Friday, 16 October 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Irani Balochistan Mein Great Game Ki Pakistan Mein Tapish

Irani Balochistan Mein Great Game Ki Pakistan Mein Tapish

گزشتہ کئی ہفتوں سے ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا کی توجہ خیبر پختونخوا پر مرکوز ہے۔ وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ زیر بحث رہا۔ اب ان دونوں کے امتزاج پر مبنی اقدامات اٹھالئے گئے ہیں۔ ان کے نتائج پر تبصرہ آرائی قبل از وقت قیاس آرائی ہوگی۔ دہشت گردی مگر اس صوبے تک ہی محدود نہیں۔

دہشت گردی کی وجوہات فقط مقامی نہیں۔ برطانوی سامراج کی ہمارے خطے میں آمد کے چند ہی ماہ بعد 250سال قبل زار شاہی کے تحت توسیع پسندی کے جنون میں مبتلا ہوئے روس کے ساتھ نام نہاد "گریٹ گیم" کا آغاز ہوگیا تھا۔ جو قضیہ شروع ہوا وہ روس میں کمیونسٹ انقلاب اور برطانیہ کی ہمارے خطے سے روانگی کے بعد بھی جاری رہا۔ اس کی انتہا میں "افغان جہاد" اور بعدازاں مذکورہ جہاد کے سرپرستوں ہی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف برسوں تک محیط جنگ جاری رہی۔ 2021کے اگست میں اس کے انجام پر طالبان فاتح کی صورت کابل لوٹ آئے۔

طالبان کی بطور فاتح کابل واپسی کا ہم سادہ لوح پاکستانیوں نے نہایت خلوص سے خیرمقدم کیا۔ مجھ جیسے جھکی مگر متنبہ کرتے رہے کہ "غلامی کی زنجیریں کٹ جانے" پر شاداں محسوس کرتے ہوئے ہمیں افغان قوم کی "اجتماعی یادداشت" ذہن میں رکھنا ہوگی۔ بطور فاتح کابل لوٹنے کے بعد طالبان نے اسے یاد رکھا۔ پاکستان میں اپنے "نظریاتی بھائیوں " کی امریکی افواج کے چھوڑے جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے پشت پناہی میں مصروف ہوگئے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی ریاست اپنی بقا یقینی بنانے کے لئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج جمع ہنگامی حالات کے نفاذ کو مجبور ہوگئی ہے۔

"ذہن سازوں " کے بے پناہ ہجوم کے باوجود حکومت مگر اس تاثر کا مؤثر جواب اب تک فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے کہ خیبرپختون خوا میں گورنر راج جمع ہنگامی حالات کا نفاذ محض ایک سیاسی جماعت کی منتخب حکومت کی فراغت ہے۔ افغان دراندازی مذکورہ اقدام کا اہم ترین سبب ہے۔ ریاستی بیانیہ سازوں کو اس پہلو کی جانب توجہ مرکوز رکھنا ہوگی۔

دہشت گردی کا ذکر ہو تو بلوچستان بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا کی طرح افغانستان وہاں بھی بدامنی بھڑکانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان کو سیاسی ومعاشی استحکام سے محروم رکھنے کی خواہش میں بھارت افغانستان کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔ تاریخی حوالوں سے ایران بھی کئی صدیوں سے ہمارے بلوچستان خصوصاََ اس کی ساحلی پٹی پر توجہ دیتا رہا ہے۔ 1950کی دہائی میں برطانیہ اور امریکہ نے سامراج دشمن ڈاکٹر مصدق کی حکومت کو سی آئی اے کی بھڑکائی سازش کے ذریعے ختم کیا۔ ایران میں شاہی نظام شدت سے بحال ہوا تو رضا شاہ پہلوی خود کو خطے کا تھانے دار سمجھنا شروع ہوگیا۔ ہمارے بلوچستان میں جمہوری نظام کا قیام اسے پسند نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران بلوچستان میں برپا شورش کو ہوا دینے میں اس کے خیالات نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد اسرائیل بتدریج بلوچستان پر توجہ دینا شروع ہوگیا۔ ہمارے دوست چین کی بلوچستان کے ساحل میں سرمایہ کاری نے مغربی ممالک کے سرمایہ دارانہ مفادات کو ضرب لگائی۔ مختصر ترین الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ فقط بھارت اور افغانستان ہی نہیں عالمی اجارہ داری کی خواہش مند قوتیں باہم مل کر بلوچستان کے ساحل ووسائل پر لالچی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

رواں برس کے مارچ کا آغاز ہوتے ہی اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر احمقانہ جنگ مسلط کردی تھی۔ اس جنگ کا آغاز اس بچگانہ خیال سے ہوا کہ اگر فضائی حملے سے ایران کے رہبر اعلیٰ کو شہید کردیا جائے تو 1979سے "مسلط، نظام کے خلاف ایرانی عوام امریکہ کو نجات دہندہ تصور کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ایران کی تاریخ وثقافت سے جاہلانہ لاعلمی پر مبنی یہ خوش فہمی مگر جنگ مسلط ہونے کے پہلے روز سے غلط ثابت ہونا شروع ہوگئی۔ ایران کو "آزاد" کروانے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل دنیا کو آبنائے ہرمز کی بدولت آئے تیل، گیس اور کھاد سے محروم کررہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں پاکستان جیسے بے تحاشہ ممالک میں ناقابل برداشت مہنگائی کا جو عذاب نازل ہوا ہے اس سے نجات کے امکانات محدود سے محدود تر ہورہے ہیں۔ ایک بات اگرچہ طے ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ فی الوقت جنگ جاری رکھتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل ایرانی حکومت سے اپنی شرائط منوانہیں سکتے۔ سات سمندر پار اور بذاتِ خود تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہوئے امریکہ غالباََ ایران میں اپنی ہزیمت برداشت کرسکتا ہے۔ ایران کا "اسلامی نظام" مگر اسرائیل اپنی بقاء کے لئے برداشت کر ہی نہیں سکتا۔ اس کے ساتھ براہِ راست جنگ میں الجھنے کے بجائے البتہ ایران میں علیحدگی پسند تحاریک کی پشت پناہی کی راہ ڈھونڈ رہا ہے۔

ایران پر براہِ راست جنگ مسلط کرنے کے بجائے وہاں کرد، بلوچ اور آذری علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کے ارادے مارچ 2026کی جنگ کے آغاز سے قبل ہی نمایاں ہونا شروع ہوگئے تھے۔ بطور پاکستانی اگرچہ میں فقط بلوچستان کے حوالے سے اسرائیلی ارادوں کا کھوج لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس حوالے سے ہوئی کھوج کے دوران 2025کے جون میں دریافت ہوا کہ اسرائیل کی پشت پناہی سے واشنگٹن میں قائم ہوئے ایک تھنک ٹینک میں بلوچستان پر توجہ دینے کے لیے ایک نئے شعبے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

جس تھنک ٹینک کا ذکر ہے اس کا نام ہے "مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ" انگریزی میں یہ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI)کے نام سے معروف ہے۔ اسے 1998میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے "ریٹائر(؟)" ہوئے ایک افسر یگال کارمون (Yigal Carmon) نے امریکہ میں مقیم چند یہودی دوستوں کی مدد سے متعارف کروایا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ کے اخبارات میں عربی زبان میں چھپے مضامین میں حاوی رجحانات کا جائزہ لینا تھا۔ بتدریج اس نے عالمی اخبارات میں بھی مشرق وسطیٰ پر لکھے مضامین یا تحقیقی دستاویز کا تجزیہ شروع کردیا۔ رواں صدی کی پہلی دہائی میں ایرانی میڈیا میں فارسی زبان میں لکھے مضامین بھی اس کی خصوصی توجہ کے مستحق گردانے گئے۔ جون 2025میں لیکن اس نے بلوچستان پر توجہ دینے کے لئے ا یک خصوصی شعبہ متعارف کروایا۔ "بلوچستان" کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی اور پاکستانی بلوچستان کے مابین تفریق نظرانداز کردی گئی۔

بلوچستان کا شعبہ متعارف کرواتے ہی MEMRIنے 12جون 2025میں پاکستان سے عرصہ ہوا خود ساختہ جلاوطن ہوئے ہربیار مری کا ایک خصوصی مضمون چھاپا۔ مذکورہ مضمون میں ہربیار نے طویل دلائل کے ساتھ یہ کہانی بیچی کہ ایران ایک کثیر القومی ملک ہے اور یہاں آبادبلوچ اور کرد فارسی زبان وثقافت کے غلبے سے اکتاچکے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کو ان اقوام کی "تحاریک آزادی" کی پشت پناہی کرنا ہوگی۔ ہربیار مری کا مضمون پڑھتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا اور اس کا ذکر اس کالم اور مختلف ٹی وی پروگراموں میں کرتا رہا۔

مجھے گماں تھا کہ مارچ 2026میں مسلط ہوئی جنگ کے بعد شاید اس مضمون کی اہمیت باقی نہیں رہی۔ آج سے دو دن قبل مگر ہانگ کانگ میں قائم ایک انسٹی ٹیوٹ نے جو چین کے "ون بیلٹ ون روڈ" کے تحت چلائے منصوبوں سے منسلک ممالک پر توجہ دیتا ہے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی۔ اس میں دعویٰ ہوا کہ ایرانی بلوچستان میں متحرک علیحدگی پسندوں کی جانب سے وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف دہشت گرد حملے شروع کردئیے گئے ہیں۔ ستمبر2026میں دو اعلیٰ سطحی افسران دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔

یکم سے8 اکتوبر کے درمیان بھی ایرانی بلوچستان میں 5دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں۔ منگل کی شام یہ تحقیقاتی رپورٹ پڑھنے کے بعد انٹرنیٹ دیکھا تو اطلاع ملی کہ چند گھنٹے قبل پاکستانی بلوچستان کے تفتان بارڈر کے عین دوسری طرف ایران میں واقع پہاڑیوں پر ایرانی علیحدگی پسند جتھوں نے ایران کے سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے پر حملہ کردیا ہے جوکئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس کے دوران ہوئی ہلاکتوں کی تفصیل یہ کالم لکھنے تک میسر نہ تھی۔ چینی تھنک ٹینک کی رپورٹ اور اس کے ایک دن بعد ہوئے واقعے کی بنیاد پر اس خدشے کا اظہار کرنے میں حق بجانب ہوں گا کہ ایرانی بلوچستان میں "گریٹ گیم" کا آغاز ہوچکا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اس کی تپش سے کب تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui