اپنی وفات سے چند ہفتے قبل عرفان صدیقی صاحب نے مجھے قاصد کے ہاتھ بند لفافے میں ایک خط بھجوایا تھا۔ سینٹ کے لیٹر پیڈ پرہاتھ سے لکھے خط میں شفیق استاد کی طرح انہوں نے میری تحریروں میں مایوسی کے غلبے کا ذکر کرتے ہوئے میری اس سوچ سے اتفاق کیا کہ گزشتہ چند مہینوں سے یہ کالم حقائق کو اپنے عنوان کے مطابق برملا بیان کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ میں اس کا عنوان بدلنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے زیرِ لب تجویز کیا۔
مرحوم کے لکھے خط نے چونکادیا۔ وہ مسلم لیگ (نون) سے عملی طورپر صحافت کو چھوڑ کر نتھی ہوچکے تھے۔ اسی باعث عمران حکومت کے دوران توہین آمیز اندز میں گرفتار بھی ہوئے۔ وقت بدلا تو ایوانِ بالا کے رکن بنادئے گئے۔ ٹی وی پروگراموں میں اکثر انہیں حکومتی پالیسیوں کے دفاع کے لئے مدعو کیا جاتا۔ مجھے امید تھی کہ جو خط ان کی جانب سے وصول ہوا ہے مجھے مایوسی سے اجتناب کا مشورہ دے گا۔ یقین دلائے گا کہ جس حکومت کا وہ ٹی وی سکرینوں پر ٹھنڈے مگر مدلل انداز میں دفاع کرتے ہیں مجھ جیسے بے ہنر لکھاریوں سے بھی حقائق کو برملا بیان کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ دل میں آئی بات کو لیکن وہ زیرِ لب بیان کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
پھنے خانی کا بھرم برقرار رکھنے کے شوق میں اس کالم کا عنوان بدلا نہیں۔ کئی مہینوں سے مگر صبح اٹھتے ہی بچ بچاکر اشاروں کنایوں میں غیر ممنوعہ علاقوں میں گھسے بغیر ایسے موضوعات پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں جو آپ کو بے زار نہ کریں۔ قارئین کے ردعمل سے اندازہ ہوا کہ زراعت سے جڑے موضوعات شہری متوسط طبقے کے مقابلے میں قصبات میں آباد افراد کی اکثریت کو بہت پسند آتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی سیاست کو قطعاََ نظرانداز کرتے ہوئے بھارتی بنگال کے بارے میں مسلسل لکھا جہاں زندگی میں پہلی بار 1984 میں گیا تھا۔ مغربی بنگال کے بارے میں لکھے کالموں کی حیران کن حد تک پذیرائی ہوئی ہے۔ قارئین ایک بارپھر مطالبہ کرنا شروع ہوگئے کہ سب کچھ بھلاکر ایک کونے میں بیٹھ جاں اور مرنے سے پہلے یاد داشتوں پر مشتمل کتاب لکھ ڈالوں۔ انہیں سمجھانا بہت مشکل ہے کہ روزانہ لکھنا اور ہفتے کے چار دن ٹی وی سکرین پر بولنا چھوڑ دیا تو کھائیں گے کیا؟
صبح اٹھتے ہی عرفان صدیقی صاحب کی یاد اس لئے آئی کیونکہ گزشتہ تین دنوں سے ٹی وی چینلوں کے ایک گروہ اور سوشل میڈیا پر فقط ایک ہی کہانی چھائی ہوئی ہے۔ لاہور سے چلی اس کہانی کے حوالے سے ذہن میں آئے چند سوالات آپ کے روبرو رکھنا چاہتا تھا۔ یہ کالم لکھنے سے قبل گھر آئے اخبارات کے پلندے پر نگاہ ڈالی تو وہ خبر جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچارکھی ہے اخبارات کے کونے کھدروں میں محض ایک جرم کہانی کی طرح بیان ہوئی تھی۔ میں نے لہٰذا باجو کی گلی سے نکل جانے کا فیصلہ کرلیا۔
ایسا کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کردی کہ جس کہانی کا ذکر کرنا چاہ رہا تھا اس کا ذکر جمعرات کی شام ایک مشہور ٹی وی چینل کی سکرین پر چلے ایک ٹکر سے شروع ہوا تھا۔ ٹکر سے بات بالآخر سکرینوں پر سنسنی خیز پھٹوں کے ذریعے بتائی خبر تک پہنچی۔ ٹکر سے چلی بات کو سوشل میڈیا پر چھائے حق گو افراد نے اچھالنا شروع کردیا۔ دریں اثنائمجھ بے وقوف کے ذہن میں مذکورہ کہانی کے حوالے سے ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے شوروغوغا کی بدولت کچھ خیالات آئے۔ جناتی انگریزی میں انہیں اپنے ایکس اکانٹ پر بیان کردیا۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات 12:48 پر لکھے اس پیغام کو یہ کالم لکھنے تک ایک لاکھ دس ہزار لوگ دیکھ چکے تھے۔ شاعری سے مستعارلی زبان سے جو پیغام لکھا اس کا اردو میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی تو یہ صورت بنی: سایوں سے ابھرتی سرگوشیاں اب بلند آواز میں بیان ہورہی ہیں۔ غیبت بھری کہانیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ چھپے راز روشنی میں آنے کو بے تاب ہیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ نتائج کے لئے تیار رہیں کیونکہ ان کے وار ہمیشہ توقع سے کہیں زیادہ شدید ہوتے ہیں۔
ٹھوس واقعات کے تناظر میں لکھا یہ پیغام برملا نہیں رزق کے پجاری اور زندگی گزارنے کے لئے نوکری بچانے کو مجبور شخص کی آئیں، بائیں، شائیں تھی۔ میرے چند نوجوان ساتھیوں نے جو میرے جی دار ماضی سے آگاہ ہیں مگر اس پیغام کو استعاروں سے بھری نظم کی طرح پڑھا اور لوگوں کو اس کی تشریع بیان کرتے ہوئے حکومتی بندوبست میں دھماکے دار تبدیلیوں کی توقع دلوانا شروع کردی۔ میری آئیں، بائیں، شائیں سے ٹھوس پیغامات دریافت کرنے والے مہربانوں کی شفقت نے مجھے ہم کہاں کے دانا تھے۔ کس ہنر میں۔۔ والی عاجزی دکھانے کا حوصلہ فراہم نہ کیا۔ چپ کرکے دڑ وٹ گیا۔ مجھ سے کہیں زیادہ باخبر اور متحرک دوست مگر خبردار کررہے ہیں کہ میری آئیں، بائیں، شائیں سے لوگ جو مطلب نکال رہے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔
مسیحی مذہب میں ایک کیتھولک مسلک بھی ہے۔ اس مسلک میں طلاق نہیں ہوتی۔ مجھے بتایا جارہا ہے کہ ان دنوں کا جو ہائی برڈ حکومتی بندوبست ہے وہ کیتھولک مسلک کے تحت باندھا رشتہ ہے۔ اسے برقرار رہنا ہے۔ میں نے تاہم جو پیغام لکھا تھا وہ کیتھولک دِکھتے بندھن کے ٹوٹنے کی خبر نہیں دے رہا تھا۔ اس بندھن میں لیکن بساطِ اقتدار پر اس وقت کئی طاقتور ترین مہرے بھی موجود ہیں۔ جمعرات کی شام سے جو خبر گردش میں ہے وہ ان مہروں میں سے چند کے مقدر پراثرانداز ہوسکتی ہے۔
جمعرات کی شام سے جو کہانی چل رہی ہے اس پر توجہ دیتے ہوئے مجھے 1950ئمیں جاپان کے شہرہ آفاق فلم ساز آکیرہ کروساوا (Akira Kurosawa) کی بنائی ایک فلم یاد آگئی۔ راشومون (Rashomon) اس کا نام تھا۔ جنگل میں آباد ایک دلاور (Samuri) کو قتل کرکے اس کی بیوی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ واردات ہوجانے کے بعد مگر اس کے دوران ہوئے واقعات کو ڈاکو، مقتول کی بیوی، واردات کے وقت موجود لکڑہارا اور مقتول کی روح ایسے انداز میں بیان کرتے ہیں جن کی تفصیلات ایک دوسرے سے قطعاََ مختلف ہوتی ہیں۔ فلم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سچ وہ نہیں جو آپ کی آنکھ دیکھتی ہے۔ سچ درحقیقت وہ ہے جو کسی واقعے کے بارے میں آپ اپنی آنکھ سے دیکھی یا سنی سنائی تفصیلات کی بنیاد پر اپنے تئیں طے کرلیتے ہیں۔
جرائم پر نگاہ رکھنے والے اداروں کی جانب سے براہ راست بیان کردہ حقائق کے بجائے ذرائع کی بنیاد پر جو تفصیلات عیاں ہورہی ہیں ان کی بنیاد پر آپ اگر موجودہ حکومتی بندوبست سے اکتا چکے ہیں تو قابل قبول ورژن آپ کے لئے اس شخص کے مقابلے میں قطعاََ مختلف ہوگا جو دیانتداری سے جمعرات کی شام سے مشہور ہوئی خبر کے حقائق جاننے کا متمنی ہے۔ تماشہ مگر شروع ہوچکا ہے۔ چسکے کی ہوس اسے سنسنی خیز بنائے چلی جارہی ہے۔ زیادہ دیر تک اس کو مگر چلایا بھی جانہیں سکتا۔ نزلہ کسی نہ کسی طاقتور مہرے پر ہر صورت گرے گا۔ ویسے توقع ہمیں انصاف اور صرف انصاف کی باندھنا چاہیے۔