Tuesday, 15 September 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Wonder Aur Delivery Boy Mein Farq Jaan Kar Geo

Wonder Aur Delivery Boy Mein Farq Jaan Kar Geo

میرے محترم دوست سہیل وڑائچ کئی مہینوں سے "ونڈر بوائے" کے ذکر میں مصروف ہیں۔ جس شخصیت کو یہ لقب دیا گیا ہے ان کے خیالات سے کاملاََ متفق نہ ہونے کے باوجود میرے دل میں چند ذاتی تجربات کی بدولت ان کے لئے یک طرفہ احترام موجود ہے۔ سہیل بھائی سے اختلاف کی جسارت کرسکتا ہوں۔ انتہائی عاجزی سے یہ قلم گھسیٹ عرض کرے گا کہ"ونڈر بوائے" کی ترکیب ایسے ہونہار بروا کے لئے استعمال ہونا چاہیے جو کسی بھی شعبے میں کوئی اچھوتا خیال متعارف کروائے۔ ٹی وی چینلوں کو شہروں کے لئے مختص اور بعدازاں 24/7سے منسلک کرکے سہیل بھائی کے "ونڈر بوائے" نے صحافتی دھندے میں یقیناََ اچھوتے خیالات متعارف کروائے تھے۔ سیاست میں لیکن وہ اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے طویل عرصے تک عبوری وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی محض ترقیاتی کاموں کی تیز رفتاری سے پہچانے گئے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کا خیال ان کے زرخیز ذہن کی پیداوار نہیں ہے۔

عمر کے آخری حصے میں داخل ہوجانے کی وجہ سے ماضی کے چند واقعات اور شخصیات کے ذکر کو مجبور ہوجاتا ہوں۔ نفرت وکدورت سے بھرے دل ماضی کے واقعات پر توجہ دینے کی عادت کا سبب مجھ بڈھے ذہن کے بنجرپن کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی دانست میں گھر کے گوشے تک محدود ہوا یہ قلم گھسیٹ مستقبل کے زائچے بنانے کے قابل نہیں رہا۔ ماضی کی حکومتوں سے لفافے لینے کی وجہ سے دورِ حاضر کے متحرک سیاسی لوگوں کی نگاہ میں وقعت واعتبار کھوبیٹھا۔ ایوان ہائے اقتدار میں براجمان لوگوں تک رسائی میسر نہیں رہی۔ اسی باعث ماضی کے قصے سناکر ڈنگ ٹپالیتا ہوں۔

اپنے دفاع میں فقط یہ عرض کروں گا کہ کار چلاتے ہوئے بیک مرر پر بھی نگاہ مرکوز رکھنا پڑتی ہے۔ فقط سامنے دیکھتے رہو تو حادثے ہوجاتے ہیں۔ اپنی تاریخ کے چند اہم واقعات دہراتے ہوئے اپنی دانست میں ممکنہ حادثوں کے بارے میں خبردار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

بات مگر "ونڈر بوائے" سے شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد سوال یہ اٹھا کہ جن صاحب کو یہ لقب دیا جارہا ہے انہوں نے کونسا اچھوتا خیال متعارف کروایا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کا ذکر چلے تو مجھے 1985ء کا برس یاد آجاتا ہے۔ آٹھ سال کے طویل مارشل لاء کے بعد جنرل ضیاء نے اس برس غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات کے انعقاد کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیاں بحال کردی تھیں۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم نامزد ہوئے تھے۔

"آتش" ان دنوں ضرورت سے زیادہ جوان تھا۔ انتہائی ڈھٹائی سے کم از کم تین وفاقی وزراء کی اس حد تک چمچہ گیری کی کہ وہ "آف دی ریکارڈ" گفتگو کے لئے مجھے اپنے گھروں کے ان کمروں میں ون آن ون ملاقاتوں کے لئے بلالیتے جو انہوں نے سرکاری کاموں یا قریبی دوستوں سے ملاقات کے لئے مختص کررکھے تھے۔ عجب اتفاق یہ ہوا کہ 1985ء کے دسمبر کے ابتدائی دنوں میں جب ان وزراء سے ملنے گیا تو ان کی میز پر سرکاری فائلوں کے ساتھ ایک ضخیم دستاویز بھی رکھی ہوئی تھی۔

صحافی اس دستاویز سے واقف نہیں تھے۔ ایک بار میں نے اس دستاویز کو د یکھنے کے لئے بلااجازت ہاتھ بڑھایا تو میرے کافی قریب ہوئے ایک سینئر وزیر نے سختی سے منع کردیا۔ بعدازاں دیگر وزراء کی میز پر اسی دستاویز کو دیکھتے ہی نہایت اعتماد سے یہ کہتاکہ "اچھا آپ تک بھی یہ دستاویز پہنچادی گئی ہے۔ " ("پہنچا" کو خطِ کشیدہ لگاکر پڑھیے گا)۔ ایک بزرگ وزیر نے فرض کرلیا کہ مجھے مذکورہ دستاویز کے مندرجات کا علم ہے۔ برجستہ سادگی سے منکشف کردیا کہ نہایت محنت سے یہ دستاویز ہمارے ملک کے لئے سیاسی نقشے تعمیر کرنے والوں نے تیار کی ہے۔ اس میں لیکن 29 نئے صوبے متعارف کروانے کی جو تجویز ہے وہ قابل عمل نہیں۔ ہم سے تو سندھ اور سرحد بھی سنبھالے نہیں جارہے۔

یاد رہے کہ سندھ میں ان دنوں ایم کیو ایم جونیجو حکومت کے لئے کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر مسائل کھڑے کررہی تھی۔ بعدازاں سہراب گوٹھ بھی ہوگیا۔ ان دنوں سرحد کہلاتے صوبے میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں ولی خان بہت متحرک تھے۔ کراچی اور سرحد میں اٹھے سوالات کی بدولت قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں اکثر طویل وتلخ مباحث ہوتے اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سپیکر کارروائی کو معطل یا ملتوی کرنے کو مجبورہوجاتا۔ ماضی کے کھنڈروں میں گھومتے ہوئے جو داستان سنائی ہے اس کا مقصد فقط یہ بیان کرنا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں کا قیام "ونڈر بوائے" کے زرخیز ذہن میں آیا اچھوتا خیال نہیں ہے۔ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں نقشے بناتے حلقوں میں یہ خیال کم از کم 1985ء سے گردش کرنا شروع ہوگیا تھا۔

ہمارے مستقبل کے نقشے سوچنے والوں کو "ونڈر" نہیں "ڈیلیوری بوائے" درکار ہوتے ہیں۔ "بوائے" کا لفظ کچھ شخصیات کے لئے استعمال کرناشاید مناسب نہیں ہوگا۔ چکوال کے نواحی مگر تاریخی قصبے چوآسیدن شاہ سے راجہ منور احمد صاحب بھی صحافتی حلقوں میں 1977ء سے "ونڈر بوائے" تصور ہونا شروع ہوگئے تھے۔ جنرل ضیاء کے بلدیاتی انتخابات کا خاکہ ان کی تخلیق تصور ہوتا تھا۔ بہت رعب داب والی شخصیت ہیں۔ ان سے شناسائی اور بعدازاں احترام کا رشتہ قائم کرنے میں بہت وقت لگا۔ جہلم کے چودھری الطاف حسین ہماری آشنائی کا باعث ہوئے۔ ذہن ان کا یقیناََ نہایت زرخیز ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مگر گوشہ نشینی اختیار کرنے کو مجبور ہوئے۔

غلام مصطفی جتوئی مرحوم کو بھی 1980ء کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکادینے کے بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے رام کرلیا گیاتھا۔ ان دنوں کے وزیر داخلہ محمود ہارون کے ذریعے جتوئی صاحب سے رابطہ ہوا۔ جنرل ضیاء سے ملاقات سے قبل مگر جتوئی مرحوم نے بیگم نصرت بھٹو کی رضا مندی چاہی تھی۔ جتوئی صاحب کے ساتھ ایک سے زیادہ ملاقاتوں کے دوران جنرل ضیائنے انہیں وزیر اعظم نامزد کرنے کافیصلہ کیا جو ملک میں نئے انتخابات کی تیاری کرے۔ ٹھنڈے مزاج کے حامل ہونے کے باوجود جتوئی صاحب نے کئی کڑی شرائط منوانے کے بعد ہاں کا پیغام دیا۔

امریکہ میں لیکن نئے انتخاب کے نتیجے میں ریگن برسراقتدار آگیا اور اس نے کمیونسٹ روس کو Evil Empire (شیطانی سلطنت) پکارتے ہوئے افغان جہاد کی کامل سرپرستی کا فیصلہ کیا۔ جتوئی صاحب کی افادیت یوں ختم ہوگئی۔ اگست 1990ء میں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو فارغ کرنے کے بعد انہیں نوے دنوں کے لئے عبوری وزیر اعظم نامزد کردیا گیا۔ مرتے دم تک میرے ساتھ تنہائی میں گفتگو کرتے ہوئے مرحوم بارہا اعتراف کرتے کہ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ ان کی بدترین سیاسی غلطی تھی۔ اس میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے وہ ملک کے طاقتور حلقوں کے لئے اپنی افادیت کھوبیٹھے۔

ونڈر کی جگہ "ڈیلیوری بوائے" کا لقب ایک حوالے سے سردار فاروق خان لغاری مرحوم کے لئے بھی استعمال کرسکتا ہوں۔ اس کی وضاحت کے لئے مگر ایک بار پھر ماضی کے کھنڈروں میں گھومنا ہوگا۔ اس سے پرہیز کرتے ہوئے آج کی دیہاڑی لگالی ہے۔ رخصت ہوتے ہوئے سہیل بھائی سے مگر درخواست ہے کہ "ونڈر" اور "ڈیلیوری بوائے" میں فرق جان کر جیو۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui