کل وقتی صحافت اختیار کرنے کے پانچ برس بعد تک میں نام نہاد عالمی میڈیا کے چند اخبارات، ٹی وی چینل اور صحافیوں سے بہت متاثر رہا۔ دسمبر1979ء میں لیکن ماضی کا سوویت یونین اور آج کا روس افغانستان میں در آیا۔ عالمی امور کی پیچیدگیاں ان دنوں میری سمجھ سے بالاتر تھیں۔ چیزوں کو سفید یا سیاہ قرار دینے کو ترجیح دیتا۔ اس حوالے سے مجھے سوویت یونین افغانستان پر قابض محسوس ہوا۔ یہ حقیقت مگر کھل کر بیان کرنے سے گھبراتا۔
کالج داخل ہوتے ہی سوشلزم کا پرچارک بن گیا تھا۔ وطن عزیز میں ان دنوں جنرل ضیاء الحق کی حکومت بھی تھی۔ روس کی کھل کر مذمت کرنے سے یہ سوچتے ہوئے کنی کتراتا کہ لوگ مجھے ضیاء الحق کا چمچہ اور سوشلزم سے منکر ہوا "موقع پرست" سمجھنا نہ شروع ہوجائیں۔ جونیئر ہوتے ہوئے عالمی امور کے بارے میں ویسے بھی رپورٹنگ اور تبصرہ آرائی سے پرے رکھا جاتا تھا۔ شہری مسائل، ثقافتی تقریبات اور مصوری کی نمائشوں پر کالم نما تبصرہ آرائی سے دھندا چلاتا۔
اخبارات چھپنے سے پہلے ان دنوں سنسر ہونے کیلئے بھجوائے جاتے تھے۔ سنسر کو غچہ دینے کے لئے میں نے اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ "مسلم"کے لئے سفارتی تقریبات کے بارے میں کالم لکھنا شروع کردئے۔ مشاہد حسین سید نے بطور مدیرمجھے یہ کالم لکھنے کی فراخ دلی سے سہولت فراہم کی۔ اس کے ذریعے میں سفارتی تقریبات میں غیر ملکی مہمانوں کے حالاتِ حاضرہ کے بارے میں چند فقرے رپورٹ کرتے ہوئے سیاسی حوالوں سے اہم نکات بیان کردیتا۔
ان کالموں کے سبب مجھے امریکی سفارت خانے نے بھی اپنی تقریبات میں مدعو کرنا شروع کردیا۔ بسااوقات امریکہ سے آئے چند اہم مہمانوں کے لئے ہوئے دوپہر یا رات کے کھانوں میں شرکت کیلئے بھی بلالیا جاتا۔ ایسے کھانوں میں عموماََ دس سے زیادہ افراد مدعو نہیں ہوا کرتے تھے۔ سفارت کاروں کی نسبتاََ محدود محفلوں میں دو سے تین گھنٹے گزرنے کے سبب سیکھنے کو بہت کچھ مل جاتا۔ بے تکلف دوستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ ان ہی دنوں امریکہ سے سرکاری اطلاعات فراہم کرنے کے لئے ایک دفتر اسلام آباد کے بلیوایریا میں بھی قائم ہوا۔ وہاں لائبریری بھی تھی۔
امریکی اخبارات وجرائد پڑھنے اکثر وہاں جاناپڑتا۔ اسی عمارت کے ایک کمرے میں اسلام آباد میں تعینات غیرملکی اور چند پاکستانی صحافیوں کو افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف برپا "جہاد" کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دی جایا کرتی تھی۔ ایک بار مجھے بھی وہاں بلالیا گیا۔ بریفنگ شروع ہوتے ہی امریکی محکمہ اطلاعات یا وزارت خارجہ کے پریس سیکشن کا ایک کارندہ کھڑا ہوکر "میدان جنگ" سے آئی رپورٹیں پڑھنا شروع گیا۔ دیوار پر لٹکائے افغانستان کے نقشے پر سوٹی جماتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ دفاعی اعتبار سے اس مقام پر "مجاہدین" نے کتنے کمیونسٹ فوجی ماردیئے ہیں۔ جو معلومات اس نے فراہم کیں چند ہی لمحوں بعد امریکہ اور برطانیہ کی سرکاری نیوزایجنسیوں کے توسط سے دنیا بھر میں اشاعت کے لئے پھیلادی گئیں۔
مجھ سادہ لوح کو استادوں نے سکھایا تھا کہ خبردینے سے پہلے رپورٹر کے لئے کم از کم تین ذرائع سے تصدیق درکار ہے۔ تصدیق میسر ہوجانے کے باوجود آپ کو اس فریق کی رائے جاننے کی بھی ایماندارانہ کوشش کرنی چاہیے جس کے جنگ میں بھاری بھر کم نقصانات کا ذکرہورہا ہے۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ اسلام آباد میں امریکی پریس سیکشن کے ایک درمیانے درجے کے کارندے کی فراہم کردہ معلومات کو اے پی، رائٹر اور اے ایف پی جیسے بڑے ناموں نے ہوبہو کیوں چھاپ دیا ہے۔ پاکستان کے اخباروں میں امریکی پریس سیکشن کے "افغان جہاد" کے بارے میں دی گئی بریفنگ کا ہوبہو چھپ جانا اگرچہ میں سمجھ سکتا تھا۔ پاکستان مذکورہ جہاد میں "فرنٹ لائن" کا کردارادا کررہا تھا اور اس ضمن میں امریکہ اور اس کے اتحادی ہمارے مہربان سرپرست تھے۔
"افغان جہاد" کے حوالے سے کئی برسوں تک پھیلے ذاتی تجربے کی بدولت پہچان لیا کہ "آزاد صحافت" محض ایک واہمہ ہے۔ "عالمی میڈیا" کے دھانسو نام اور ادارے سامراجی ایجنڈے کی تکمیل ہی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ کبھی کبھار بلکہ دیانتداری سے یہ بھی محسوس کرتا کہ پاکستان جیسے غریب اور آمرانہ حکومتوں کے عادی ہوئے ملکوں کے صحافی سچ بیان کرنے کے لئے عالمی سطح پر پھنے خان مشہور ہوئے صحافیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بے تاب رہتے ہیں اور اکثر اس کی قیمت بھی طویل بے روزگاری، جلاوطنی اور چندصورتوں میں لمبی سزائوں کی صورت ادا کرنا پڑتی ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں ہمارے ناصر زیدی جیسے دوستوں کو برسرعام کوڑے بھی لگائے گئے تھے۔
"افغان جہاد" کے دوران ذاتی تجربات کی بدولت "عالمی میڈیا" کی حقیقت دریافت کرنے کی تکلیف عرصہ ہوا بھول چکا تھا۔ ایران پراسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کی "عالمی میڈیا" پر کوریج دیکھتے ہوئے گزشتہ دس دن سے مگر پرانے زخم ہرے ہوناشروع ہوگئے ہیں۔ میں شاید جھکی انداز میں انہیں نظراندازکردیتا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے لیکن تواتر سے ایسی "خبریں " نمودار ہونا شروع ہوچکی ہیں جن کا واحد مقصد پاکستان کے عوام کو اس امر پر اُکسانا ہے کہ وہ اپنی حکومت کومتحارب فریقین میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے کو مجبور کریں۔ پاکستان کو گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ میں ملوث کرنے کو گھڑی یہ خبریں ہمارے کئی ساتھیوں کوبھی گمراہ کر رہی ہیں۔
موجودہ حکومتی بندوبست کے بارے میں سینکڑوں تحفظات کے باوجود میں اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ ایک غریب اور مقروض ملک ہونے کے باوجود پاکستان نے ابھی تک تقریباََ ایک ماہ سے جار ی جنگ میں نہایت ہوشیاری سے غیر جانب داری برقرار رکھی ہوئی ہے۔ فریقین کو ناراض کئے بغیر اپنائی غیر جانب داری نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ پاکستان تشریف لاچکے ہیں۔ ان کی مشاورت سے ایسا لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا ہے جو ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی یقینی بنانے کے بعد پائیدارامن کی راہ بھی ہموار کرسکے۔
پاکستان کے دارلحکومت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہونے سے عین ایک دن قبل مگرعالمی طورپرنہایت مستند مانے ایک غیر ملکی اخبار (میں سوچ سمجھ کرنام نہیں لکھ رہا) نے یہ "خبر" چھاپی ہے کہ اسے "ایک" (جی ہاں فقط ایک) پاکستانی افسر کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ ہمارا تاریخی اعتبار سے بہت ہی قریبی تصور ہوتا ایک ملک پاکستان کی ثابت قدمی سے اپنائی غیر جانبداری سے خوش نہیں ہے۔ فقط ایک گمنام افسر کی گفتگو کو صفحہ اوّل کی خبر بنادینے کی سہولت پاکستان میں کسی تیسرے درجے کے اخبار یا نشریاتی ادارے کو بھی میسرنہیں۔ عالمی سطح پر مستند گردانے ایک غیر ملکی اخبار نے مگر فقط ایک گمنام افسر کی گفتگو کو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پڑھی اور زیر بحث آئی "خبر" بنادیا ہے۔
ایران کے حوالے سے بھی پاکستان کی "خفگی" ایجاد کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس تناظر میں گھڑی چند خبروں کو تہران نے سرکاری طورپر فیک ٹھہرایا۔ آگ مگر مسلسل بھڑکائی جارہی ہے۔ پاکستان کو فیک نیوز کے انبارسے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ جنگ میں کسی ایک فریق کی حمایت میں بلاسوچے سمجھے کود پڑے۔ عمر کے آخری حصے میں صحافت کو جسے بہت چائو سے جوانی میں بطور پیشہ اپنایا تھا گھٹیا پراپیگنڈہ ٹول میں بدلتا دیکھ کر جی بہت دُکھی محسوس کررہا ہے۔