Friday, 06 March 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Trump Ki Qayadat Mein America Ko Dobara Azeem Banane Ki Jad o Dehad

Trump Ki Qayadat Mein America Ko Dobara Azeem Banane Ki Jad o Dehad

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط ہوئی جنگ کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھ جیسے قلم گھسیٹ سو طرح کی داستانیں گھڑنے میں مصروف ہیں۔ "امریکی غلامی" اس گماں میں مبتلا کرتی ہے کہ بالآخر ٹرمپ کی صورت امریکہ کو ایسا صدر میسر ہوا جو 1979ئسے ایران کے اسلامی انقلاب کے ہاتھوں اپنے ملک کی مسلسل پسپائی، ذلت اور رسوائی کا بدلہ لینے کو ڈٹ گیا ہے۔ "رجیم چینج" اسی کا حتمی ہدف ہے۔ اس کے حصول کے بعد ایران مسلم دنیا میں جدید جمہوریت کی عملی مثال بن کر ابھرسکتا ہے۔ آزادیٔ اظہار کی بدولت مختلف النوع خیالات سے مالا مال ملک جہاں کی خواتین اپنے مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر شاہراہ ترقی پر گامزن ہوں گی۔

"سامراج" سے برطانوی دور کی نسل سے منتقل ہوئی نفرت یہ سوچنے کو مجبور کرتی ہے کہ تقریباََ 20برس قبل افغانستان کو بھی "بنیاد پرست" طالبان سے "آزاد" کروانے کی کوشش ہوئی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لاکھوں فوجیوں کی نگرانی میں وہاں پارلیمان جیسے "منتخب ادارے" متعارف کروائے۔ عورتوں کی اعلیٰ تعلیم پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے۔ امریکی افواج کی براہ راست نگہبانی اور اربوں ڈالر خرچ کئے جانے کے باوجود جمہوری نظام مگر افغانستان میں قائم نہ ہوپایا۔ بالآخر امریکہ نے گھٹنے ٹیک دئے۔ دوحہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان طالبان کو لوٹا دیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کو پیغام یہ بھی گیا کہ امریکہ دنیا میں جمہوریت کا فروغ اپنا اخلاقی فرض شمار نہیں کرتا۔ ٹرمپ کی قیادت میں فقط امریکہ کو "دوبارہ عظیم" بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوگیا ہے۔

"جذبہ ایمانی" مگر یاد دلاتا ہے کہ گزشتہ تین صدیوں سے عالم اسلام کے دشمن مسلمان ملکوں کو تباہ وبرباد کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف آج سے سو سال قبل ریشہ دوانیوں کا منظم سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ ایک سے زیادہ "خودمختار" ملکوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ان کی زندگی اجیرن بنانے کے لئے مگر صدیوں سے دنیا بھر میں دربدر ہوئے یہودیوں کو بھی اسرائیل کے نام سے اسی خطے میں ایک ملک بھی "ایجاد" کرکے فراہم کردیا گیا۔ وہ ملک اب زبوروتوریت میں بیان ہوئے "مہااسرائیل" کے احیاء کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ ایران کی مذہبی قیادت کے خاتمے کے بغیر یہ ہدف وہ حاصل نہیں کرسکتا۔ امریکی پالیسی ساز صیہونی سازشوں کی کامل گرفت میں ہیں۔ اسی باعث ٹرمپ بھی اسرائیل کی حمایت میں ایران پر حملہ آور ہوا ہے۔

جو "نظریاتی" بنیادیں بیان کی ہیں ان میں سے کسی ایک کو چن کر اس پر ایمان رکھنے والوں کی تسلی کے لئے تجزیے نہیں جی کو خوش رکھنے کے افسانے ہی گھڑے جاسکتے ہیں۔ افسانے گھڑے بغیر سوشل میڈیا پر لائیکس اور شیئرز نہیں ملتے۔ وہ نہ ملیں تو جی نشے کے عادی افراد کے دل کی طرح اداس ہوجاتا ہے۔ قارئین کے مخصوص حلقے کو چناؤ کے بعد اس میں مقبول رہنے کے لئے داستان گوئی سے "ڈنگ ٹپانا" پڑتا ہے معلومات کا افراط اگرچہ بسا اوقات حقائق پرغور کو بھی مجبور کردیتا ہے۔

دو دن قبل تک نہایت سنجیدگی سے میں یہ سوچتا رہا کہ امریکہ کے اسرائیل کی حمایت میں ایران پر حملے کا اصل ہدف، رجیم چینج" ہے۔ اس ہدف کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اصرار کرتا رہا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اور روحانی رہ نما کی فضائی حملے کے ذریعے ہلاکت ایران میں "رجیم چینج" کے حصول میں ناکام رہے گی۔ گزشتہ 47برسوں میں ایران نے جو حکومتی بندوبست منظم کیا ہے وہ نصابی حوالوں سے کسی ایک شخصیت کو فیصلہ سازی کا حتمی منبع نہیں بناتا۔ اقتدار واختیار وہاں مذہبی، عسکری اور سیاسی قیادت پر مشتمل مثلث میں بانٹ دئے گئے ہیں۔ مذہبی قیادت مذکورہ تکون میں یقیناََ بالادست ہے۔ رہبر اعلیٰ کے منصب پر فائز شخص مگر "آیت اللہ"کے مقام تک پہنچنے کے لئے تعلیم وتربیت کے بے شمار سماج ومدارج ومراحل سے گزرتا ہے۔ مدارج ومراحل کے اس سلسلے کی بدولت رہبر اعلیٰ کا جانشین ڈھونڈنے کا بھی ایک مؤثر نظام موجود ہے جو رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد بھی عمل پیرا رہتا ہے۔

ایران کی عسکری قیادت بھی روایتی فوج سے مختلف انداز میں پروان چڑھتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے رازداری برقرار رکھنے کی خاطر اس کے مختلف شعبوں اور فیصلہ سازوں کو اپنے مخصوص اداروں میں فیصلہ سازی کے لئے لہٰذا کامل خودمختاری میسر ہے۔ ایران کی عسکری قیادت کے قتل کے بعد بھی "پاسدارانِ انقلاب" غیر مؤثر اور تتربتر نہیں ہوں گے۔ اسی باعث مصر رہا کہ ایران میں "رجیم چینج" کے لئے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی افواج سرزمین ایران بھجوانا ہوں گی۔ اسرائیل اپنی آبادی کے حقائق کے سبب زمینی اعتبار سے پاکستان سے بھی دوگنا بڑے ایران میں فوجی بھیجنے کے قابل نہیں۔

امریکہ بھی افغانستان کے بعد اس امر سے خوف کھاتا ہے۔ ایران کو جھکانے کے لئے لہٰذا فضائی حملوں پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے۔ تازہ ترین حملے مگرفوجی اہداف تک ہی محدود نہیں رہے۔ شہری آبادی اور ان کی روزمرہّ زندگی سے جڑی تنصیبات اور ادارے بھی اس کی زد میں آرہے ہیں۔ سکول اور ہسپتال نشانہ بنے ہیں۔ ایسے حملوں کے نتیجے میں ایرانی عوام کی اکثریت وہاں کی حکومت کی شدید ترین مخالف ہوتے ہوئے بھی امریکہ یا اسرائیل کو اپنا نجات دہندہ تصور کرنہیں سکتی۔ "رجیم چینج" کے بجائے ہم ایران ہی نہیں بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کو بھی کامل ابتری کے حوالے ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

روایتی اور سوشل میڈیا مگر کالم کے ابتدائیے میں بیان کئے "نظریاتی حوالوں "سے امریکہ-ایران جنگ کے بارے میں تبصرہ آرائی میں مصروف ہیں۔ دور کی کوڑیاں ڈھونڈتے ہوئے ہم قارئین وناظرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی توجہ کی طلب میں چند بنیادی حقائق بھلابیٹھے ہیں جن کا براہ راست تعلق میری اور آپ کی روزمرہّ زندگی سے ہے۔

بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں ہمارے ہاں ایران پر مسلط ہوئی جنگ سے قبل ہی 2022 سے ناقابل برداشت ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ ایران پر جنگ مسلط ہوتے ہی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے ناقابل بنادیا ہے۔ وہاں سے گزرنے کے خواہاں تیل بردار جہازوں کو دنیا کی قابل اعتبار کمپنیاں انشورنس کی ضمانت فراہم کرنے کو آما دہ نہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں گزشتہ دس دنوں سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

منگل کی رات اس کے ایک بیرل کی قیمت 85 ڈالر کو چھونے والی تھی۔ یہ قیمت مذکورہ سطح پربرقراررہی تو ہمارے ہاں چند ہی دنوں میں پٹرول کی قیمت میں کم از کم 30 سے 40 روپے کا اضافہ درکار ہوگا۔ مذکورہ اضافے کے اثرات ہماری محدود سے محدود تر ہوتی آمدنی پر انحصار کرنے والے سینکڑوں گھرانوں پر عذاب کی صورت نازل ہو ں گے۔ ریت میں سردئیے شترمرغ کی طرح مگر ہم اس جانب دیکھنے کو آمادہ ہی نہیں ہورہے۔ اپنی "نظریاتی" سوچ کے مطابق بڑھکیں لگائے چلے جارہے ہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais