عمران خان کی ایک ہمشیرہ نے توہین عدالت تصور کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ اس درخواست پر سماعت 16ستمبر کو متوقع تھی اور میں یہ کالم اس تاریخ کی صبح اٹھتے ہی لکھ رہا ہوں۔ مذکورہ درخواست میں کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب دے نہیں سکتا۔
فی الوقت اہم بات یہ ہے کہ اپنے لئے عمران خان جیسی رعایتیں طلب کرنے والے قیدیوں کی درخواست ہائی کورٹ نے مسترد کردی تھی۔ اس کے خلاف انہوں نے وفاقی آئینی عدالت (سپریم کورٹ نہیں)کے روبرو اپیل دائر کی۔ وفاقی آئینی عدالت نے اسے قابل سماعت گردانتے ہوئے اٹارنی جنرل کو طلب کیا اور منگل کی سہ پہر ایک عبوری حکم جاری کردیا جس نے عاشقان عمران کے دل دکھادئے۔ ان کا دُکھ میرے لئے قابل احترام ہے۔ اقتدار کا کھیل مگر نہایت سفاکانہ ہوتا ہے۔ انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے اور مقبول سیاستدانوں کے مداحین سے دادوتحسین کے حصول کیلئے ماتم کنائی کی مجھے عادت نہیں۔
بطور صحافی خود تنقیدی سے جندچھڑانے کے مگر قابل نہیں ہوں۔ جس دن اڈیالہ جیل میں قید تین قیدیوں نے عمران خان کے لئے حکم ہوئی سہولتوں والی اپیل ہائی کورٹ سے مسترد ہونے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تو مجھے آئین کی 27ویں ترمیم یاد آگئی تھی۔ 2024ء کے انتخابی نتائج آجانے کے بعد قائم ہوئے بندوبستِ حکومت نے نہایت تیاری سے مذکورہ ترمیم تیار کرنے کے بعد اسے ریاستی دبدبے اور دھونس کا ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کروایا تھا۔
27ویں ترمیم کے لئے منظور ہوجانے کے بعد آئین کا آرٹیکل 189ملک کی ہر عدالت (بشمول سپریم کورٹ) کے لئے وفاقی آئینی عدالت کے دئے ہر فیصلے پر عملدرآمد لازمی قرار دیتا ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ یوں کہہ لیں کہ وفاقی آئینی عدالت کی سپریم کورٹ پر "برتری" نظربظاہرمنگل کی سہ پہر طے نہیں ہوئی ہے۔ غالباََ یہ "سانحہ" آئین کی 27ویں ترمیم منظور کرتے وقت ہی رونما ہوچکا تھا۔ ہم صحافی مگر قوم کو اس کے بارے میں بروقت آگاہ کرنے میں ناکام رہے۔