Friday, 17 April 2026
  1. Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Zillaton Ke Maare Awam

Zillaton Ke Maare Awam

حکومت کا بنیادی فرض خلقِ خدا کو مشتعل ہونے سے روکنا ہے۔ یہ فریضہ ڈنڈے کے مستقل استعمال سے نبھایا نہیں جاسکتا۔ سرکار کو مائی باپ پکارنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ذلتوں کے مارے عوام اپنے حکمرانوں سے سخت گیری کے علاوہ اس شفقت کی توقع بھی رکھتے ہیں جو بیمار بچوں کی مائیں تسلی دینے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

وہ شخص ناقابل علاج حد تک متعصب ہوگا جو یہ دعویٰ کرے کہ پاکستان ایران پر مسلط ہوئی جنگ کی وجہ سے توانائی کے بحران سے محفوظ رہ سکتا تھا۔ لوگوں کو ممکنہ بحران کیلئے تیار کرنے کے بجائے معاشی امور کے ماہر گردانے چند حکومتی ترجمان ٹی وی سکرینوں پر Panic Buying (گھبراہٹ میں ہوئی خریداری) جیسی بھاری بھر کم اصطلاحیں استعمال کرتے ہوئے عوام کو یقین دلاتے رہے کہ ہمارے ہمسائے میں چھڑی جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان محفوظ رہے گا۔ ہمیں مسلسل اعتماد دلایا گیا کہ پاکستان میں ذخیرہ ہوا تیل 28دنوں کی ضرورت کے لئے کافی ہے۔ کہانیاں یہ بھی سنائی گئیں کہ ایران پاکستان آنے والے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دے رہا ہے۔ جی کو بہلاتی کہانیوں کی تکرار کے باوجود ایک دن پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت یکمشت 55روپے بڑھادی گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی بے پناہ اضافہ کردیا گیا۔

ان دونوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کرتے ہوئے جواز یہ ایجاد ہوا کہ صارفین کی بے پناہ تعداد تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خوف سے انہیں بلاضرورت خریدکر ذخیرہ کرنا شروع ہوگئی ہے۔ تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی اصل وجہ ان کی نایابی نہیں بلکہ عوام میں بلاجواز خوف کی بنیاد پر ذخیرہ اندوزی کا رحجان ہے۔ دنیا کی نامور یونیورسٹیوں سے معاشیات کی ڈگریاں حاصل کرنے والے حکومتی ترجمان اس بھونڈے جواز کو ٹی وی سکرینوں کے ذریعے مارکیٹ کرتے ہوئے اس حقیقت سے سفاکانہ حد تک غافل سنائی دئے کہ کم آمدنی کا حامل اپنی موٹرسائیکل کے لئے کتنے دنوں کا پٹرول خرید کر کہاں اور کیسے ذخیرہ کرسکتا ہے۔ 1000-CCسے کم طاقت والی گاڑی کا مالک بھی "ذخیرہ اندوزی"کو راغب ہونہیں سکتا۔ کم آمدنی والے تنخواہ دار یا دیہاڑی دار لہٰذا مبینہ ذخیرہ اندوزی کا جرمانہ ادا کیوں کریں۔ ویسے بھی ذخیرہ اندوزی روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ وہ اسے نبھانے میں ناکام ہونے پر شرمندہ محسوس کرنے کے بجائے عوام سے ہرجانہ وصول کرتی نظر آئی۔

قیمتوں میں یکمشت اضافے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ مسلسل روابط کے انجام پر قوم کو تیل اور گیس کے بحران سے بچانے کے لئے نظربظاہر ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ ملک بھر میں بازار 8 بجے بند کردئیے جائیں گے۔ 10بجے کے بعد ریستوران کھولنابھی جرم شمار ہوگا۔ کم آمدنی والے افراد کو صوبائی حکومتیں پٹرول خریدنے کے لئے زرتعاون بھی فراہم کرنے کو آمادہ ہوگئیں۔ جو اعلانات ہوئے انہوں نے مجھ جیسے سادہ لوح پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کو قائل کردیا کہ عوام کو ایران پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے نمودار ہوئے توانائی کے بحران سے محفوظ رکھنے کے لئے جنگی بنیادوں پر حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ اس کے اطلاق سے ہماری روزمرہّ زندگی میں بھونچال رونما نہیں ہوں گے۔

رواں ہفتے کے آغاز کے ساتھ مگر اعلان کردیا گیا کہ شام پانچ بجے سے رات ایک بجے کے دوران گیس کی نایابی کی وجہ سے کم از کم اڑھائی گھنٹے مختلف وقفوں سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کرنا پڑے گی۔ جن گھنٹوں میں لوڈشیڈنگ ضروری قرار دی گئی انہیں "پیک آورز" بھی پکارا گیا۔ مجھ جیسے جاہل یہ سمجھ نہ پائے کہ دوکانیں، بازار اور ریستوران 8سے 10بجے کے درمیان بند کروالینے کے بعد محض گھریلو صارفین بجلی کی کھپت سے "پیک آورز" کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ کالم مثال کے طورپر اپریل 16بروز جمعرات کی صبح اسلام آباد میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔

فقط میں ہی نہیں اسلام آباد کے رہائشی رواں مہینے کے آغاز سے پنکھے وغیرہ چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے۔ چند دن قبل ہوئی بارشوں کی وجہ سے بلکہ رات کو سوتے وقت لوگوں کو لحافوں کی ضرورت بھی محسوس ہوئی۔ پنکھوں اور ایئرکنڈیشنرکے استعمال کے بغیر بازاروں کی بندش کے باوجود شام پانچ سے رات ایک بجے تک کے گھنٹوں کو "پیک آور" کم از کم اسلام آباد میں کن بنیادوں پر ٹھہرایا جارہا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی حکومتی ترجمان نے فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اسلام آباد کے علاوہ تاہم دیگر شہروں سے بے پناہ افراد حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے اعلان سے چند دن قبل ہی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی شکایت کرناشروع ہوگئے تھے۔ جنوبی پنجاب کے کئی شہروں سے مجھے چند علاقوں میں کئی راتیں 6سے 8گھنٹوں تک بجلی کے بغیر گزرنے کا علم ہوا۔ میرے ایک بھائیوں سے بھی عزیز دوست کے جواں سال بھائی چند دن قبل اچانک فوت ہوگئے۔ جواں سال بھائی کی جدائی سے حواس باختہ ہوئے دوست کو تسلی دینے کیلئے میں اس سے ٹیلی فون کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنا چاہتا ہوں۔ رات 6بجے کے بعد مگر اس سے موبائل فون کے ذریعے رابطہ ناممکن ہوگیا ہے اور یہ واقعہ ملتان کے قریب جلال پور شہر میں ہورہا ہے۔

موبائل اٹھاکر سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر چلے جائیں تو ملک بھر کے ہر شہر سے لوگ بجلی نہ ہونے کی دہائی مچاتے سنائی دیتے ہیں۔ حکومت اس کی وجہ گیس کی نایابی بتارہی ہے۔ اس سے قبل جبکہ ہمیں مسلسل بتایا جارہا تھا کہ قطر سے گیس کی ترسیل میں مشکلات کے باوجود حکومت گیس کے بحران کو مناسب حد تک کنٹرول کرنے کی حکمت عملی تیار کرچکی ہے۔

فقط امریکی صدر ہی نہیں دنیا کے بے شمار ممالک کے سربراہان گزشتہ چند دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ان کاوشوں کو سراہ رہے ہیں جن کے ذریعے وہ ایران کے ساتھ روابط دنیا کو اس کی ضرورت کا 20فیصد تیل اور گیس فراہم کرنے والے خطے میں دیرپاامن کے قیام کے لئے استعمال کررہی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر اسلام آباد آئے تھے اور یہاں ایران سے آئے وفد کے ساتھ 21گھنٹوں تک پھیلے مذاکرات میں حصہ لیا۔ ان کی ایرانی وفد سے ملاقات حتمی معاہدے پر منتج نہ ہوپائی۔

اس کے باوجود قوی امکانات ہیں کہ آئندہ ہفتے کا آغاز ہوتے ہی اسلام آباد ہی میں امریکہ اور ایران کے مابین دیرپا امن کی تلاش کا فیصلہ کن دور شروع ہوسکتا ہے۔ حکومتی بندوبست سے ہزاروں اختلافات کے باوجود ہمارے عوام کی اکثریت کو پاکستان کے دنیا بھر میں سراہے کردار کے بارے میں نازاں محسوس کرنا چاہیے تھا۔ بجلی نہ ہونے کے طویل گھنٹے مگر ہمیں خود پر فخر کرنے کی مہلت ہی فراہم نہیں کررہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais