صحافت کو تاریخ کا پہلا ڈرافٹ کہا جاتا تھا۔ "ڈرافٹ" کا اردو متبادل میں جاہل ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرانے دور کے صحافی برسرزمین حقائق کے مشاہدے کے بعداخبارات میں جو رپورٹ کریں وہ تاریخ دان کوکسی دور کے اہم سیاسی واقعات کا تجزیہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
برسرزمین موجود رہ کر رپورٹنگ کی دورِ حاضر کے صحافی کو ضرورت نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پر مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات میں سے اپنی پسند کے واقعات جمع کرتے ہوئے اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے کے کسی ایک گروہ کے غصے اور تعصب کو واجب ٹھہراکر یوٹیوب کے ذریعے مستقل مداحین کا ہجوم جمع کرلیتے ہیں۔ ایکس اور فیس بک کے شیئرز اور لائیکس بھی اس ضمن میں صحافی کو محض ٹھوس واقعات کا راوی پیش کرنے کے بجائے حق وصداقت کا علمبردار یا حکومتی ٹاؤٹ ثابت کرتے ہیں۔ ذاتی طورپر میں پرانی اور نئی طرز صحافت کے مابین معلق ہوا محسوس کرتا ہوں۔ غالب کی طرح "کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے" والے دوراہے پر مفلوج ذہن کے ساتھ منجمد محسوس کرتے ہوئے تاہم "تیسری راہ" ڈھونڈنے کی مشق میں مصروف رہتا ہوں۔
گزشتہ چند ہفتوں سے ہمارے ہاں اسلام آباد پر دھاوے کی تیاریاں ر ہورہی ہیں۔ دارالحکومت پر یلغار کے حوالے سے توجہ فقط تحریک انصاف پر مرکوز رہی ہے۔ چند ہی افراد کو یاد رہا کہ ہمارے ہاں جماعت اسلامی کے نام سے ایک منظم جماعت بھی قیام پاکستان سے قبل ہی قائم ہوچکی تھی۔ اس کے امیر نے بھی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لئے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا ارادہ باندھ رکھا ہے۔ انتخابی اعتبار سے یہ جماعت 2002ء کے علاوہ کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ 1970ء کی دہائی میں قائم ہوئی پارلیمان میں البتہ حزب مخالف کی صفوں میں بیٹھے اس کے چند رہ نماؤں نے بھٹو حکومت کو پریشان رکھا۔ پارلیمانی سیاست سے کہیں زیادہ جماعت اسلامی کے نظریاتی کارکنوں میں سے اکثریت کی اٹھان اس کی سرپرستی میں قائم ہوئی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے ہوئی ہے۔ پشاور سے کراچی تک تعلیمی اداروں کی اکثریت میں یہ تنظیم کئی برسوں تک راج کرتی رہی۔
بھٹو حکومت کو 1977ء میں ہوئی انتخابی دھاندلی کے الزامات کے تحت احتجاجی تحریک کا نشانہ بنانے میں بھی جماعت اسلامی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس تحریک کے انجام پر 5جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء کے مارشل لاء کا نفاذ ہوا تو مارشل لاء کے ابتدائی سالوں میں جماعت اسلامی فوجی آمر کی "بی ٹیم" تصور ہوتی رہی۔ سوویت یونین کے خلاف ہوئے "افغان جہاد" میں بھی یہ تنظیم بہت متحرک رہی۔ سازشی کہانیاں مصر ہیں کہ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ریاست کے چند دائمی اداروں میں براجمان افراد کو احساس ہوا کہ جماعت اسلامی ان کی مبینہ کرپشن کی بدولت طاقتور ہونے کے بعد "خودمختاری" کو پھڑک رہی ہے۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں متوازی گروہوں کی سرپرستی ہوئی۔ کراچی میں مہاجر طلبہ کی تنظیم نے اس کو للکارنا شروع کردیا۔
سازشی کہانیوں پر کامل انحصار کے بجائے میں فوری نوعیت کے اہم سیاسی سوالوں پر توجہ دیتے ہوئے ماضی کو فقط ذاتی یادداشت کے بہانے یاد کرتے ہوئے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ فقط یادداشت پر بھروسہ مگر فاش غلطیاں بھی سرزد کروادیتا ہے۔ منگل کی صبح چھپے کالم میں بھی ایسے ہی ہوا۔
بنیادی سوال اس کالم میں یہ اٹھایا تھا کہ وطن عزیز میں کونسی حکومت محلاتی سازشوں کے ذریعے نہیں بلکہ برجستہ سے بتدریج منظم ہوئی عوامی تحریک کی بدولت فارغ ہوئی تھی۔ مذکورہ سوال ذہن میں رکھتے ہوئے ذاتی یادداشتوں پر تکیہ کیا تو کلیدی جواب یہ ملا کہ ایک بھی نہیں۔ بنیادی پیغام بلکہ یہ دیا کہ ہماری گماں کے برعکس پاکستان میں حکومتوں کی آمدورخصت کی کلیدی وجوہات محلاتی سازشیں ہوتی ہیں۔ ہماری بدقسمتی مگر یہ رہی کہ ہم محلاتی سازشوں کو ٹھوس شواہد کے ذریعے بے نقاب کرنہیں سکتے۔ ریاستی دھندہ یہاں ریکارڈ پر لائی گفتگو کے ذریعے چلایا نہیں جاتا۔ جو دستاویزات تیار ہوتی ہیں ان کے ریکارڈ تک رسائی بھی میسر نہیں۔
منگل کے روز اپنی دانست میں جو کلیدی نتیجہ اخذ کیا تھااس پر یہ کالم لکھتے ہوئے بھی قائم ہوں۔ حکومتوں کا تختہ "عوامی تحریکوں " کی بدولت گراتی کہانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مگر ذاتی یادداشت نے گمراہ کیا۔ ربّ کا صد شکر کہ آج بھی ایسے معتبر افراد زندہ ہیں جنہوں نے ایوب مخالف تحریک میں متحرک کردار ادا کیا تھا۔ ان میں سے ایک صاحب کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ وہ 1968ء میں گورڈن کالج کے طالب علم تھے اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نمایاں کارکن بھی۔ میرے لئے ہر حوالے سے معتبر ہیں۔ منگل کا کالم چھپتے ہی انہوں نے میری تصحیح فرمائی۔ ان کی رہ نمائی سے ریکارڈ درست رکھنے میں آسانی ہوگئی۔
منگل کی صبح چھپے کالم میں یہ بیان کیا تھا کہ این ایس ایف کی جانب سے ایوب خان کے نام نہاد "عشرہِ ترقی" کے خلاف تحریک دم توڑ گئی تھی۔ ہم شاید اسے یاد بھی نہ رکھتے مگر راولپنڈی میں طلبہ کو اشتعال دلانے کا ایک واقعہ ہوگیا۔ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے یہ لکھا کہ راولپنڈی کے پولی ٹیکنیکل کے طلبہ پشاور اور لنڈی کوتل کے تفریحی دورے پر گئے تھے۔ ان کی راولپنڈی واپسی کے دوران پولیس سے جھڑپوں کا آغاز ہوا۔
میرے مہربان نے تصحیح فرمائی کہ پشاور پولی ٹیکنیکل کالج کے طلبہ نہیں بلکہ گورڈن کالج کے طالب علم گئے تھے۔ مزید تصحیح فرماتے ہوئے یہ اطلاع بھی دی کہ جن دنوں پشاور سے راولپنڈی لوٹتے طلبہ کے ساتھ پولیس کا جھگڑا ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو "اتفاقاََ" راولپنڈی میں موجود نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی کے بانی پشاور سے راولپنڈی اپنی جماعت منظم کرنے کے منصوبے کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ راولپنڈی میں ان کے قیام کو جاندار بنانے کے لئے میرے مرحوم دوست اور جی دار صحافی خالد چوہدری لاہور سے راولپنڈی آئے تھے۔ ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ان دنوں نہایت متحرک احمد رضا قصوری اور نوید ملک بھی موجود تھے۔ اسلم گورداسپوری پیپلز پارٹی کے انقلابی شاعر شمار ہوتے تھے۔ وہ خود بھی راولپنڈی آئے اور بھٹو صاحب کی رہ نمائی میں انقلاب لانے کو اُکسانے والی نظمیں کالجوں کے طلبہ میں تقسیم ہوئیں۔ مذکورہ کارکنوں کے علاوہ غلام مصطفیٰ کھر اور ممتاز بھٹو بھی راولپنڈی کے طلبہ کے ساتھ پولیس جھڑپوں کے دوران اس شہر میں موجود تھے۔
جن طلبہ پر گولی چلی وہ درحقیقت ذوالفقار علی بھٹو کے استقبال کے لئے راولپنڈی کے پولی ٹیکنیکل کالج کے باہر موجود تھے۔ انہیں منتشر کرنے کے لئے پولیس نے گولی چلائی اور ایک طالب علم اس کے نتیجے میں جاں بحق ہوا۔ مہربان دوست کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے ریکارڈ درست کردیا۔ تمنا اب یہ ہے کہ ہماری تاریخ کا کوئی دیرینہ شاہد میری اس رائے کو غلط ثابت کرے کہ وطن عزیز میں عوامی تحاریک نہیں بلکہ محلاتی سازشیں حکومتیں تبدیل کرنے کا باعث ہواکرتی ہیں۔