Wednesday, 18 February 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. India Pakistan T20 Aur Mera Fishar e Khoon

India Pakistan T20 Aur Mera Fishar e Khoon

یقیناََ کوئی نیکی کام آگئی وگرنہ اتوار کی شام اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر انڈیا-پاکستان کا ٹی-ٹونٹی کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے میرے دماغ کی رگ پھٹ سکتی تھی۔ دل پریشان و بے قابو ہوجانے کے بعد ایک دوست کی مہربانی سے سنبھل تو گیا۔ ساری رات خود کی ملامت میں مصروف رکھنے کی وجہ سے لیکن سو نہ سکا۔ کروٹیں بدلنے سے اکتا کر بستر چھوڑ کر علی الصبح لکھنے کی میز پر آگیا اور یہ کالم لکھتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کررہا ہوں۔

دیرینہ اور باقاعدہ قاری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کرکٹ سے مجھے ککھ دلچسپی نہیں۔ کئی حوالوں سے بلکہ اسے فضول ترین کھیل تصور کرتا رہا ہوں۔ انڈیا کے ساتھ کرکٹ کے حوالے سے مگر کوئی قضیّہ شروع ہوجائے تو لاتعلق رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹی- ٹونٹی کا ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کلب نے (جس میں انٹرنیشنل کا "آئی" عرصہ ہوا میری دانست میں انڈیا کے لئے استعمال ہونا شروع ہوگیا ہے) بنگلہ دیش کو نہایت رعونت سے اس مقابلے کے لئے نااہل ٹھہرادیا۔

پاکستان نے اس کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا تو ہاہاکار مچ گئی۔ جو شوروغوغا برپا ہوا اس کی بدولت پتہ یہ چلا کہ سپورٹس چینلز کی زندگی اور موت کے لئے پاکستان اور بھارت کے مابین ہوا کرکٹ میچ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے ناظرین کی ریکارڈ بناتی تعداد ٹی وی سکرینوں پر دیکھتی ہے۔ ان کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے صرف کے اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہ میچ نہ ہونے کی صورت میں اربوں روپے ضائع ہوسکتے ہیں۔

کرکٹ میچ دکھانے والے ٹی وی چینلوں کا ممکنہ نقصان تاہم میرا درد سر نہیں تھا۔ بین الاقوامی امور کا طالب علم ہوتے ہوئے میرا خیال تھا کہ حسینہ واجد کی فسطائیت سے آزاد ہوئے بنگلہ دیش سے یکجہتی کا اظہار نہایت اہم ہے۔ بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ مگر اس میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ کرکٹ کے غیر سیاسی شائقین کی اکثریت کو بلکہ پیغام یہ جائے گا کہ شاید پاکستان کو اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں۔ بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں عرصہ ہوا ایک دوسرے کے ملک جاکر کھیلنے سے گریز کرتی ہیں۔ اس بدعت کا آغاز بھارت ہی نے کیا تھا۔

کرکٹ کے حوالے سے مگر ایک اہم ملک سری لنکا بھی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں وہ ہمارے عزیز ترین دوستوں میں شامل ہے۔ رواں صدی کی پہلی دہائی میں جب پاکستان کا تقریباََ ہر بڑا شہر دہشت گردی کی زد میں تھا تو اس کی ٹیم نے نہایت جرأت سے ہمارے ہاں آکر میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور میں اس کی ٹیم کے قیام کے دوران دہشت گردوں نے اسے نشانہ بنانے کی کوشش بھی کی۔ سری لنکا مگر گھبرایا نہیں۔ اس بار ٹی- ٹونٹی کے ورلڈ کپ کا میزبان بھارت ہے۔ پاکستان کو مگر وہاں جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہماری ٹیم کی تسلی کے لئے پاکستان کے ذمے آئے ٹی- ٹونٹی کے سارے میچ سری لنکا میں کھلوانے کا بندوبست کردیا گیا تھا۔

سری لنکا چند ہی برس قبل معاشی دیوالیہ اور اس کی وجہ سے بدترین سیاسی بحران کی اذیت سے گزرا ہے۔ ان دنوں معاشی استحکام کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین اس کے ہاں ہوا مقابلہ اس تناظر میں بھی اہم تھا۔ اس کی بدولت وہاں کی سیاحت پر انحصار کرنے والے دھندے پر رونق ہوسکتے تھے۔ سری لنکا میں بھارت کے ساتھ کھیلنے سے انکار کولمبو کو یہ پیغام دیتا کہ بنگلہ دیش کی خاطر پاکستان نے جنوبی ایشیاء میں اپنے ایک اور قریبی دوست کے جذبات کی قدر نہ کی۔

سفارتی نزاکتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کرکٹ کے کئی ماہر مجھے سمجھاتے رہے کہ پا کستان کی ٹیم ان دنوں بہت کمزور ہے۔ کولمبو میں بھارت کے ساتھ میچ کھیل کر شرمندگی اٹھانے سے بہتر ہے کہ بنگلہ دیش سے یکجہتی کے نام پر اس کے ساتھ ہونے والے میچ کا بائیکاٹ کردیا جائے۔ کرکٹ کی مبادیات سے نابلد ہوتے ہوئے بھی میں نے اس دلیل کو ذاتی توہین کی طرح لیا۔ انتہائی خلوص سے یہ تصور کیا کہ ہمارے کمزور اور ناتجربہ کار شمار ہوتے کھلاڑی بھارت کے ساتھ مقابلے کو ایک چیلنج کی صورت لیتے ہوئے دنیا کو حیران کرسکتے ہیں۔ اصرار کرتا رہا کہ پاکستان کو سری لنکا میں بھارت کے خلاف ہر صورت میدان میں اترنا چاہیے۔ پاکستان نے سرکاری سطح پر اس کا فیصلہ کرلیا تو میرے لئے اتوا رکی شام کولمبو میں ہوا میچ نہ دیکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔

سورج ڈھلتے ہی پوری تیاری کے ساتھ اپنے کمرے میں نصب ٹی وی کھول کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ پاکستان نے ٹاس جیتنے کے با وجود بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ اس دعوت نے مجھے حیران کیا کیونکہ پاکستان پہلے کھیلتے ہوئے اس دبائو سے آزاد رہ سکتا تھا جو بھارت نے 175کا سکور بناکر ہمارے کھلاڑیوں کے سرپر بوجھ کی طرح نازل کیا۔ ٹاس جیتنے کے بعد کئے غلط فیصلے کے باوجود میچ کے ساتویں اوور تک پہنچتے ہوئے مجھے اپنے بائولروں کی کارکردگی نے متاثر کیا۔ ان کی کاوشوں سے مغلوب ہوکر سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم پر یہ پیغام بھی لکھ دیا کہ میں پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہا ہوں۔

میری خوشی کامگر دسویں اوور کے بعد برقرار رہنا دشوار سے دشوار تر ہوتا چلا گیا۔ شاہین شاہ آفریدی کی دھلائی سے کہیں زیادہ مایوسی مجھے عثمان طارق سے ہوئی۔ جمعہ کے دن سے پاکستان کے تمام اخبارات اور ٹی وی سکرینوں پر کرکٹ کو زیر بحث لانے والے مجھ جیسے کم علم کو یکسوہوکر یہ بتارہے تھے کہ عثمان طارق کی صورت پاکستان کو ایک "ونڈر بوائے" مل گیا ہے۔ اس کا انداز مجھے بھی بہت بھایا۔

مخالف بلے باز پر گیند اچھالنے سے پہلے وہ تیزی سے بھاگ کر آتے ہوئے اچانک رک جاتا ہے۔ بھاگنے کے بعد ایسا وقفہ لیتا کھلاڑی ایک عجوبہ ہے جس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہوئی کہ اس کا پھینکا ہر گیند بلے باز کو چونکا دیتا ہے۔ وہ طے ہی نہیں کرپاتا کہ عثمان طارق کے اچھالے گیند کو کس طرح ہینڈل کیا جائے۔ اتوار کی شام ہوئے میچ کے ابتدائی لمحات میں عثمان طارق کو استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے کئی تبصرہ نگار بہت خفا ہوئے۔

بارہا سوال اٹھاتے رہے کہ اسے بھارتی بلے بازوں کو پریشان کرنے کے لئے استعمال کیوں نہیں کیا جارہا۔ ایک دو تبصرہ نگار اگرچہ اس توقع کا اظہار کرتے رہے کہ عثمان طارق کو میچ کے کڑے مراحل میں بھارتی بلے بازوں کے اوسان خطا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ بالآخر تھاجس کا انتظار وہ شاہکار میدان میں اترا تو پہلے ہی گیند پر چھکا کھاکر خود حواس باختہ ہوگیا۔ بتدریج بھارتی بلے بازوں نے ہمارے ہر بائولر کی تکنیک جان لینے کے بعد کامل اعتماد سے اپنی ٹیم کا سکور خطرناک حد تک بڑھانا شروع کردیا اور اس کی ٹیم ایک بھاری بھر کم ٹارگٹ سیٹ کرنے کے بعد آئوٹ ہوئی۔

جوٹارگٹ سیٹ ہوا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے ٹی وی آف کرکے کمرے سے باہر نکل جانا چاہیے تھا۔ امید نے مگر بہکادیا۔ سکرین پر نظریں جمائے رکھیں اور ساتویں اوور کے خاتمے کے بعد ڈاکٹر کی تشخیص کردہ وہ گولی لینے کو مجبور ہوگیا جو دل کو مضطرب ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ وہ مگر دسواں اوور آنے تک بھی مدد کرتی محسوس نہ ہوئی۔ ا یسے میں ایک مہربان دوست کا فون آیا۔ موصوف نہایت خلوص کے ساتھ مجھ سے ناراض ہوئے کہ میں فشارِ خون کے مرض میں مبتلا ہوجانے کے باوجود ٹی وی کھول کر میچ کیوں دیکھ رہا ہوں۔ مجھے کمرے سے نکلنے کا حکم دیا اور گاڑی میں بٹھاکر کھانا کھلانے لے گئے۔ موصوف کی محبت مگر دل کا ملال کم نہ کرپائی۔

گھرلوٹ کر بستر پر لیٹا تو رات کروٹیں بدلنے کی نذر ہوگئی۔ مسلسل سوچتا رہا کہ ہماری ٹیم کئی باصلاحیت اور امکانات سے بھرپور کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی اکائی کی صورت کیوں اختیار نہیں کرپائی ہے جسے بھارت جیسی ٹیم کے کھلاڑی اپنے لئے خطرہ محسوس کریں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں بھارت کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ میچ کھیلتے ہوئے کافی خائف نظر آیا کرتی تھی۔

بھارت اور پاکستان میں چند سماجی وسفارتی تقریبات کے دوران میں نے بھارت کے کئی مشہورکرکٹرز کو پر خلوص احترام سے ہمارے نامور کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ ان کی جانب سے دکھایا احترام مجھے کرکٹ سے نابلد اور لاتعلق ہونے کے باوجود بطور پاکستانی فخر محسوس کرنے کا موقعہ فراہم کرتا۔ پاکستان کا موجودہ بندوبستِ کرکٹ لیکن ہمیں فخر فراہم کرنے کی لگن میں ہرگز مبتلا نظر نہیں آرہا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais