Wednesday, 24 June 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Musalsal Zawal Ki Zad Mein Aaya Bartania

Musalsal Zawal Ki Zad Mein Aaya Bartania

مشن ہائی سکول رنگ محل لاہور میں پرائمری جماعتوں سے گزرتے ہوئے یہ سیکھا تھا کہ برطانیہ کا اصلی اور نسلی گورا جذبات سے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔ مردوں کے بارے میں تو خاص طور پر یہ فقرہ یاد رہا کہ "Men Don't Cry (مرد روتے نہیں)"۔

عمر کے آخری حصے میں پیر کی دوپہرکھانے کے قریب سوشل میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم اسٹارمر مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ میز پر بیٹھنے سے قبل لہٰذابی بی سی لگالیا۔ روٹی کا پہلا نوالہ منہ میں ڈالا تو وزیر اعظم کی براہ راست دکھائی تقریر کا آغاز ہوگیا۔ برطانوی سیاست میں کسی بھی نوعیت کی دلچسپی نہ رکھنے کے باوجود اسے بغور سننے کو مائل ہوا اور شدید حیرت اس وقت ہوئی جب تقریر ختم کرنے کے قریب اسٹارمر کی آواز فرطِ جذبات سے بھرا گئی۔

سیاست کی بدولت وہ بیوی اور بچوں کو مناسب وقت نہیں دے پایا تھا۔ وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کے بعد اس نے خاندان کو نظرانداز کئے جانے کا کفارہ ادا کرنے کا عہد باندھا۔ مائیک سے دور ہوتے ہی بیوی کو گلے لگایا اور اس کا ہاتھ تھامے برطانوی وزیر اعظم کے گھر کی جانب چل پڑا۔ وزیر اعظم کی سرکاری قیام گاہ کے باہر نصب بند دروازے پر 10نمبر لکھا تھا۔ جس گلی میں یہ مکان ہے اسے Downing Street پکارا جاتا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس نام نے لیکن مجھے انگریزی کا لفظ (Down)یا ددلایا۔ اسٹارمر کی جذبات سے مغلوب ہوتی آواز اور برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری قیام گاہ کے ایڈریس نے (Down)کے تناظر میں زوال کے لفظ پر غور کو مجبور کردیا۔ پیغام یہ ملا کہ برطانیہ جو آج سے فقط سو برس قبل تک ایک ایسی سلطنت تھا جہاں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب مسلسل زوال کی زد میں آچکا ہے اور عروج کے بعد زوال سے افراد ہی نہیں اقوام کے لئے بھی مفر ممکن نہیں۔

ربّ کا صد شکر کہ پاکستان کے "سیاستدان" سیاست چھوڑ کر "ہائی برڈ" نظام کے مشینی چوزے بن چکے ہیں۔ میرے اور آپ کے ووٹوں سے مبینہ طورپر منتخب ہوئے اراکین اسمبلی نے ایک قانون منظور کیا۔ وہ قانون ٹیک کمپنیوں، موبائل فونز کو جدید تر بنانے کے لئے درکار ٹاور کو ترجیح کے مطابق کسی بھی عمارت پر لگانے کا اختیار دیتا تھا۔ وہ زمین جو میری بیوی کو ورثے میں ملی اور جس پر ہم دونوں نے عمر بھر کی محنت کے بعد بچائی رقم کی آخری پائی خرچ کرکے کرائے کے بوجھ سے نجات کے لئے جومکان بنایاتھا لب سڑک واقع ہونے کی وجہ سے اگر فائیو جی ٹیکنالوجی کی سہولت کے لئے لگائے ٹاور کی تنصیب کے لئے کسی ٹیک کمپنی کو پسند آجائے تو میں انکار کے اختیار سے اس قانون کے مطابق محروم ہوجاتا۔ ٹاور کی تنصیب کی اجازت سے انکار ایک حوالے سے گویا "بغاوت" قرار دی جاتی۔ اس کی پاداش میں پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑسکتا تھا۔

میرے اور آپ کے ووٹوں سے مبینہ طورپر براہِ راست منتخب ہوئے نمائندوں کی جانب سے منظور ہوا قانون جب بالواسطہ طورپر منتخب ہوئے سینٹ میں آیا توپیپلزپارٹی کی پلوشہ خان نے مسلم لیگ کے دو سینیٹروں -سعدیہ عباسی اور افنان- کے ساتھ مل کر مزاحمت دکھائی۔ ان کی مزاحمت سے چوکنا ہوئے صحافیوں کو وزراء￿ اور سرکاری ترجمان "جہلا" پکارتے رہے۔ جدید تقاضوں سے ناآشنا جاہل جو قوم کو ابلاغ کے جدید ترین ذرائع سے دور رکھنا چاہ رہے ہیں۔ "جاہل صحافی" قومی اسمبلی سے منظور کروائے قانون کی دلائل کے ساتھ مخالفت میں ڈٹے رہے تو وزیر اعظم صاحب نے مذکورہ قانون پر نظرثانی کے لئے ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔

وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ صاحب مذکورہ کمیٹی کے قیام کے بعد قومی اسمبلی سے باقاعدہ منظور ہوئے قانون میں "چند غلطیوں" کا اعتراف کررہے ہیں جن کا تدارک لازمی ہے۔ وزیر قانون کی جانب سے بعداز وقوعہ برتی انکساری اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی کہ میرے اور آپ کے ووٹوں سے مبینہ طورپر براہ راست منتخب ہوئے اراکین قومی اسمبلی نے اپنے روبرو رکھے قوانین کے مسودے کوبغور دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ان کا ایک لفظ پڑھے بغیر "منظور ہے -منظور ہے" کی صداؤں سے انہیں منظور کردیتے ہیں۔ ہماری خوش بختی کہ اتفاقاََ قومی اسمبلی سے منظور ہوئے قانون کی خامیوں پر چند اراکین سینٹ کی نظر پڑگئی اور ہم دورِ حاضر میں "ٹیک کمپنیوں " کے نام پر ابھرتی "ایسٹ انڈیا کمپنیوں " کے جبر سے وقتی طورپر محفوظ ہوگئے۔ بکرے کی ماں مگر کب تک خیر منائے گی۔

"ہائی برڈ" نظام کی مذمت مگر کس منہ سے کروں۔ وہ جسے پارلیمانی نظام حکومت کہا جاتا ہے برطانیہ ہی نے متعارف کروایا تھا۔ اس کا متعارف کردہ نظام تاہم اب برطانیہ ہی کو گزشتہ کئی برسوں سے عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہے۔ اسٹارمر ساتواں وزیر اعظم ہے جو دس برسوں میں استعفیٰ دینے کو مجبور ہوا۔ ہمارے اقبال نے جمہوریت کے لئے "بندوں کو گنا کرتے ہیں، " والی تہمت ایجاد کی تھی۔ کئی برسوں تک میں اسی گماں میں مبتلا رہا کہ شاعر مشرق جرمن فلسفی نطشے کی تعلیمات سے مغلوب ہوکر جمہور مخالف ہوگئے تھے۔

پارلیمانی جمہوریت کی ماں یعنی برطانیہ کو گزشتہ کئی برس سے مگر سیاسی استحکام نصیب نہیں ہورہا۔ اس نے بورس جانسن جیسے مسخرے رہ نما دیئے جو بطور صحافی دیدہ دلیری سے فیک نیوز پھیلاتے رہے تھے۔ صحافت چھوڑ کر سیاست میں آئے تو برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کو تاریخی غلطی ٹھہراتے ہوئے اپنے ملک کی انفرادیت کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا۔ عوام نے ان کی تراشی داستان پر اعتبارکیا۔ یورپی یونین سے علیحدہ ہوکر برطانیہ مگر عالمی معیشت میں مزید تنہا ہوگیا۔ وہ زمانہ لوٹ ہی نہیں سکتا جب اس کے جنگی بنیادوں پر تیار کئے بحری جہاز تجارت کے نام پر ایشیاء اور افریقہ کے بے تحاشہ رقبوں تک اپنی سلطنت پھیلاتے تھے۔

لندن کے بازاروں میں گھومیں تو وہاں کی رونق بنیادی طورپر ان تارکین وطن کی عطا کردہ ہے جن کے والدین کا تعلق اس نسل سے ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی معیشت بحال کرنے پاکستان جیسے نوآزاد ملکوں سے وہاں آباد ہونا شروع ہوئی تھی۔ ان کی تیسری نسل اب پڑھ لکھ کر دن رات کی محنت سے برطانوی معیشت کو رواں رکھے ہوئے ہے۔ بورس جانسن جیسے نسل پرست مگر ان ہی تارکین وطن کو اپنی معیشت اور ثقافت کے زوال کا سبب ٹھہراتے رہے۔ اندھے تعصبات بھڑکاتے ہوئے اقتدار کے حصول کے بعد یورپی یونین سے الگ ہونے کے باوجود بورس جانسن جیسے "دیدہ ور" مگر متبادل نظام فراہم نہ کرپائے۔ مستعفی ہونے کو مجبور ہوئے۔

قدامت پرست جماعت مکمل طورپر ناکام ہوگئی تو لیبر پارٹی کا اسٹارمر کی قیادت میں شاندار احیا ہوا۔ بھاری بھر کم اکثریت کے ساتھ پارلیمان میں لوٹنے کے باوجود سیاسی استحکام وہ بھی فراہم نہیں کر پارہی۔ مجھے خبر نہیں کہ اسٹارمر کا استعفیٰ اس کے کام آسکتا ہے یا نہیں۔ لیبر پارٹی کو مگر مزید تین سال تک حکومت کرنے کا آئینی حق میسر ہے۔ اس کے نامزد کردہ وزیر اعظم اس دوران منتخب اور مستعفی ہوتے رہے تو اگلا سیزن یقینی طورپر انتہا درجے کی نسل پرست "ریفام برطانیہ" جیسی جماعت کو نصیب ہوگا۔ برطانیہ کا وقتِ زوال اس کے باوجود ٹل نہیں پائے گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais