Tuesday, 10 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Mojtaba Khamenei Ke Intikhab Par Badla Lene Ko Betab Trump

Mojtaba Khamenei Ke Intikhab Par Badla Lene Ko Betab Trump

امریکی صدر کی تمام تر دھمکیوں اور خاموش سفارتکاری کے ذریعے ہوئی منتوں کے باوجود ایران کی مذہبی قیادت نے کسی "معتدل مزاج" آیت اللہ کو رہبر اعلیٰ منتخب کرنے کے بجائے علی خمینائی کے فرزند مجتبیٰ خمینائی کو ان کا جانشین چن لیا ہے۔ مشرقی ثقافت، روایات اور مزاج سے سرسری شناسائی کے حامل افراد کے لئے بھی یہ چنائو حیرت کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے پہلے روز ہی علی خمینائی کو شہید کردیا گیا تھا۔ ان کے فرزند کو رہبر اعلیٰ کا منصب سوپنتے ہوئے علی حمینائی کی سوچ برقرار رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ امریکی شرائط کے مطابق ایران کی جانب سے اب جنگ بندی کے لئے لچک نہیں دکھا ئی جائے گی۔ ذلت آمیز شکست تسلیم کرنے کے بجائے جرأت و دلیری کے ساتھ موت کو گلے لگانے کی جستجو کا اظہار ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کی خواہشات نفرت وحقارت سے ٹھکراتے ہوئے مجتبیٰ خمینائی کا بطور رہبر اعلیٰ انتخاب امریکہ اور اسرائیل اپنی توہین شمار کرتے ہوئے ایران پر فضائی حملوں میں اب مزید شدت لانا شروع ہوگئے ہیں۔ اتوار کی صبح ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی والے تہران شہرکے تیل اور بجلی کی فراہمی یقینی بنانے والے ذخیروں پر دیدہ دلیر حملے ہوئے۔ ان کے نتیجے میں ایران کا دارلحکومت پیر کی صبح یہ کالم لکھنے تک دھوئیں کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔ شہریوں کی اکثریت سانس لینے کے قابل محسوس نہیں کررہی تھی اور پٹرول کی نایابی نے راشن بندی کو بھی مجبور کردیا ہے۔ لوگوں کو غیر ضروری سفر سے روکا جارہا ہے۔ تہران کی میٹروریل میں سفر کے لئے اب ٹکٹ درکار نہیں۔ شہریوں کو مائل کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں میں سفر کے بجائے پٹرول کی بچت یقینی بنانے کے لئے میٹرو استعمال کریں۔

تہران کی شہری زندگی ہولناک حد تک معطل کرنے کے باوجود ٹرمپ مجتبیٰ خمینائی کے بطور رہبر اعلیٰ انتخاب کا بدلہ لینے کو بے تاب ہے۔ طیش کے عالم میں اپنے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں کو بڑبڑاتے ہوئے بتارہا ہے کہ امریکہ کو بالآخر اپنی فوج ایران کو جھکانے کے لئے استعمال کرنا پڑے گی۔ ہذیانی جذبات سے مغلوب ہوئے وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے کہ امریکہ کی خصوصی دستوں کو تاریخی شہر اصفہان میں مبینہ طورپر چھپائے یورینیم کے ان ذخیروں کو بازیاب یا تباہ کرنے بھیجا جائے جنہیں 60فیصد افزودگی کی بدولت جنگی ہتھیار بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اصفہان پر کمانڈو حملوں سے کہیں زیادہ خوفناک مگر یہ تجویز ہے کہ ایران کے ساحل سے 25کلومیٹر دور واقع خارک جزیرہ پر فوجی قبضہ کرلیا جائے۔

تاریخی اعتبار سے یہ جزیرہ کبھی موتیوں کی پیداوار اور تجارت کے لئے مشہور تھا۔ اصفہان اور بصرہ کے مابین تجارت کے لئے بھی یہ جزیرہ کلیدی اہمیت کا حامل تھا۔ 1753ء میں ہالینڈ نے اسے مقامی حکمرانوں سے خرید کر اپنے سامراجی عزائم کے حصول کے لئے فوجی حوالوں سے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس کے تقریباََ 100 سال بعد برطانیہ نے اسے افغانستان کے شہر ہرات کا دفاع یقینی بنانے کے لئے ہتھیالیا۔ تیل کی دریافت کے بعد خارک جزیرے سے ایران میں پیدا ہونے والا 90فی صد تیل عالمی منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔ یہاں سے روزانہ 20لاکھ بیرل تیل بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کے دیگر ممالک کے لئے روانہ کیا جاسکتا ہے۔ تیل کی یہ مقدارایران کی اجتماعی آمدنی میں چالیس فی صد حصے کی حامل ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے خبروں کی ترسیل کے حوالے سے مستند ترین تصور ہوتی ایکس سی او س (Axios)ویب سائٹ نے اتوار کے دن یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے ایک اہم عہدے دار کے علاوہ تین اعلیٰ سطحی امریکی حکام سے گفتگو کے بعد اسے علم ہوا کہ ٹرمپ نہایت سنجیدگی سے جزیرہ خارک پر فوجی قبضے کے منصوبوں پر اپنے بااعتماد معاونین کے ساتھ مسلسل اور طویل مشاورت میں مصروف ہے۔

ایران کے ساحل سے فقط 25کلومیٹر دور واقع اس جزیرے پر امریکی فوج کا قبضہ عالمی منڈی میں پہلے سے موجود اور لمحہ بہ لمحہ سنگین تر ہوتے تیل کے بحران کو ہولناک حد تک سنگین ترین بناسکتا ہے۔ خارک جزیرے پر قبضے کے بارے میں محض صلاح مشوروں کی خبر انٹرنیٹ پر نموار ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سوڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ یہ کالم لکھتے وقت وہ 105ڈالر کی سطح کو چھو رہی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے خارک جزیرے پر خبروں کے ارادے کی تردید کے باوجود منڈی کے اضطراب میں کمی دکھائی نہیں دے رہی۔ تیل کی قیمتوں پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا اندازہ ہے کہ خارک جزیرے پر قبضے کے لئے امریکی افواج کی روانگی کے ساتھ ہی تیل کا ایک بیرل 150ڈالر میں فروخت ہونا شروع ہوجائے گا۔ فی بیرل تیل کی یہ قیمت پاکستان جیسے بے تحاشہ ممالک کے کروڑوں افراد کی زندگیاں کامل معاشی بدحالی کی نذر کردے گی۔

ٹرمپ مگر افتادگانِ خاک کے مسائل سے سفاکانہ حد تک لاتعلق ہے۔ مجتبیٰ خمینائی کے بطور رہبر اعلیٰ انتخاب سے تلملایا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ایران کو "سبق" سکھانے کو بضد۔ تیل کی قیمت مگر پاکستان جیسے ملکوں ہی میں ناقابل برداشت نہیں ہورہی۔ امریکہ کے پٹرول پمپ بھی اب اس کا ایک گیلن 3سے ساڑھے تین ڈالر میں فروخت کررہے ہیں۔ اس رحجان کے ساتھ امریکہ میں بھی افراطِ زربلندیوں کی جانب بڑھنا شروع ہوجائے گا۔ روزمرہّ زندگی کے لئے لازمی تصور ہوتی اشیاء کی خریداری غریب ہی نہیں متوسط طبقات کی اکثریت کے لئے بھی دشوار تر ہوجائے گی۔

دنیا کے غریب ممالک اور عوام نہیں بلکہ امریکی ووٹروں کی دلجوئی کے لئے ٹرمپ دہرائے چلے جارہا ہے کہ جس تیزی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اتنی ہی تیزی سے کم ہونا بھی شروع ہوجائیں گی۔ اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے مگر اسے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنا ہوگا اور مجھے یہ بات لکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ بطور "فاتح" جنگ کا خاتمہ چاہ رہا ہے۔ اپنی "فتح" یقینی بنانے کے لئے وہ بند کمروں میں سرگوشیوں کیساتھ زیر بحث منصوبوں پر توجہ دئے ہوئے ہے۔ اصفہان پر کمانڈو حملے اور خارک جزیرے پر فوجی قبضے کے ارادوں کو لہٰذا سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais