Tuesday, 03 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Regime Change: Iran Mein America Aur Israel Ka Bunyadi Hadaf

Regime Change: Iran Mein America Aur Israel Ka Bunyadi Hadaf

سفارت کاری کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے میں ایک لمحے کو بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ امریکا اور ایران کے مابین معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو دائمی امن کی جانب دھکیلنا ہوتا تو امریکی صدر اسرائیلی وزیر اعظم کو غزہ کے حوالے سے بنائے بورڈ آف پیس، کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہونے کو مجبور کرتا۔ نیتن یاہونے مگر مذکورہ اجلاس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل واشنگٹن آنے کو ترجیح دی اور بورڈ آف پیس کی تاسیسی دستاویز پر دستخط کردیے۔ اس کے پہلے ا جلاس سے البتہ غائب رہا۔

عالمی امور پر علمی حوالوں سے نگاہ رکھنے والے میرے کئی دوست یہ محسوس کرتے رہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جان بوجھ کر بورڈ آف پیس کے ابتدائی اجلاس میں شرکت سے روک دیا۔ مقصد اس کا پاکستان سمیت کئی اہم اسلامی ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کے علاوہ دیگر اعلیٰ سطحی نمائندوں کو اس شرمساری سے بچانا تھا جو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں اس کے ساتھ ایک چھت تلے بیٹھنے کی وجہ سے نمایاں ہوتی۔ سازشی ذہن سے سوچیں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بورڈ آف پیس کا افتتاحی اجلاس دھوکا دہی کی مہاواردات تھی۔ غزہ میں مستقل امن اور وہاں معمولاتِ زندگی کی بحالی کی کاوشوں اور وعدوں نے لوگوں کے دل میں امید جگائی کہ آٹھ جنگیں رکوانے کے مسلسل دعوے کرنے والا امریکی صدر ایران کے ساتھ بھی مذاکرات کے ذریعے پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔

بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے چند ہی روز بعد مگر اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے فاکس نیوز سے جدا ہوکر امریکا کو دوبارہ عظیم، بنانے کے خواب دیکھنے والوں کی ترجمانی کے لیے ٹکر کارلسن کے بنائے یوٹیوب چینل کے لیے ایک انٹرویو دیا۔ اس کے دوران نہایت ڈھٹائی سے امریکی سفیر نے مہااسرائیل، کے قیام کو مذہبی فریضہ، ٹھہرایا اور اس ضمن میں اردن اور عراق کی زمین ہتھیانے کے علاوہ سعودی عرب کے چند حصوں کو بھی اس میں شامل کرنے کو واجب قرار دیا۔ ٹرمپ یا اس کے وزیر خا رجہ نے مذکورہ سفیر کے خیالات سے منافقانہ دوری بھی اختیار کرنے کی کوشش نہ کی۔ اسرائیل اور اس کے مشرقِ وسطیٰ میں یک وتنہا فوجی قوت قرار پانے کی خواہش کو یوں سرپرستی فراہم کردی گئی۔

سفارت کاری کا تاریخی ماہر ہوتے ہوئے ایران نے بھی امریکا سے مذاکرات کرتے ہوئے حیران کن لچک دکھائی۔ اس کے وزراء اور مذاکرات کاروں نے تمام تر توجہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر مرکوز رکھی۔ بارہا دہراتے رہے کہ ان کے روحانی رہنما نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری حرام قرار دے رکھی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا حصول لہٰذا ایران کا حتمی ہدف نہیں ہے۔ وہ توانائی اور صحت عامہ کے حوالے سے جدید ترین متبادل ذرائع ڈھونڈنے کے لیے یورینیم کی افزودگی کرنا چاہ رہا ہے۔ امریکا اور دنیا کی تسلی کے لیے وہ افزودگی کی سطح کو چارفیصد سے بھی کم پر لانے کو آمادہ ہوگیا۔

نظر بظاہر شکست خوردہ لچک دکھاتے ہوئے ایران ٹرمپ کے دبائو کے سامنے ہتھیار ڈالتا محسوس ہوا۔ نہایت مہارت سے مگر ایٹمی پروگرام پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اس نے اپنے میزائل پروگرام کو زیر بحث لانے کی گنجائش فراہم نہ کی۔ اسرائیل مگر قلیل مدتی تناظر میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے کہیں زیادہ اس کے میزائلوں سے خوف کھاتا ہے۔ نیتن یاہو ان کی وجہ سے اپنے ملک کی بقاء کے بارے میں دہائی مچانا شروع ہوگیا۔ واضح انداز میں یہ اعلان بھی کردیا کہ اگر امریکا ایران کے میزائل پروگرام کو محدود سے محدود تر کرنے میں ناکام رہا تو وہ اس کی تباہی کے لیے ازخود جارحانہ عمل اٹھانے کو مجبور ہوجائے گا۔

ٹرمپ ایران سے صلح کا واقعتا خواہش مند ہوتا تو وہ ایٹمی پروگرام پر ایران سے زیادہ سے زیادہ رعایتیں لینے کے بعد مذاکرات کو مرحلہ وار جاری رکھتے ہوئے میزائل پروگرام پر بھی کسی سمجھوتے کو پہنچ سکتا تھا۔ مذاکرات کے لیے مرحلہ وار رویہ اپنانے کے بجائے گزرے منگل کی شام امریکی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے میزائل پروگرام کو نہ صرف یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے لیے خطرناک ٹھہرایا بلکہ یہ دعویٰ بھی کردیا کہ ایران جلد ہی ایسے میزائل بھی تیار کرلے گا جو امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے اس دعویٰ پر ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا نے کماحقہ توجہ نہ دی۔ اسی باعث ہفتے کی صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہوئے حملے کے بارے میں ہم حیران محسوس کررہے ہیں۔

ہفتہ کے روز کٹریہودی دنیاوی کاموں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دن کو مگر ایران پر حملے میں پہل دکھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پہل اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹرمپ نے پہلے سے ریکارڈ ہوئی ایک تقریر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے جاری کردی۔ اس کے ذریعے وہ ایران پر حملے کے لیے اسرائیل کا شریک کار بننے کے بجائے یہ داستان سناتا رہا کہ گزشتہ 47برسوں سے مرگ بہ امریکا، کے نعرے لگانے والا ایران درحقیقت اس کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف جنگ مسلط کرنے کے بجائے ایران کے ساتھ امریکا مخالف اقدامات کا بدلہ لینا چاہ رہا ہے۔

وائٹ ہائوس لوٹنے کے لیے ڈونلڈٹرمپ اپنے لوگوں کویقین دلاتا رہا کہ وہ ماضی میں ری پبلکن جماعت سے امریکی صدر منتخب ہوئے جارج بش کی طرح لامتناہی اور غیر منصفانہ جنگوں، میں الجھنا نہیں چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ امریکی وسائل جنگوں کی نذر کرنے کے بجائے عوام کو خوش حال تر بنانے کو وقف کردیے جائیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد اس نے آٹھ جنگیں رکوانے میں بھی یقیناََ اہم کردار ادا کیا ہے۔ دائمی امن کا مگر وہ دل سے خواہاں نہیں۔ اس کے حقیقی خیالات جاننا ہوں تو امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کے حال ہی میں میونخ میں منعقد ہوئی ایک کانفرنس سے خطاب کا بغور جائزہ لیں۔

واضح انداز میں اس کی تقریر نے یہ پیغام دیا کہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کی دنیا کی طرح دورِ حاضر کو بھی اقتصادی اور فوجی اعتبار سے طاقتور ترین ملکوں کے حلقہ ہائے اثر میں بانٹ دیا جائے۔ روس اور چین کی شراکت داری میں ایک نئی طرز کے سامراجی نظام کا قیام ٹرمپ حکومت کا حتمی ہدف بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ مذکورہ ہدف کے تناظر میں ناقابلِ علاج خوش فہمی ہی یہ توقع باندھ سکتی تھی کہ امریکا ایران کے ساتھ طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کے ذریعے مستقل امن کے قیام کا خواہش مند ہے۔ بلی بہرحال اب تھیلے سے باہر آگئی ہے۔

ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کا خاتمہ ہی امریکا اور اسرائیل کی واحد ترجیح نہیں رہی۔ رجیم چینج، بھی ان کے اہداف میں سرِفہرست ہے۔ اس ارادے کے اظہار کے بعد ایرانی قیادت مجبور ہے کہ اپنی بقاء یقینی بنانے کے لیے اپنے پاس موجود ہر نوعیت کے میزائل استعمال کرے اور اس ضمن میں وہ عمل پیرا ہوا نظر آرہاہے۔ خطے میں امریکا کے عرب ممالک میں موجود اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل پھینکے گئے۔ ان کی وجہ سے تاریخی عرب-عجم، تقسیم کا احیاء امریکا اور اسرائیل کے کام آسکتا ہے۔

رجیم چینج، کے ہدف پر نگاہ مرکوز رکھتے ہوئے میں فی الوقت یہ سوچنے سے قاصر ہوں کہ فقط دور مار میزائلوں یا فضائی حملوں کے ذریعے ہی امریکا اور اسرائیل ایرانی حکومت کا خاتمہ یقینی بناسکتے ہیں۔ اس کے حصول کے لیے امریکی فوجیوں کو روحانی رہنما خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران پر زمینی حملے کرنا ہوں گے۔ صدام رجیم کے خاتمے کے لیے امریکا 2003ء کی 20مارچ کو کویت سے بصرہ کے ذریعے بغداد کی جانب سرعت رفتار انداز میں روانہ ہواتھا۔ بغداد تک پہنچے میں اسے دو ہفتے لگے۔

عراق کے مقابلے میں ایران کا رقبہ ساڑھے تین گنا زیادہ ہے۔ پاکستان سے بھی ایران جغرافیائی اعتبارسے ڈیڑھ گناہ بڑا ملک ہے۔ اس وسیع وعریض رقبے پر قابض ہونے کے لیے امریکی فوج کی بھاری بھر کم تعداد درکار ہوگی۔ بری فوج کے استعمال کے بغیر ایران میں پھیلائی تباہی فقط اس ملک ہی میں نہیں بلکہ ایران کے ہمسایہ ممالک میں بھی طویل مدتی ابتری وانتشار بھڑکانے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں کر پائے گی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais