Tuesday, 06 October 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Har Subay Par Muntabiq Hota Emergency Ya Governor Raj Ka Jawaz

Har Subay Par Muntabiq Hota Emergency Ya Governor Raj Ka Jawaz

فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف بھاری اکثریت سے خیبرپختونخوا حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو اس کے تمام تر وسائل اور توانائی کو وفاقی حکومت کا برج الٹانے پر مبذول کردیا۔ اس ضمن میں بھرپور تیاری کے ساتھ اسلام آباد پر آخری یلغار نومبر 2024ء میں ہوئی تھی۔ بانی تحریک انصاف کی اہلیہ نے اس احتجاج میں ذاتی طورپر شریک ہوکر کارکنوں کو جذباتی ایندھن فراہم کیا۔ ڈی چوک پہنچنے کے بعد معاملات مگر سنبھل نہ پائے۔ تحریک انصاف میدان جنگ سے پسپا ہونے کو مجبور ہوئی۔

سیاسی جنگوں کو حق وباطل کے مابین معرکے کی صورت دیکھنے کی ہمت سے عمر کے آخری حصے میں قطعاََ محروم ہوچکا ہوں۔ کئی برسوں تک "مظلوم" تصور ہوئے چند سیاستدان اقتدار میں آئے تو ماضی کے "ظالم" ان کے مقابلے میں نرم دل محسوس ہونے لگے۔ سیاسی لڑائی کو محض اقتدار کے کھیل کی صورت ہی دیکھنے کو مجبور ہوں۔ سیاسی امور کے جائزے کے لئے جو رویہ کئی دہائیوں کے مشاہدے کے بعد اپنایا ہے وہ حق وصداقت کے پرستاروں کی نگاہ میں شکست خوردہ ہے۔ اس کی وجہ سے ملے طعنوں اور تہمتوں کے باوجود سیاسی لڑائی کو فقط منطقی انداز ہی میں دیکھنے سے باز نہیں رہ سکتا۔

تحریک انصاف کے متعصب ترین نقاد کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ فروری 2024ء کے انتخابات نے اس جماعت کی ملک گیر مقبولیت کو شدت سے اجاگر کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت میں ابھرنے کے باوجود وہ حکومت سازی میں ناکام رہی۔ اپوزیشن بنچوں پر منتقل ہوجانے کے بعد اسے پارلیمانی سیاست کا ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے اپنی ملک گیر مقبولیت برقرار رکھنے پر توجہ مبذول رکھنا چاہیے تھی۔ خیبرپختونخوا میں حکومت کے حصول کے بعد مگر اس نے اسلام آباد پر لشکر کشی کو ترجیح دی۔ سیاسی جماعت کے بجائے یلغاری لشکر کی پہچان نے آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں تحریک انصاف کو مفلوج بنادیا۔ علی امین گنڈاپور بھی ناکامی کے ذمہ دار ٹھہراکر خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے فارغ کردیے گئے۔

ان کی جگہ آئے سہیل آفریدی کی اپنے قائد سے وفاداری جذباتی ہے۔ طالب علمی کے زمانے سے تحریک انصاف سے وابستہ رہے ہیں۔ نسبتاََ جواں سال ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت لگن اور بردباری سے پنجاب اور سندھ میں تحریک انصاف کے بددل ہوئے کارکنوں سے روابط استوار کرنے کی کوشش کی۔ انتہائی نامساعد حالات میں ان سے روابط کرتے ہوئے متحرک بنانے کے لئے بہت وقت درکار تھا۔ سوشل میڈیا پر چھائے تحریک انصاف کے انتہا پسندوں نے مگر ان کی وفاداری پر سوالات اٹھانا شروع کردیے۔ انہیں یاد دلانا شروع کردیا کہ نسبتاََ نوجوان اور غیر معروف آفریدی کو وزیر اعلیٰ بناکر جیل میں قید عمران خان نے اس کے سر پر اقتدار کا ہما بٹھایا ہے۔ اپنے منصب کو اب اسے فقط اپنے قائد کی رہائی کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ اسلام آباد پر ایک اور یلغار کے سوا موصوف کے پاس اور کوئی راستہ ہی نہ بچا۔

سہیل آفریدی پربانی تحریک انصاف کی رہائی یا جیل سے رعایتوں کے حصول کی خاطر بڑھتے دبائو کے مقابلے میں ریاست کے دائمی ادارے ہیں۔ کئی ماہ قبل وہ یہ طے کرچکے ہیں کہ 2021ء میں فاتح کی طرح کابل لوٹے طالبان پاکستان پر غلبے کے جنون میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے بھارت جیسے ازلی دشمن مذکورہ تناظر میں ان کی ڈھٹائی سے پشت پناہی کررہے ہیں۔ جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے خیبرپختونخوا کے جنوبی حصوں پر توجہ دیتے ہوئے دہشت گردی کی نئی لہر متعارف کروادی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت مگر اس لہر کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی توانائی اور وسائل کو محض بانی تحریک انصاف کے لئے آسانیوں کی راہ بنانے کے لئے استعمال کررہی ہے۔

سادہ ترین الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست پاکستان کے دائمی ادارے اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت دو مخالف انتہاؤں پر کھڑی ہیں۔ ان دو کے مابین کم از کم نکات پر ہم آہنگی کے حصول کے لیے وقت درکار ہے اور مہلت دینے کے لئے فریقین میں سے کوئی ایک بھی آمادہ نہیں ہورہا۔ 4اکتوبر کے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے پیپلز پارٹی کے ایما پر اسلام آباد کے پارلیمان ہائوس میں گزرے جمعہ کے روز سے مذاکرات کا جو دور شروع ہوا اس کا ناکام ہونا دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ فریقین کی ترجیحات میں بنیادی اختلافات پر نگاہ مرکوز رکھنے میں لیکن صحافیوں کی اکثریت ناکام رہی۔ مذاکرات کے دور کی ٹی-20میچوں کی طرح رپورٹنگ ہوئی۔ آنیوں جانیوں پر توجہ مبذول رکھتے ہوئے ہفتے کی شام سمجھوتے کی امید دلادی گئی۔ امید دلاتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردی گئی کہ مذاکرات میں مصروف فریقین میں سے کوئی ایک بھی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں۔ اپنی ترجیحات کے حوالے سے وہ مختلف دنیائوں کے باسی ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہنگامی حالات (ایمرجنسی) یا گورنر راج کے نفاذ کی راہ آئین ہی بناتا ہے۔ اس کی بدولت منتخب حکومت کی معطلی یا عدم فعالیت مگر جمہوریت کے رومان میں مبتلا مجھ جیسوں کو پسند نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج سے گریز کی راہ مگر مجھ جیسے گوشہ نشین رومان پرست نکال نہیں سکتے۔ اقتدار کے کھیل میں شریک افراد ہی کو اسے تشکیل دینا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے وہ یہ راہ اتوار کی صبح یہ کالم لکھنے تک ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔ ایک اہم پہلو جس پر توجہ نہیں دی جارہی یہ بھی ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے حکومتی بندوبست "ری سیٹ" کرنے کی گفتگو ہورہی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کا اس تناظر میں تواتر سے ذکر ہوتا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر سوالات اٹھانے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا اہم ترین جواز یہ تاثر بنایا جائے گا کہ آئین کی 18ویں ترمیم کے تحت میسر خود مختاری صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بتدریج خود مختار" صوبے داروں " میں بدل دیتی ہے۔ وفاق ان کے روبرو بے بس ہوا محسوس ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وفاق کو بالآخر دیگر صوبوں پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی جانب مائل کرے گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui