"تازہ ترین" سے آگاہ رہنے کی لت نیند سے بوجھل آنکھوں کو بھی بتیاں بجھانے سے قبل سوشل میڈیا کا پھیرا لگانے کو مجبور کرتی ہے۔ پیر کی رات اس کوچے میں گیا تو میرے ایکس اکائونٹ پر خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کی تصاویر کا انبار تھا۔ تحریک انصاف کے ایک کارکن کی پولیس کی مبینہ زیادتی کی وجہ سے ہلاکت کا پرسہ دینے وہ لاہور گئے ہوئے تھے۔ مقامی پولیس کے "حفاظتی اقدامات" کے سائے میں گھومنے سے انکار کردیا۔ ایک دو مقامات پر ان سے الجھے بھی۔
رات نو بجے کے قریب افواہ یہ پھیلی کہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ بعدازاں وضاحت آئی کہ ان کے ہمراہ چلنے کو مصر چند کارکنان کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ وہ ان کی رہائی کو مصر رہے۔ پولیس نے انکار کیا تو ازخود قیدیوں کے لئے مختص وین میں گھس گئے۔ اس کے ڈرائیور نے گاڑی چلادی تو نظر بظاہر چند لمحوں بعد "دریافت" کیا کہ سہیل آفریدی بھی ڈالے کے عقبی حصے میں موجود ہیں۔ انہیں شہر کے ایک اور مقام پر منت سماجت کے بعد وین سے اتاردیا گیا۔
اصل واقعہ کیا ہے اس کی تفصیلات رپورٹنگ کے روایتی تقاضوں کے مطابق کہیں بیان نہ ہوئی تھیں۔ بارہا دو ویڈیوز ہی ایکس پر آپ لوڈ ہوتی رہیں۔ ایک میں ان کے "حراست" میں لئے جانے کی کہانی نشر ہورہی تھی۔ دوسری تحریک انصاف کے حامی نہیں بلکہ مخالفین نہایت فخروانبساط سے پوسٹ کررہے تھے۔ اس ویڈیو میں جواں سال وزیر اعلیٰ لاہور کے ایک مشہورچوک کے قریب سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ٹریفک مگر انہیں نظرانداز کرتے ہوئے رواں دواں ہے۔ تحریک انصاف کے مخالفین کی جانب سے اس ویڈیو کو مسلسل پوسٹ کرنے کا مقصد یہ پیغام اجاگر کرنا تھا کہ زندہ دلانِ لاہور نے تحریک انصاف کی "انتشاری اور فسادی سیاست" کو رد کردیا ہے۔ میڈیا میں پاکستان کی مقبول ترین جماعت مشہور ہوئی تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ کو اسی باعث لاہور کا کوئی رہائشی پہچانتے ہوئے بھی نظرانداز کرتے ہوئے گزرگیا۔ ان کے گرد جمع ہوکر یکجہتی کے اظہار سے گریز کو ترجیح دیتا رہا ہے۔
اس کالم کے دیرینہ قاری بخوبی جانتے ہیں کہ یہ خاکسار تحریک انصاف کی سیاست کا اس کی مقبولیت کے انتہائی زمانوں میں بھی مداح نہیں رہا۔ اپنے تحفظات کا اظہار ڈٹ کر بیان کرتا رہا ہوں۔ اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر چھائے عاشقان عمران کی پھیلائی تہمتوں سے ذات پر بے تحاشہ دھبے بھی برداشت کئے۔ 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران حکومت کے دور میں اپنی گستاخیوں کی سزا بھی بھگتی۔ سچی بات مگر یہ ہے کہ اپنے آبائی شہر لاہور میں خیبرپختونخواہ کے جواں سال وزیر اعلیٰ کو سڑک کنارے بے بسی کی حالت میں بیٹھا دیکھ کر مجھے افسوس ہوا۔ فیض صاحب کی "یہ شہر اداس"، والی غزل ذہن میں گونجنے لگی۔ بوجھل دل کے ساتھ فون بند کرکے نیند کی گولی کھاکر بتیاں بجھا کر بستر میں گھس گیا۔
سہیل آفریدی کو لاہور کی ایک سڑک کنارے پر تنہا دکھاتی تصویر کو طنزیہ فقروں کے ساتھ پوسٹ کرنے والے افراد کو غالباً اندازہ ہی نہیں کہ اگر کل کلاں ان کے چہیتے رہنما بھی اسی شہر لاہور میں سہیل آفریدی جیسے حالات کا سامنا کررہے ہوں تو ان کے گرد بھی رواں ٹریفک کا ہجوم انہیں نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جائے گا۔
سہیل آفریدی کی پیر کے روز لاہور میں ہوئی "پذیرائی" کا تمسخراڑاتے افراد یہ بھول چکے ہیں کہ ثاقب نثار کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار دیئے جانے کی وجہ سے 1980ء کی دہائی سے سیاسی اعتبار سے طاقتور سے طاقتور ترین ہوئے "فرزندِ لاہور" نواز شریف صاحب ملکی تاریخ میں تیسری بار وزیر اعظم کے منصب سے فارغ ہوئے تھے۔ فراغت کے بعد انہیں احتساب عدالت نے کرپشن کے الزامات کے تحت سزائیں سنائیں۔ جیل جانے سے مگر محفوظ رہے کیونکہ وہ اپنی دختر سمیت کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرتی بیگم کلثوم نواز کی نگہداشت کے لئے لندن جاچکے تھے۔
2018ء کے انتخابات کے قریب وہ اپنی جماعت کی انتخابی مہم کو جاندار بنانے اپنی دختر سمیت لاہور ایئرپورٹ اترے تو انہیں وہیں سے گرفتار کرکے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچادیا گیا۔ انتخابی مہم سے ان کی عدم موجودگی نے عمران خان کے لئے وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے کی راہ بنائی۔ ان ہی کے دور اقتدار میں لیکن "خاموش رابطوں " کے نتیجے میں ایک ڈیل ہوئی۔ جو ڈیل ہوئی اس کے تحت نواز شریف صاحب نے "ووٹ کو عزت دو" کا نعرہ فراموش کرتے ہوئے لندن جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں قیام پذیر ہوگئے تو اپنی جماعت کو ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال توسیع کی حمایت میں ووٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا۔ پرانے دور کی محلاتی "ڈیلوں " کے تحت ان کی دختر مگر لاہور ہی میں رہیں۔ ان کی وطن موجودگی درحقیقت نواز شریف کے ساتھ ہوئی ڈیل پر عملدرآمد کی ضمانت تھی۔
میں آج بھی وہ دن نہیں بھلاسکا جب عاصمہ جہانگیر کی برسی کی مناسبت سے لاہور میں ہوئے ایک اجتماع سے نواز شریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرنا تھا۔ کانفرنس کے چند منتظمین کو خوف تھا کہ عاشقانِ نواز کی کثیر تعداد اپنے محبوب قائد کا خطاب سننے اس ہال پر دھاوا بول سکتی ہے جہاں یہ خطاب دکھائے جانا تھا۔ ان کے "دھاوے" سے محفوظ رہنے کے لئے ہوٹل کے باہر سڑک پر تین سے چار بڑی سکرینیں لگادی گئیں۔ رپورٹر کے تجسس کے ہاتھوں بے بس یہ قلم گھسیٹ نواز شریف کے لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے ہوئے خطاب کو کانفرنس ہال میں بیٹھ کر سننے کے بجائے ہوٹل سے نکل کر سڑک کنار ے نصب سکرین کی "پذیرائی" کا جائزہ لینے لگا۔ ان کے خطاب کے دوران مگر ٹریفک رواں رہی۔
گنتی کے قابل چند افراد بھی "فرزند لاہور" کا خطاب سننے کے لئے نہ رکے۔ وقت قصہ مختصر بہت ظالم ہوا کرتا ہے۔ کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ لاہور میں سہیل آفریدی کی بے بسی اور تنہائی درحقیقت پٹرول اور ڈیزل کی ہر روز بڑھتی قیمتوں سے بوجھل دلوں میں ہمارے سیاسی تماشوں کے بارے میں شدت سے بڑھتی ہوئی بے اعتنائی ہے۔ سیاسی عمل کو ہر صورت زندہ رکھنے کو بے قرار ذہن اس کے بارے میں تحریک انصاف سے ہزاروں اختلافات کے باوجود دلشاد محسوس کر نہیں سکتا۔