Tuesday, 17 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Hukumat Ka Petroleum Nirkhon Mein Mazeed Izafe Se Gurez

Hukumat Ka Petroleum Nirkhon Mein Mazeed Izafe Se Gurez

پرانی وضع کا صحافی ہوتے ہوئے میں احمقانہ خوداعتمادی کے ساتھ پیش گوئیاں سنائی دیتی "خبریں " دینے سے گھبراتا ہوں۔ گزرے ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے مگر دل ودماغ کو یہ فکر لاحق تھی کہ مجھ سمیت وطن عزیز کے کروڑوں دیہاڑی دار اس خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں کہ حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں 55روپے کے قیامت خیز اعلان کے بعد حکومت "مزید" کا ارادہ باندھے ہوئے ہے۔ حکومت کی ترجمانی کا مجھے شوق نہیں۔ ویسے بھی وہ معاشی معاملات کے تناظر میں سرکار مائی باپ کا کردار ادا کرتے ہوئے خلق خدا کی پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے کے بجائے مختلف دھندوں کے اجارہ دار سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ اس تلخ حقیقت کے بخوبی ادراک کے باوجود تیل کی قیمت میں حال ہی میں ہوئے ریکارڈ اضافے کا اسے واحد ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔

تیل، ڈیزل، گیس اور پٹرول کے حوالے سے روس کے یوکرین پر فروری 2022ئکے حملے کے بعد سے مسلسل پریشان ہوئے عوام کی مشکلات میں تازہ اضافے کا اہم ترین سبب امریکہ اور اسرائیل کی رواں ماہ کے آغاز کے ساتھ ایران پر مسلط کی جنگ ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ایران نے اپنے ساحل کے انتہائی قریب واقع آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا فیصلہ کیا۔ کئی مقامات پر یہ آبنائے 3سے پانچ کلومیٹر سے زیادہ چوڑی نہیں۔ وہاں سے بسااوقات فقط ایک ہی بھاری بھر کم جہاز گزرکرسمندر کے گہرے پانیوں کا رخ کرتے ہوئے منزل مقصود کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔

ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور ا مریکہ مگر یہ سوچنے کی زحمت اٹھاتے نظر نہیں آئے کہ اپنے اوپر جنگ مسلط ہوتے ہی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے تیل برادر جہازوں کی ٹریفک پر کامل کنٹرول کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذکورہ فیصلہ کا کوئی توڑ ڈھونڈنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ ایران نے اس کے ذریعے ہوئی ٹریفک پر اپنا حق اختیار اجاگرکرنے کا فیصلہ کیا تو جہازوں کی انشورنس کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

انشورنس کی چھتری کے بغیر کوئی بحری جہاز اور ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی جرأت سے محروم ہوگیا۔ دنیا کی واحد سپرطاقتور کا دعوے دار ہوتے ہوئے امریکہ کا یہ فرض تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزری ٹریفک کو ہر صورت رواں رکھنے کے لئے حوصلہ بخش اقدامات لیتا نظر آتا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مگر فکر مندی کے سنگین تر مراحل میں سفاکانہ حد تک خود غرض سنائی دینے والے پیغامات لکھناشروع کردئے۔ کندھے اچکاتے ہوئے بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیتا نظر آیا کہ اس کا ملک پٹرول کی پیداوار کے حوالے سے عرصہ ہوا خودکفیل ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کو یہ جنس برآمد کرنے والوں کی فہرست میں نمایاں مقام بھی حاصل کرچکا ہے۔

وینزویلا میں پیدا ہوا تیل بھی اب اس کی مرضی کے ساتھ دیگر ممالک جاتا ہے۔ اس کی فروخت کی رقم بھی وینزویلا نہیں بلکہ امریکی بینکوں میں جمع ہوتی ہے۔ واشنگٹن اس رقم میں سے وینزویلا کو معموملات زندگی رواں رکھنے کے لئے قسط وار رقوم جاری کرتا ہے۔ ایران کے نہایت قریب موجود دو جدید ترین اور مہلک ہتھیاروں سے لیس اس کے بحری بیڑے گہرے سمندر میں لنگر انداز ہیں۔ تیسرا جہاز بھی ان کی کمک میں پہنچ چکا ہے۔

سمندر میں ان قلعہ نما جہازوں کی موجودگی کے باوجود وہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک رواں رکھنے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوا۔ مذکورہ آبنائے سے دنیا بھر میں تیل، گیس اور پٹرول کی اجتماعی ضرورت کا 20فی صد گزرتا ہے۔ اس کی بندش نے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش کے علاوہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لئے تیل کی دستیابی مشکل تر بنانا شروع کردی۔ عالمی منڈی میں اس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

پاکستان میں تیل کی درآمد اور اسے بازار میں فروخت کرنے کے حوالے سے اجارہ دار شمار ہوتی کمپنیوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے کم از کم 6ہفتے قبل 65سے 70ڈالر میں خام تیل خرید رکھا تھا۔ پہلے سے خریدے خام تیل کے ذخیرے کو اس نے عام صارف تک پہنچانے میں تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کردئے۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خوف سے عام صارفین بھی اپنی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ٹینکیاں ہمہ وقت فل رکھنے کو بے قرار ہوگئے۔ ان کی بے قراری سے گھبراکر ملک کے کئی شہروں میں پٹرول پمپ بند ہوگئے۔ درمیانی درجے کے کاشتکار نے بھی گندم کی کٹائی کے سیزن کو ذہن میں رکھتے ہوئے کھلے بازار سے ڈیزل خرید کر اس کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔

میرے اور آپ جیسے عامیوں کے ہر "تخریبی" عمل پر کڑی نگاہ رکھنے کی دعوے دار سرکار آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے صارفین کے دل ودماغ میں جمع ہوتے خوف کے ازالے کے لئے سخت گیر اقدام اٹھانہیں پائی۔ پٹرول پمپوں پر ہنگامہ آرائی کے خوف سے 55روپے کے کمرتوڑ اضافے سے بحران ٹالنے کو ترجیح دی۔ قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باوجود امریکہ کی آبنائے ہرمز سے ٹریفک رواں رکھنے میں عدم دلچسپی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

اس رحجان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے خدشہ تھا کہ گزرے جمعہ کی شام مشرق وسطیٰ سے پاکستان آنے والے تیل کی رسد کے حوالے سے ٹھوس حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کو مجبور ہوجائے گی۔ عملی رپورٹنگ سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوجانے کے باوجود میں نے مذکورہ خدشے کے حوالے سے حقائق کا کھوج لگانا شروع کردیا۔ مختلف بااعتماد ذرائع سے گفتگو کے بعد جو حقائق ودلائل جمع ہوئے ان کا بغور جائزہ لینے کے بعد گزشتہ ہفتے کے آخری کالم میں جو جمعہ کی صبح چھپا احمقانہ اعتماد سے یہ دعویٰ کردیا کہ عیدالفطر سے قبل حکومت پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے گریز کو ترجیح دے گی۔

جمعہ کی صبح چھپا وہ کالم پڑھ کر دل مگر گھبراگیا۔ تیل کے کم از کم دو جہاز آبنائے ہرمز میں "حادثاََ"ڈرونز کی زد میں آچکے تھے۔ مزید خوف مگر وہاں سے کہیں دور عراق کے تاریخی شہر بصرہ کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوئے جہاز پر ہوئے میزائل حملوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں پھیلا۔ خوف سے مغلوب ہوکر عالمی منڈی میں جو قیمت طے ہوئی وہ پاکستان میں فی لیٹر کی قیمت میں 40سے 45روپے اضافے کا عندیہ دیتی سنائی دی۔ جمعہ کی رات مگر حکومت نے صارفین پر مزید بوجھ منتقل کرنے سے اجتناب برتا۔ پٹرول پر عائد ہوئی ڈیوٹی نے نظربظاہر اسے اتنی رقم فراہم کردی ہے جو صارفین کو اضافی بوجھ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس کے باوجود سوال اٹھتا ہے کہ "مگر کب تک؟"

جمعہ کی رات ہی امریکہ نے ایران کے جزیرہ خارک کو جس کا تفصیلی تعارف اس کالم میں کرواچکا ہوں اپنے سب سے زیادہ طاقتور طیاروں سے تباہ کن بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے وہاں نصب دفاعی نظام کو کاملاََ مفلوج بنادیا۔ ایران سے بیرون ملک جانے والے تیل کا نوے فیصد مذکورہ جزیرے میں ذخیرہ کے لئے پہنچائے جانے کے بعد ہی بحری جہازوں میں لاد کر گہرے سمندروں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ جزیرہ خارک کا دفاعی نظام تباہ کرتے ہوئے امریکہ نے درحقیقت ایران کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر اس نے خلیجی ممالک سے دنیا کے دیگر ملکوں کو خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کی بندش سے ناممکن بنادی تو جزیرہ خارک سے اس کے اپنے تیل کی تجارت بھی ناممکن ہوجائے گی۔ یاد رہے کہ چین اس جزیرے سے بھیجے تیل کا 35فی صد سے زیادہ حصہ خریدتا ہے۔

جزیرہ خارک کا دفاعی نظام تباہ کرنے کے بعد ا مریکہ نے ایران کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ ترک نہ کیا تو وہ ایران کے ساحل سے 25کلومیٹر دور واقع اس جزیرے پر فوجی قبضہ بھی کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایران اپنے تیل کی ایک بوند بھی دنیا کے کسی اور ملک کو بیچنے کے قابل نہیں رہے گا۔ جزیرہ خارک کا دفاعی نظام تباہ کرنے کے بعد امریکہ نے ایک خوفناک چال چلی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر "ہم توڈوبے ہیں، " والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais