امریتاسین بھارت کا ایک عوام دوست محقق تھا۔ علم معاشیات کے حوالے سے چونکا دینے والے نئے حقائق اور پہلو دریافت کرنے کی وجہ سے 1988ء میں اسے نوبیل پرائز سے نوازا گیا۔ برطانوی راج کے دوران بنگال میں 1943ء کے برس نمودار ہوا قحط، اس کی تحقیق کا بنیادی موضوع تھا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں اموات کے علاوہ بنگال کے لاکھوں گھرانے سفید پوشی کے مقام سے گرکر بھکاریوں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ بے زمین کاشتکاروں کے غول شہروں کو منتقل ہوکر دیہاڑی دار بننے کو مجبور ہوئے۔
ٹھوس اعدادوشمار کی کڑی جانچ پڑتال کے بعد امریتا نے دریافت کیا کہ 1943ء کے برس بنگال میں قحط، آیا ہی نہیں تھا۔ اس برس بلکہ کئی فصلیں معمول سے زیادہ بارآور تھیں۔ دوسری جنگ عظیم کی بدولت پھیلے خوف اور بے اطمینانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاہم منافع خوروں نے غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔ سرکار ان پر قابو پانے کے بجائے کئی حوالوں بلکہ ذخیرہ اندوزوں کی سہولت کار بن گئی۔ اسی باعث امریتا کا ایک قول بہت مشہورہوا جو دعویٰ کرتا ہے کہ قدرت قحط یادیگر آفات کے نتیجے میں پھیلی تباہی کی ذمہ دار نہیں ہوتی۔ عوام پرقدرتی آفات کے نام پرنازل ہوئے عذاب کے حقیقی ذمہ دار نااہل اوربدعنوان حکمران ہوا کرتے ہیں۔
یہاں تک پڑھ لینے کے بعد آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ڈاکٹر امریتا سین اور 1943ء کا قحط بنگال مجھے مارچ 2026ء کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے کیوں یاد آیا ہے۔ گزرے جمعہ کی رات گیارہ بج کر دس منٹ پر حکومت کی جانب سے پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت میں 55روپے اضافے کا اعلان کردیا گیا۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ مذکورہ اضافے کا سبب ٹھہرائی گئی۔ اس تناظر میں ایران کے ساحل کے انتہائی قریب واقع آبنائے ہرمز کا مسلسل ذکر ہورہا ہے۔ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کا تقریباً ہر ملک مشرق وسطیٰ سے خریدے تیل کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ٹینکروں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔
ایران نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو دنیا بھر کی انشورنس کمپنیوں نے مذکورہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کا بیمہ کرنے سے ہاتھ اٹھالیا۔ صدر ٹرمپ نے اس کا توڑ فراہم کرنے کے لیے بڑھک لگائی کہ امریکی وزارت خزانہ مطلوبہ انشورنس مہیا کرنے کا بندوبست کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ تاثر بھی دیا کہ امریکی فضائیہ اور بحری افواج آبنائے ہرمز پر انحصار کرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ اپنے و عدوں کو عملی صورت دینے میں لیکن وہ ٹھوس اقدامات لاتا نظر نہیں آرہا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پھیلی بے یقینی کا سنجیدہ علاج لہٰذا ہر صورت درکار ہے۔
پٹرول کے جس ذخیرے کی قیمت مگر جمعہ کی رات بڑھائی گئی ہے وہ 45سے 50دن قبل عالمی منڈی سے 65سے 70امریکی ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا گیا تھا۔ اس کا ایک لیٹر پٹرول پمپ پر اب321روپے میں بیچنے کا واجب جواز موجود نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ذخیرہ اندوزوں نے اپنے پاس موجود پٹرول بازار تک پہنچانے میں تاخیری حربے اختیار کرنا شروع کردیے۔ تاخیری حربوں کی بدولت ملک کے کئی شہروں سے یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ وہاں موجود پٹرول پمپوں کے باہر خریداروں کی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔ طلب گاروں کے ہجوم سے گھبراکر کئی پٹرول پمپوں نے ہر خریدار کو دس سے زیادہ لیٹر فروخت کرنے سے انکار بھی شروع کردیا۔ یوں آئندہ 28سے 30دنوں تک پٹرول کا ذخیرہ ہونے کے باوجود ملک بھر میں اس کی قلت اور نایابی کی فضا بنادی گئی۔
سرکار مائی باپ اپنے بے پناہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں عبرت کے نشان بناسکتی تھی۔ پنجابی کا ایک محاورہ مگر سمجھاتاہے کہ بھینسیں ایک دوسرے کی بہنیں ہوا کرتی ہیں۔ تیل درآمد کرنے والے اجارہ دار سیٹھ اور پٹرول پمپ مالکان کی اکثریت حکمران اشرافیہ ہی کے خاندان، تھے۔ ان پر قابو پانے کے لیے حکومت متحرک کیوں ہوتی۔ عام صارف کو نظر بظاہر پٹرول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اس کے فی لیٹر قیمت میں یکمشت 55روپے اضافے کا اعلان کردیاگیا۔ منافع خوروں کی چاندی ہوگئی۔ وہ مگر گھبرا، گئی۔
بہتی گنگا میں لیکن حکومت نے بھی ہاتھ دھوئے ہیں۔ جو پٹرول ذخیرہ اندوز کے پاس اب تک موجود ہے اسے پٹرول پمپ پر تقریباً 158روپے فی لیٹر کے حساب سے پہنچایا جائے گا۔ حکومت اس پر فی لیٹر کے حساب سے 123روپے حاصل کرے گی۔ ڈیلیوری اور پٹرول درآمد کرنے والوں کو 15روپے فی لیٹر کمیشن کی صورت ملے۔ اضافی 25روپے ملک کے ہر پٹرول پمپ پر مساوی قیمت یقینی بنانے کے لیے چارج ہوں گے۔ یوں میں اور آپ یکمشت اپنی محدود آ مدنیوں سے 55روپے اضافے کے بوجھ کا سامنا کریں گے۔ ہم پر نازل ہوا عذاب مگر پٹرول پمپ پر ہی ختم نہیں ہوجائے گا۔ پٹرول کی قیمت میں ہوا اضافہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں عیاں ہونے کے علاوہ ہمارے گھروں میں ماہانہ آئے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں ہوگا۔
آبنائے ہرمز نے تیل کی قیمت ہی کوناقابل برداشت نہیں بنایا ہے۔ قطر نے اپنے ہاں ایران سے پھینکے میزائلوں کے بھٹک جانے کی وجہ سے ہوئے نقصان کی پیش بندی کے لیے گیس کی ترسیل کے تمام معاہدے یکطرفہ طورپر منسوخ کردیے ہیں۔ اس کی وجہ سے سلنڈروں میں میسر گیس کی نایابی یقینی ہے۔ ہمارے گھروں میں پائپ لائنوں کے ذریعے آنے والی گیس بھی چولہوں کے لیے ہمہ وقت میسر نہیں ہوگی۔ گیس لوڈشیڈنگ کے طویل وقفوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ گیس کی پہلے ہی سے ناقابل برداشت ہوئی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی یقینی ہے۔
ہمارے حکمران مگر مصر ہیں کہ ہم پر نازل ہوئے عذاب کا انھیں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ مشکلات کے جس بھنور میں ہم خود کو گرفتار ہوا محسوس کررہے ہیں اس کا واحد ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مسلط کیا بلاجواز حملہ ہے۔ کاش ہمارے ہاں معیشت پر جناتی انگریزی میں طویل مضامین لکھنے والوں میں کوئی امریتا سین بھی ہوتا جو ہم جاہلوں کو یہ سمجھانے کی ہمت دکھاتا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے آئندہ 28سے 30دنوں تک پٹرول کی وافر ذخائر کی موجودگی کے دعوئوں سے ہمیں مسلسل تسلی دینے والی حکومت نے پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں یکمشت 55روپے اضافے کا فیصلہ کیوں کیا۔ ذخیرہ اندوزوں کی طرح اس نے بھی پہلے سے خریدے سٹاک پر لیوی کے ذریعے ہم پر مزید بوجھ کیوں ڈالا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ محاصل کے نام پر جو رقوم جمع کرنے کا آئی ایم ایف سے وعدہ ہوا تھا وہ پورا کرنا مشکل ہورہا تھا اور ایف بی آر کی برتی مجرمانہ غفلت وکوتاہی کی سزا پٹرول صارفین پر ڈال دی گئی ہے۔