تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں نے ہمیشہ خون، تیل اور طاقت کے کھیل دیکھے ہیں۔ لیکن آج، جب یمن کے بنجر پہاڑوں سے اٹھنے والا بارود کا دھواں خلیج کے پرتعیش شہروں کے افق کو دھندلا رہا ہے، تو خطے کی بساط پر مہرے بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ 7 اگست 2026 کو خانہ کعبہ کے سائے میں طے پانے والا "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا کا باقاعدہ اعلان ہے جہاں امریکہ کی سکیورٹی چھتری اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں اپنے خول میں سمٹ رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک فن تعمیر میں ایک زبردست اور تیز ترین تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا یہ نیٹو طرز کا دفاعی معاہدہ بظاہر تو ایک عظیم اسلامی بلاک کی نوید ہے، جس کا آرٹیکل 5 واضح کرتا ہے کہ "کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ " مگر اس کی جڑوں میں یمن کی وہ تزویراتی دلدل ہے جس نے ریاض کے معاشی خوابوں کو جکڑ رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس معاہدے کی آڑ میں یمن کی اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کا ایندھن بنے گا؟ مکہ معاہدے کا اصل مقصد جارحیت نہیں، بلکہ معاشی بقا، دفاعی خود انحصاری اور ایک مابعد امریکہ سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل ہے۔
اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے حوثی ملیشیا (انصار اللہ) کے ارتقا پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 90 کی دہائی میں یمن کے صوبے صعدہ کے پہاڑوں سے ابھرنے والی یہ زیدی شیعہ تحریک آج ایک ایسی علاقائی قوت بن چکی ہے جس نے بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ یہ تحریک ابتدا میں صدر علی عبداللہ صالح کی کرپشن اور معاشی استحصال کے خلاف ایک ردعمل تھی۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس تحریک نے امریکہ اور سعودی مخالف بیانیہ اپنایا، جس کے نتیجے میں صالح حکومت نے ان پر کریک ڈاؤن کیا۔ حیرت انگیز طور پر، حوثیوں نے چھ خونی جنگیں (2004-2010) لڑ کر نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا بلکہ گوریلا جنگ کے ان حربوں میں بھی مہارت حاصل کر لی جنہوں نے اربوں ڈالر کے مغربی ہتھیاروں سے لیس سعودی افواج کو بھی زچ کر دیا۔
2011 کی عرب بہار نے یمن میں طاقت کا جو خلا پیدا کیا، حوثیوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت خلیجی اتحاد نے چند ہفتوں کے خمار میں جس مہم کا آغاز کیا تھا، وہ آج ایک دہائی طویل ڈراؤنے خواب میں بدل چکی ہے۔ حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے سعودی عرب کے "ویژن 2030" کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان یہ جان چکے ہیں کہ کھربوں ڈالر کے نیوم (NEOM) پراجیکٹ، سیاحت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے جب تک سرحدوں پر آگ لگی ہو۔ سرمایہ کاری ہمیشہ امن کے سائے میں پنپتی ہے۔ مزید برآں، یمن میں اماراتی پالیسی کا انحراف، جہاں متحدہ عرب امارات نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کے بجائے جنوبی عبوری کونسل (STC) کی پشت پناہی کی، ریاض کے لیے اس حقیقت کو عیاں کر گیا کہ وہ اپنے قریبی پڑوسیوں پر بھی مکمل انحصار نہیں کر سکتا۔
اس کڑوے سچ کا ادراک اس وقت مزید گہرا ہوا جب واشنگٹن نے خطے سے اپنے قدم پیچھے ہٹانے شروع کیے۔ 2019 میں بقیق (Abqaiq) میں آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں نے عالمی تیل کی سپلائی کا 5 فیصد منقطع کر دیا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کوئی فوجی جوابی کارروائی نہیں کی گئی۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ "یہ حملہ سعودی عرب پر تھا، ہم پر نہیں، " مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک واٹر شیڈ لمحہ تھا۔ 2026 میں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی اور امریکی و اسرائیلی مفادات داؤ پر لگے، تب بھی ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھائیں۔ مکہ معاہدے کی تشکیل دراصل اسی امریکی دباؤ اور بے رخی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ اسی پس منظر میں مکہ معاہدہ وجود میں آیا، جو 2025 کے پاک سعودی اسٹریٹجک معاہدے (SMDA) کی ایک توسیعی اور مضبوط شکل ہے۔
یہ ایک ایسا تکون ہے جس میں سعودی عرب کا سرمایہ، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی (بالخصوص ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر) اور پاکستان کی عسکری قوت اور ڈیٹرنس شامل ہیں۔ اس معاہدے کا اصل ہدف یمن فتح کرنا نہیں، بلکہ سعودی عرب کے اندر دفاعی صنعت کو کھڑا کرنا ہے۔ ترک کمپنی بائیکر اور سعودی ملٹری انڈسٹریز (SAMI) کے درمیان "اکنجی" (Akinci) ڈرونز کی مقامی سطح پر تیاری کا معاہدہ اس کی واضح دلیل ہے، جس کے تحت 2026 تک ان ڈرونز کی 70 فیصد تیاری سعودی سرزمین پر ہوگی۔ اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جو اسلام آباد کے ایوانوں اور عالمی دارالحکومتوں میں گونج رہا ہے۔ کیا ہم ایک بار پھر پرائی آگ میں کودیں گے؟ 2015 میں پاکستانی پارلیمان نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج 2026 میں بھی یہ پالیسی اٹل ہے۔
یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ مکہ معاہدے کے آرٹیکل 5 جیسی شق کے تحت تو دستخط کنندگان پابند ہیں اور بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان، جسے سعودی کیش کی اشد ضرورت ہے، انکار کی پوزیشن میں نہیں۔ یہ خدشات بھی اپنی جگہ درست ہیں کہ اس معاہدے نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، کیونکہ انڈیا اب پاکستان کو ترکیہ کی جدید ٹیکنالوجی اور سعودی سرمائے سے لیس ہوتا دیکھ رہا ہے جس سے آئی میک (IMEC) جیسے بھارتی خواب چکنا چور ہو سکتے ہیں۔ مگر اس معاہدے کی اصل حقیقت اور اس کی حدود اگست 2026 کے جازان حملے نے کھول کر رکھ دی ہیں۔
مکہ معاہدے پر دستخط کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ محض 48 گھنٹے بعد حوثیوں نے جازان کی آرامکو ریفائنری پر حملہ کر دیا۔ کیا سعودی عرب نے معاہدے کی شق کو حرکت میں لا کر پاکستان یا ترکیہ کی فوج طلب کی؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد تینوں کی قیادت یہ بخوبی جانتی ہے کہ یہ معاہدہ ایک نفسیاتی ڈیٹرنس، سفارتی دباؤ اور دفاعی صنعت کے فروغ کا فریم ورک ہے، نہ کہ یمن کے گمنام پہاڑوں میں خونی جنگ لڑنے کا پروانہ۔ یہ معاہدہ روایتی ریاستی جارحیت کو تو روک سکتا ہے مگر گرے زون کی غیر متناسب جنگوں کے لیے نہیں۔
پاکستان کا اصل کردار ایک جنگجو کا نہیں، بلکہ ایک ناگزیر ثالث اور سفارتکار کا ہے، جس نے 2025 اور 2026 کے علاقائی بحرانوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر پاکستان یمن میں فریق بنتا ہے تو وہ تہران میں اپنا وہ سفارتی رسوخ کھو دے گا جو اسے ایک منفرد عالمی حیثیت بخشتا ہے۔