Wednesday, 25 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Kamil Be Yaqeeni Ki Fiza Mein Iss Baar Ki Eid Ki Be Ronaqi

Kamil Be Yaqeeni Ki Fiza Mein Iss Baar Ki Eid Ki Be Ronaqi

پیر کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنا شروع کردیا۔ معمول کے ایام میں ہفتے کے پانچ کالم لکھنے کی مزدوری کا آغاز اتوار کی صبح ہوجاتا ہے۔ گزشتہ اتوار مگر عید کا دوسرا دن تھا۔ اس کے بہانے سارا دن بستر پر لیٹا غم جہاں کے حساب میں مصروف رہا۔ موبائل فون نے اگرچہ خود سے مکالمے اور یکسوئی سے کسی موضوع پر غور کی صلاحیت محدود سے محدود تر بنادی ہے۔ عید کے روز بھی روایتی فرائض سے فارغ ہونے کے بعد بستر ہی میں گھس گیا تھا۔ تنہابیٹھا فکر مندی سے سوچتا رہا کہ چاند رات کو اسلام آباد کے بازاروں میں رونق نہ ہونے کی وجوہات کیا تھیں۔

اسلام آباد کو درست وجوہات کی بناء پر پردیسیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ چاند رات سے ایک دن قبل ہی اس کے رہائشیوں کی اکثریت اپنے آبائی گھروں کو روانہ ہوجایا کرتی تھی۔ 1978ء کے برس اپنی ٹانگ ایک حادثے میں زخمی کروالینے کی وجہ سے لاہور نہیں جاسکا تھا۔ عیدالفطر اسلام آباد ہی میں گزارنا پڑی۔ تین دنوں تک یہ محسوس ہوا کہ کسی سرسبزو شاداب جنگل میں ہوں۔ "ہو کا عالم" جو بیان کرنا چاہتا تھا، اس کا عملی مظاہرہ دیکھ لیا۔ ایسی ہی ایک عید بیماری کے سبب 1986ء میں بھی گزارنا پڑی تھی۔

رواں صدی کا آغاز ہونے سے تین یا چار برس قبل اسلا م آباد کے رہائشیوں کی نمایاں تعداد عید کا تہوار مگر اپنے آبائی شہر جائے بغیر منانا شروع ہوگئی تھی۔ والدین کھودینے کے بعد اپنے بچوں کے ہمراہ اسلام آباد ہی رہنے کو ترجیح دینے والے چاند رات کو مارکیٹوں کا رخ کرتے۔ چوڑیاں بیچنے اور مہندی لگانے والے ٹھیلوں نے اس شہر کو بھی پاکستان کے دیگر شہروں جیسا دکھانا شروع کردیا۔ عید کی مناسبت سے سجائی دوکانیں اور ان کے باہر لگے ٹھیلے کئی اعتبار سے بلکہ اسلام آباد کو پاکستان کے ثقافتی تنوع کا حقیقی نمائندہ دکھانا شروع ہوگئے۔ افغانستان سے آئے کھانوں سے لے کر، مردان اور تخت بھائی کے چپل کبابوں کے علاوہ لاہور کے لکشمی چوک سے مختص پکوانوں کے بعد بلوچستان کی سجی اور چائے کی دوکانیں مذکورہ تنوع کی علامتیں ہیں۔

بتدریج نمودار ہوتی رونق کی بدولت اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سے میں عید منانے لاہور جانے کی تمنا کھوبیٹھا ہوں۔ میری دوبیٹیاں بھی اپنے نانا نانی کے ساتھ یہ دن گزارنے کو ترجیح دینے لگیں۔ لاہور کی چاند رات کو اگرچہ حسرت سے یاد کرتیں۔ دس برس قبل سے مگر اسلام آباد کی چاند راتیں انہیں بہت مصروف رکھنے لگیں۔ ان کے تجربات ذہن میں رکھتے ہوئے گزرے ہفتے کی چاند رات اسلام آباد کے مرکز میں واقع ایک مارکیٹ میں مجھے رونق مفقود ہونے کا احساس ہوا۔ جو بیٹی ہمارے ساتھ ہے اس کی سرگرمیاں بھی اس چاند رات کافی مختصر اور محدود تھیں۔ دل میں آئے خیالات کی تصدیق کے لئے چند دوستوں سے فون پر گپ شپ لگائی تو وہ بھی لوگوں میں روایتی جوش وخروش کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے رہے۔ عید کے روز ایک مشہور بیکری میں جاکر اس کا مزید احساس ہوا۔ وہاں میرے علاوہ فقط دو مزید گاہک مٹھائی خریدرہے تھے جو عید کے روز گھر آئے مہمانوں کی خاطر لی جاتی ہے۔

یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ چاند رات اور عید کے دنوں میں اسلام آباد کو نسبتاََ بے رونق دکھانے کی وجہ ایران پر مسلط کردہ جنگ ہے جس نے مہنگائی کی ایک ناقابل برداشت لہر نازل کرنے کے علاوہ کسی بھی دھندے سے منسلک فرد کو بے یقینی کے بھنور میں پھینک دیا ہے۔ عمر تمام اخباری صحافت کی نذر کردینے والے مجھ ایسے قلم گھسیٹ تو ٹی وی اور انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد سے خود کو معدوم ہوئے دھندے کا حصہ سمجھنا شروع ہوچکے ہیں۔ ٹی وی صحافت بھی اب "ذمہ دار اور محب وطن" ہوجانے کے بعد "بدمزہ" دکھتی ہے۔ پاکستانیوں میں عمر کے لحاظ سے مگر قارئین کی ایک کماحقہ تعداد روایتی صحافیوں سے توقع رکھتی ہے کہ وہ عالمی امور پر نگاہ رکھنے کی وجہ سے اپنے "تجزیوں" سے امکانات کے دریچے کھولتے رہیں۔

صحافی سے وابستہ توقعات کا احترام کرتے ہوئے عید کا دوسرا دن رات ہونے تک ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نئے مراحل کے بارے میں سوچتا رہا۔ ہمارے دن کا آغاز ہوتے ہی امریکی صدر نے ایران کو 48گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا "حکم" دیا تھا جس کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں کو یکے بعد دیگرے تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ "حاضر جناب" کی صدا بلند کرنے کے بجائے ایران نے مذکورہ دھمکی کے جواب میں متنبہ کیا کہ اگر اس کی شہری زندگی بجلی کا نظام تباہ کرنے کے ذریعے مفلوج کرنے کوشش ہوئی تو ایرانی میزائل خلیجی ممالک میں فقط بجلی ہی کے نظام کو نہیں بلکہ تیل وگیس کے ذخائر کے علاوہ سمندر کے پانی کو انسانی ضروریات کے لئے قابل استعمال بنانے والی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانا شروع ہوجائیں گے۔

اپنے میزائلوں کا اثر اور دور مار صلاحیت ثابت کرنے کے لئے اس نے ہمسایہ عرب ممالک نہیں بلکہ اسرائیل کے نسبتاََ دور دراز جنوب میں واقع ایک قصبے میں بھی خوف وہراس پھیلادیا۔ 150کے قریب افراد کو ایک ہی حملے میں زخمی اور شدید زخمی کرنے والے میزائل اس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر گرے جسے اسرائیل کئی دہائیوں سے ایٹمی توانائی کے حصول کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔ میزائلوں کو جدید ترین مدافعتی نظام سے راستے ہی میں روک کرتباہ کرنے والی متاثر کن صلاحیت کا حامل ہونے کے باوجود اسرائیل اپنے "حساس مقامات" کے انتہائی قریب ہوئے اس حملے کو روکنے میں ناکام نظر آیا۔

ٹرمپ کی جانب سے دی 48گھنٹوں کی مہلت کے بعد ہوئے اس حملے کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو امریکی حکم کی وجہ سے کھولنے کو آمادہ نہیں ہوگا۔ جنگ بندی کے موثر اور جامع مذاکرات کے بغیر اسے کھولنا ممکن نہیں۔ یہ کالم لکھنے تک ٹرمپ مذاکرات کی ضرورت محسوس کرتا مگر نظر نہیں آیا۔ اس تناظر میں اگرچہ یہ بھی سوچتا ہوں کہ امریکہ اگر جنگ بندی میں واقعتا سنجیدہ ہے تو ایران میں وہ کس سے بات کرے۔

ایران کے رہبر اعلیٰ کو امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے پہلے روز ہی شہید کردیا تھا۔ ان کے جانشین منتخب ہونے کے بعد جائز وجوہات کی بناء پر ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ علی لاریجانی ہی واحد شخصیت تھے جو قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل ہوتے ہوئے ایران کے مذہبی، سیاسی اور عسکری فیصلہ سازوں میں یکساں اثر کے حامل تھے۔ انہیں بھی نشان زد کرنے کے بعد شہید کردیا گیا۔ ان کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ فقط رہبر اعلیٰ ہی کرسکتے ہیں جن تک رسائی ایران کے بھی چند ہی افراد کو میسر ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ، خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais