Thursday, 15 October 2026
  1. Home/
  2. Qadir Khan Yousafzai/
  3. Ginti Se Aage Ka Imtihan

Ginti Se Aage Ka Imtihan

یاد کیجئے جب اٹھارہ ستمبر کی شام کوہاٹ کے پولیس کمپاؤنڈ میں اکتیس جنازے اٹھے۔ ان میں سولہ وہ تھے جنہوں نے وردی پہن کر اس مٹی کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا۔ اگلے روز اخبارات نے سرخیاں لگائیں، ٹی وی چینلوں نے ٹکر چلائے، تعزیتی بیانات جاری ہوئے اور پھر خبر آہستہ آہستہ اعداد و شمار کی ایک سطر بن کر رہ گئی۔ یہی ہمارا المیہ ہے۔ ہم لاشیں گنتے ہیں، نتیجہ نہیں نکالتے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ اب صرف اس بات کا نہیں رہا کہ حملے بڑھ گئے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس اضافے کو کس پیمانے سے ناپ رہے ہیں۔ ہر مہینے ایک نئی رپورٹ آتی ہے، ہر سہ ماہی ایک نیا جدول شائع ہوتا ہے اور ہر بار ہم اسے پچھلے مہینے سے موازنہ کرکے یا تو تشویش ظاہر کرتے ہیں یا اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔ مگر جب تصویر کو چند ہفتوں کے بجائے برسوں کے فاصلے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک ڈھلوان پر کھڑے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ زمین ہموار ہے۔ یہی گنتی کا فریب ہے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے مطابق صرف ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 حملے ہوئے جن میں 634 افراد جان سے گئے۔ ان میں سے 313 اموات اکیلے خیبر پختونخوا میں ہوئیں، یعنی ملک کی مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً نصف ایک صوبے کے حصے میں آیا۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی تیسری سہ ماہی کی رپورٹ اس سے بھی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔ جولائی سے ستمبر کے دوران ملک میں تشدد کے 385 واقعات ہوئے جن میں 1,415 جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ تعداد دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں 173 واقعات میں 556 افراد جاں بحق اور 376 زخمی ہوئے۔

یہ اعداد اپنی جگہ ہولناک ہیں، مگر ان سے بھی زیادہ چونکا دینے والی وہ خصوصی رپورٹ ہے جس کی تفصیلات 12 اکتوبر کو شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ یعنی ڈھائی برس میں خطرہ تقریباً تین گنا ہوگیا۔ یہ وہ زاویہ ہے جو ماہانہ موازنوں میں کبھی نظر نہیں آتا۔ جب ہر مہینہ پچھلے مہینے سے صرف تھوڑا سا بدتر ہو تو ذہن اسے معمول سمجھنے لگتا ہے اور معمول بن جانے والا خطرہ سب سے خطرناک ہوتا ہے۔ رپورٹ کا دوسرا انکشاف اس سے بھی گہرا ہے۔ 2026 میں ہونے والے 73 فیصد حملوں کا نشانہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے تھے۔ اس کا مطلب صاف ہے۔ دشمن عام شہری کو نہیں، ریاست کی اس دیوار کو گرانا چاہتا ہے جو شہری اور بدامنی کے درمیان کھڑی ہے۔ جب تھانے، چوکیاں اور پولیس لائنیں مسلسل حملوں کی زد میں ہوں تو اہلکاروں کا حوصلہ ہی نہیں، ادارے کی استعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔ رپورٹ نے پولیس کی صلاحیت میں کمی کی نشاندہی بھی کی ہے اور یہ وہ زخم ہے جو کسی ایک آپریشن سے نہیں بھرتا۔

پھر جنگ کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ 2024 میں صوبے میں ایک بھی ڈرون حملہ ریکارڈ نہیں ہوا تھا۔ 2026 میں ان کی تعداد 170 تک جا پہنچی اور صرف ایک سال میں 107 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ محض ہتھیار کی تبدیلی نہیں، حکمت عملی کی تبدیلی ہے۔ ڈرون سستا ہے، دور سے چلایا جا سکتا ہے اور حملہ آور کو سامنے آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہماری چوکیاں زمینی حملے روکنے کے لیے بنی تھیں، آسمان سے آنے والے خطرے کے لیے نہیں۔ اسی طرح دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بدستور بڑا خطرہ ہیں۔ 2025 میں ان کے 181 حملے ہوئے اور ستمبر 2026 تک یہ تعداد 159 تک پہنچ چکی تھی، یعنی رواں برس گزشتہ سال کا ریکارڈ توڑنے کے قریب ہے۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جدید نگرانی کا نظام کہاں ہے؟ رپورٹ بتاتی ہے کہ سیف سٹی منصوبہ آج بھی صرف پشاور تک محدود ہے۔ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور قبائلی اضلاع، جہاں سب سے زیادہ خون بہہ رہا ہے، اس سہولت سے محروم ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ جنوب میں لگی ہو اور فائر بریگیڈ شمال میں کھڑی ہو۔ رپورٹ نے سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی کو بھی ناقص قرار دیا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ الزام ہے اور اس پر ٹھنڈے دل سے غور ہونا چاہیے۔

انہی حالات کے پس منظر میں 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی منظوری دے دی۔ یہ قدم آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے دائرے میں آتا ہے۔ آئین کے تحت ایسے اعلان کو پارلیمان کے سامنے پیش کرنا اور اس کی منظوری لینا لازم ہے، اس لیے یہ معاملہ اب صرف انتظامی نہیں رہا بلکہ پارلیمانی اور سیاسی امتحان بھی بن گیا ہے۔ اس فیصلے کے حق میں دلیل مضبوط ہے۔ جب ڈھائی برس میں دہشت گردی تین گنا ہو جائے، جب ہر چار میں سے تقریباً تین حملے ریاستی اداروں پر ہوں اور جب صوبائی و وفاقی حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہو، تو غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات مانگتے ہیں۔ کمان کا ایک مرکز، وسائل کی تیز تر فراہمی اور فیصلوں میں رکاوٹ کا خاتمہ، یہ سب ایمرجنسی کے ممکنہ فوائد ہیں۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا۔ ناقدین یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ اگر مسئلہ صلاحیت کا ہے تو کیا صلاحیت گورنر راج سے پیدا ہو جائے گی؟ کیا پولیس کو ڈرون شکن ٹیکنالوجی، بہتر تربیت اور جدید آلات محض انتظامی ڈھانچہ بدلنے سے مل جائیں گے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب سیکیورٹی کے مسائل کو سیاسی کشمکش کی عینک سے دیکھا گیا تو نتیجہ کبھی امن کی صورت میں نہیں نکلا۔ اگر یہ قدم صوبے میں احساس محرومی کو بڑھاتا ہے تو اس کا فائدہ وہی قوتیں اٹھائیں گی جن کے خلاف یہ اٹھایا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایمرجنسی حل نہیں، حل تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے۔ اگر اس دوران پولیس کی استعداد بحال نہ ہوئی، سیف سٹی جیسے منصوبے متاثرہ اضلاع تک نہ پہنچے، ڈرون اور بارودی سرنگوں کے مقابلے کی ٹیکنالوجی فراہم نہ ہوئی اور سرحد پار خطرے پر وفاق اور صوبہ ایک صفحے پر نہ آئے، تو چند ماہ بعد ہم پھر ایک نئی رپورٹ پڑھ رہے ہوں گے اور ایک نئے فیصد پر حیرت کا اظہار کر رہے ہوں گے۔

ایمرجنسی کا فیصلہ درست سمت میں ایک سنجیدہ قدم ثابت ہوتا ہے تو تاریخ اسے سراہے گی۔ اگر یہ بھی سیاسی رسہ کشی کی نذر ہوگیا تو خیبر پختونخوا کی مٹی ایک بار پھر وہی سوال دہرائے گی جو برسوں سے پوچھ رہی ہے: میرے بیٹوں کا خون آخر کب تک صرف ایک عدد رہے گا؟

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui