Thursday, 02 April 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Jang Mukhalif Mumalik Ko Ishtial Dilane Ki Americi, Israeli Sazishen

Jang Mukhalif Mumalik Ko Ishtial Dilane Ki Americi, Israeli Sazishen

"جدید صحافت" کے زوال کی اصل وجہ انٹرنیٹ کی بدولت متعارف ہوا سوشل میڈیا ہے۔ میڈیا کی یہ صنف ٹھوس معاملات پر توجہ دینے کے بجائے لوگوں کے دل ودماغ میں پہلے سے موجود تعصبات بھڑکاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ویوز، شیئرز اور لائیک کے حصول کو اُکساتی ہے۔ ایران پر مارچ کے آغاز سے اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ کو آبنائے ہرمز کی دلدل میں پھنسا محسوس کررہی ہے۔ ٹرمپ کو درپیش مشکلات سے لطف اٹھاتے ہوئے مذکورہ جنگ کی اصل وجوہات اور حتمی اہداف پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ پیر کی شام تک میری سوچ بھی فقط روزمرہّ کی حد تک محدود تھی۔

پیر سے ایک روز قبل سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ ہمارے وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھ کرجنگ بندی کی تدابیر سوچتے رہے۔ جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لئے جو لائحہ عمل مرتب ہوا اسے جائز بنیادوں پر عوام کے روبرو نہیں لایا گیا۔ وہ تیار ہوگیا تو برادر ممالک کے وزرائے خارجہ اسلام آباد سے اپنے ملک لوٹ گئے۔ منگل کی صبح مگر پاکستان کے وزیر خارجہ چین روانہ ہوگئے۔ "اندر کی خبر" نہ ہوتے ہوئے بھی دو ٹکے کا رپورٹر نکتے سے نکتہ ملاتے ہوئے یہ سوچنے کو مائل ہوا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چار اسلامی ممالک کی جانب سے تیار ہوئے جنگ بندی کے لائحہ عمل کے لئے چینی تائید کی جستجو میں بیجنگ گئے ہیں۔

منگل کی صبح اٹھتے ہی لیکن خبر ملی کہ دوبئی کی بندرگاہ پر کھڑے کویت کے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ جہاز لاکھوں بیرل سعودی اور کویتی تیل لے کر چین جانا چاہ رہا تھا۔ غالباََ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت کا دوبئی کی بندرگاہ پر کھڑا انتظار کررہا تھا۔ اس پر حملے کی خبر ملی تو میں چونک گیا۔ ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ ابھی تک خلیج سے چین تیل لے جانے والے کسی ٹینکر پر براہ راست حملہ نہیں ہوا ہے۔ کویت کے اس مقصد کیلئے تیل سے بھرے جہاز کو عین اس روز ہی نشانہ کیوں بنایا گیا جس روز پاکستان کے وزیر خارجہ چار اہم اسلامی ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے لئے تیار ہوئے لائحہ عمل کی تائید کے لئے چین روانہ ہونے والے تھے۔

نظر بظاہر کویتی جہاز میں آگ بھڑکانے والا ڈرون ایران سے اچھالا گیا تھا۔ کئی دنوں سے مگر حربی امور پر توجہ دینے کو مختص جرائد اور ویب سائٹس پر یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے بنائے "شاہد" ڈرون کی نقل تیار کرلی ہے۔ جنگوں میں فریب اور دھوکہ دہی کی ضرورت واہمیت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اکثر ان کے استعمال سے ایران کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مارچ کے آغاز سے شروع ہوئی جنگ کے ابتدائی ایام میں سعودی عرب کی آرامکو ریفائنری پر نظر بظاہر "شاہد" میزائل گرے تھے۔ تہران مگر مصر رہا کہ اس نے آرامکو کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔

آرامکو پر حملے کے چند روز بعد خبر آئی کہ ایران سے چلایا ایک اور "شاہد" بحر ہند کے وسط میں ماریشس کے قریب ڈیگوگارشیا کے فوجی اڈے کی جانب پرواز کررہا تھا۔ اسے فضا میں مارگرایا گیا۔ یاد رہے کہ ڈیگوگارشیا برطانیہ کے کنٹرول میں ہے۔ اسے مگر امریکہ کے جدید ترین جنگی طیارے بھی اڈے کی صورت استعمال کرتے ہیں۔ برطانیہ کو ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ملوث کرنا چاہ رہا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم مگر مستقل مزاجی سے انکار کرتا رہا۔ ٹرمپ کے اصرار اوراسٹارمرکے انکار نے کئی تبصرہ نگاروں کو یہ طے کرنے کو اکسایا کہ ڈیگوگارشیا کی جانب اچھالا "شاہد" ایران نے نہیں بلکہ کسی ا ور فریق نے برطانیہ کو اشتعال دلانے کے لئے استعمال کیا تھا۔

چین کے لئے تیل لے جانے والے کویتی جہاز پر ایران کی جانب سے حملہ میرا ذہن تسلیم کرنے سے منکر رہا۔ یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ چین کو پاکستانی وزیر خارجہ کی امن تجاویز سمیت بیجنگ آمد سے قبل دونمبر "شاہد" کے استعمال سے اشتعال دلانے کی کوشش ہوئی ہے۔ دماغ میں امڈے شبہات کی تصدیق کے لئے کئی مہینوں کے وقفے کے بعد "حالاتِ حاضرہ" کی ہلچل اور لمحہ بہ لمحہ خبروں کا تعاقب کرنے کے بجائے کامل لگن سے ایران ا ور چین کے باہمی تعلقات کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ تحقیق کے آغاز ہی میں دریافت یہ ہوا کہ مارچ 2021ء میں ایران اور چین کے مابین 25برس کا "جامع دفاعی معاہدہ" ہوا تھا۔ مذکورہ معاہدے کے تحت چین نے ایران میں 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔ ایران نے اس کے عوض چین کو بازار کے مقابلے میں رعایتی قیمتوں پر تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ چین اپنی ضرورت کا تقریباََ 25فی صد تیل وینزویلا اور ایران سے حاصل کرتا رہا ہے۔

وینزویلا کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں آجانا چاہیے کہ رواں برس کاآغاز ہوتے ہی ٹرمپ نے اس ملک پر چڑھائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کرکے امریکہ پہنچادیا گیا۔ اس کی نائب صدر اب وہاں کے حکومتی بندوبست کی نگران ہے۔ وینزویلا کا تیل مگر امریکہ کی نگرانی میں دوسرے ملکوں کو بیچا جاتا ہے۔ امریکی مداخلت سے قبل چین وینزویلا میں پیدا ہونے والے تیل کا تقریباََ 75 فی صد خرید رہا تھا۔ اب رسائی مشکل سے مشکل تر ہورہی ہے۔

مارچ کے آغاز میں ایران پر جنگ مسلط ہونے سے قبل چین اس ملک سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباََ 14لاکھ بیرل تیل خریدتا رہا ہے۔ چین عالمی منڈی سے جو تیل درآمد کرتا ہے یہ اس کا 14فی صد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی تعداد ایران کے برآمد کئے تیل کا 80فی صد ہے۔ ان اعدادوشمار پر توجہ دیں تو ایران چین تیل لے جانے والے جہازوں پر میزائل برسانے کی حماقت کا مرتکب ہونہیں سکتا۔ ایران کے تیل کا 80فی صد چین جاتا ہے اور وہ اس کی تجارت میں تعطل برداشت نہیں کرسکتا۔

وینزویلا اور ایران کے تیل کی "منڈی" پر توجہ دیں تو چین پر کامل انحصار کی گواہی ملتی ہے۔ اس گواہی کو ذہن میں رکھیں تو ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہے کہ وینزویلا اور ایران پر ہوئے امریکی حملوں کا ایک اہم ہدف چین کو ان دو ممالک کے تیل سے محروم رکھنا بھی ہے۔ اپنی ضرورت کے تقریباََ 25 فیصد تیل کی یقینی فراہمی کی سہولت سے محرومی چین میں اقتصادی جمود یقینی بناسکتی ہے اور چین کی معیشت میں مندی کس ملک کی خواہش ہوسکتی ہے مجھے اس کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں۔

چینی معیشت کے حوالے سے ایرانی تیل کی اہمیت اور اس کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کی روانی پاکستان جیسے ملکوں ہی کو نہیں چین کو بھی ہر صورت درکار ہے۔ اسی باعث منگل کے روز پاکستان کے وزیر خا رجہ تین اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے طویل مشاورت کے بعد چین روانہ ہوگئے تھے۔ ان سے ملاقات کے بعد چینی وزارتِ خارجہ نے پانچ نکاتی امن منصوبے کی کامل تائید کا اعلان کیا ہے اور امریکی صدر بھی اب "سفارتی حل" کی امید دلارہا ہے۔ چین کو آبنائے ہرمز اور اس کے ذریعے ایران پر خلیجی ممالک سے آئے تیل کی اہمیت جتلاتے ہوئے امریکہ "کچھ لو کچھ دو" کی جانب راغب کرنا چاہ رہا تھا۔ ہم مگر جنگ کی حرارت سے لطف اٹھاتے ہوئے اس جانب توجہ ہی نہ دے پائے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais