Saturday, 28 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Iran Ke Inkar Ki Mann Pasand Tashreeh

Iran Ke Inkar Ki Mann Pasand Tashreeh

نام نہاد "عالمی میڈیا" کا توجہ سے مشاہدہ کریں تو وہ یکسوہوکر یہ پیغام دیتے سنائی دے رہا ہے کہ امریکی صدر ایران پر مسلط کردہ جنگ کے جلد خاتمے کا خواہش مند نہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان جیسے ممالک کی وساطت سے مذاکرات کی راہ تلاش کرنے کا ڈرامہ رچاتے ہوئے درحقیقت مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات پر"آخری حملہ" کرنے کے ارا دے سے اپنی بری، بحری اور فضائی افواج جمع کئے چلاجارہا ہے۔ رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی اس نے ایران کو پانچ دنوں کی "مہلت" کا اعلان کیا تھا۔ مذکورہ مہلت کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ ان میں ہوئی پیشرفت اسے دیرپاامن کے حصول کی امید دلارہی ہے۔ اس کی تمنا ہے کہ خفیہ طورپر جاری بالواسطہ مذاکرات امریکہ اور ایران کو دیرپاامن کی تلاش میں بالآخر ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوجائیں۔

ایران کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔ برطانیہ کے معتبر اور بااثراخبار "فنانشل ٹائمز" نے مگر ایک سنسنی خیز خبر کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ رواں ہفتے کے آخری دنوں میں امریکی نائب صدر -جے ڈی وینس- ایرانی نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے لئے پاکستان آسکتا ہے۔ اس خبر کی تصدیق یا تردید سے وائٹ ہائوس نے گریز کیا۔ ایک خبررساں ایجنسی کو اگرچہ یہ بتادیا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی صدر کی گفتگو ہوئی ہے۔

پاکستان کی حکومت اور سرکار ی ذرائع ابلاغ نے امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ روابط کے حوالے سے کسی بھی نوعیت کی تبصرہ آرائی سے گریز کیا ہے۔ "ان" کے نہایت قریب تصور ہوتے یوٹیوبر بھی اس تناظر میں لاعلم سنائی دئے۔ محض اس حقیقت پر اتراتے رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مابین امن کی راہ نکالنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اپنے وطن کی اہمیت اجاگر ہونے پر فخر محسوس کرنا فطری امر ہے۔ اس کا اظہار باعث ندامت نہیں۔ "عالمی میڈیا" کو مگر امریکہ اور ایران کے مابین صلح کے امکانات نے پریشان کردیا۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار بھی ہضم کرنے میں بہت دشواری ہورہی ہے۔ کبھی کبھار یہ محسوس ہوتا ہے کہ "عالمی میڈیا" امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے امکانات سے خوش نہیں۔ انہیں بلکہ سبوتاژ کرنے کو ڈٹ گیا ہے۔

امریکی صدر کے رویے ا ور سیاست کا مستقل ناقد ہوتے ہوئے بھی اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ وائٹ ہائوس نے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے حیران کن حد تک ذمہ دارانہ ر ویہ اختیار کیا ہے۔ مذاکرات کے امکانات جھٹلانے کے لئے "عالمی میڈیا" فقط ایران کے دفاعی اداروں کے ترجمانوں کے تلخ بیانات کے حوالے دیتا رہا۔ ایران سے آئے تلخ بیانات پر کامل تکیہ کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ سکندر اعظم کے نمودار ہونے سے قبل بھی ایران ایک عظیم ووسیع وعریض سلطنت تھا۔ اس کا اثر فلسطین سے آج کے آذربائیجان اور ارمینیا تک پھیلا ہوا تھا۔ موجودہ پاکستان کے کئی خطے بھی ایرانی دربار کو خراج ادا کرتے رہے ہیں۔

دورِ حاضر کی سفارت کاری، ادب آداب اور سفارتی زبان متعارف کروانے میں ایرانی روایات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ حقیقت کو ہوبہو بیان کرنے کے بجائے استعاروں کے استعمال سے اسے معمہ اور کثیر الجہتی دکھانے کا چلن بھی فارسی زبان ہی میں ایجاد ہوا تھا۔ بدھ کی شام مثال کے طورپر "عالمی میڈیا" پر بینڈ، باجہ، بارات کے ساتھ یہ "بریکنگ نیوز" پھیلائی گئی کہ ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے ان 15شرائط کو حقارت سے رد کردیا ہے جو امریکہ کے مشہور ومعتبر شمار ہوتے "نیویارک ٹائمز" میں چھپی ایک کہانی کے بقول پاکستان کی وساطت سے تہران پہنچائی گئی تھیں۔ انہیں رد کرنے کے اعلان کو یہ تاثر پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا کہ ایران ان مذاکرات میں شرکت کو آمادہ نہیں ہے جو اگلے 24سے 48گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں شروع ہوسکتے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہوئے "انکار" کی من پسند تشریح کرتے ہوئے اس حقیقت کو قطعاََ نظرانداز کردیا گیا کہ فقط ان 15شرائط کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہوا ہے جو نیویارک ٹائمز کے بقول امریکہ نے پاکستان کی وساطت سے پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے تہران پہنچائی تھیں۔ انہیں رد کرنے کے لئے جو اعلان مرتب ہوا اس کی ایک سطر بھی اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات جھٹلانہیں رہی تھی۔

بدھ کی رات پاکستانی وقت کے مطابق رات کے دس بجے وائٹ ہائوس کی ترجمان نے ایک طولانی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ سوالات کی بوجھاڑ کے باوجود امریکی صدر کی ترجمان ایک لمحے کو بھی ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے امکانات رد کرتی سنائی نہ دی۔ نہایت مہارت سے بلکہ یہ کہتے ہوئے ان کی تصدیق فراہم کردی کہ امریکہ کے نائب صدر رواں ہفتے کے آخری دنوں میں غیر ملکی سفر کو روانہ ہوسکتے ہیں۔ موصوف کونسے ملک جائیں گے؟ اس سوال کا جواب فراہم نہیں کیا۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی جارحانہ دکھتی آمد کو بھی اس نے "وگرنہ" کا پیغام دینے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا۔ اس کی گفتگو میں اہم ترین یہ سوال تھا کہ صحافیوں نے کیوں فرض کرلیا ہے کہ نیویارک ٹائمز میں چھپے 15نکات درست ہیں جن پر عملدرآمد کا مبینہ طورپر امریکہ تقاضہ کررہا تھا۔ کئی گھنٹوں سے دنیا بھر میں پھیلائے 15نکات کو ایک حوالے سے اس نے فرضی کہانی ٹھہرادیا۔ امریکی صدر کی ترجمان کے ہاتھوں فرضی ٹھہرائے نکات کا ایران کے سرکاری ٹی وی سے ردہوجانا مذکورہ تناظر میں کسی اہمیت کا حامل نہیں رہا۔

سفارت کاری کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے "عالمی میڈیا" کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais