Friday, 31 July 2026
  1. Home/
  2. Qadir Khan Yousafzai/
  3. Riaz Ka Tadabbur Aur Islamabad Ka Pull

Riaz Ka Tadabbur Aur Islamabad Ka Pull

باب المندب کی تنگ گزرگاہ میں جب جولائی 2026 کی ایک دوپہر ایک تجارتی جہاز کے کپتان نے دور سے دھواں اٹھتے دیکھا تو اسے صرف ایک جہاز کا خطرہ نہیں تھا، یہ دنیا کی روٹی، تیل کے راستے کا خطرہ تھا۔ اسی ہفتے ریاض میں ایک اجلاس میں یہی نکتہ زیر بحث تھا کہ صبر کب تک اور تحفظ کب۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے سعودی عرب کی سات سالہ کہانی سمجھ آتی ہے۔ میرے نزدیک 2019 سے آج تک سعودی پالیسی کا جوہر ایک ہی ہے، صبر کے ساتھ تحفظ۔ یہ کوئی دوہرا راستہ نہیں، یہ ایک سیدھی شاہراہ ہے جس پر کبھی مصافحے کا پھول کھلتا ہے اور کبھی حفاظت کی دیوار بنانی پڑتی ہے۔

ستمبر 2019 میں بقیق اور خریص پر حملے کے بعد سعودی قیادت نے یہ جان لیا کہ ترقی کا چراغ تب ہی جلے گا جب ہوا میں بارود کی بو نہ ہو۔ اسی احساس نے ویژن 2030 کو مزید مضبوط کیا، کہ نیوم جیسے شہر سیاحوں سے آباد ہوں، بندوقوں سے نہیں۔ اسی دور اندیشی نے جنوری 2021 میں العلا میں خلیجی بھائیوں کو پھر ایک دسترخوان پر بٹھایا اور قطر سے دوریاں ختم کرائیں۔ مئی 2022 میں ترکی کے صدر کا برسوں بعد ریاض آنا اسی سلسلے کی کڑی تھا کہ مسلمان ممالک آپس میں الجھنے کے بجائے جڑیں اور پھر مارچ 2023 میں دنیا نے وہ منظر دیکھا جسے ناممکن کہا جاتا تھا، بیجنگ میں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا مصافحہ اور سفارت خانوں کا دوبارہ کھلنا، یہ کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا، یہ ریاض کے اس یقین کا نتیجہ تھا کہ بات چیت سے بھی پہرے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کو پاکستان نے سب سے پہلے سراہا کیونکہ اسلام آباد ہمیشہ سے مسلم دنیا میں پل کا کردار چاہتا ہے۔

اسی توازن کا دوسرا رخ معیشت میں ذمہ داری ہے۔ اکتوبر 2022 میں جب عالمی منڈی ڈگمگا رہی تھی تو سعودی عرب نے اوپیک پلس میں رہنمائی کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا اس کا مقصد دنیا بھر میں مہنگائی کو قابو میں رکھنا تھا۔ یہ کسی کے خلاف اعلان نہیں تھا، یہ ایک ذمہ دار ریاست کا اپنے دوستوں اور عالمی معیشت کے لیے سوچنا تھا۔ فلسطین کے باب میں سعودی عرب کا حرف آج بھی وہی ہے جو کل تھا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بارہا کہا کہ مسئلہ فلسطین ہمارے دل کے بہت قریب ہے۔ فروری 2024 میں وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کے ساتھ وقت کی ضرورت ہے۔ نومبر 2023 میں جب غزہ میں قیامت برپا تھی تو ریاض نے عرب اسلامی سربراہی اجلاس بلا کر پوری امت کو ایک چھت تلے جمع کیا، وہاں سے فوری جنگ بندی، امداد اور انصاف کی صدا بلند ہوئی۔ یہی وہ اصول ہے جس پر پاکستان اور سعودی عرب کا مؤقف ایک ہے، کہ امن انصاف کے بغیر قائم نہیں ہوتا۔ یمن میں حوثی گروہ کا معاملہ اور عراق میں حالیہ کارروائی میں سعودی عرب نے برسوں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

اپریل 2022 میں رمضان المبارک کے احترام میں یکطرفہ جنگ بندی، پھر اس میں توسیع اور یمنی عوام کے لیے خوراک اور ادویات کی ترسیل، یہ سب اس تحمل کی گواہی ہیں۔ مگر 20 جولائی 2026 کو جب حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی جیسے اعلان سامنے آئے اور باب المندب میں بحریجہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی تو یہ صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں رہا، یہ پاکستان سے لے کر انڈونیشیا تک ہر اس ملک کا مسئلہ بن گیا جس کی روزی اس سمندر سے جڑی ہے۔ اس پر سعودی قیادت نے تحمل کے ساتھ مگر پوری ذمہ داری سے جواب دیا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے جہازرانی کے تحفظ کے لیے گشت بڑھایا، کسی آبادی پر نہیں بلکہ ان لانچنگ سائٹس پر محدود کارروائی کی جہاں سے یہ خطرات آ رہے تھے۔ یہ انتقام نہیں، تحفظ تھا۔

اسی طرح 29 جولائی 2026 کو عراق میں جو محدود مشترکہ کارروائی امریکہ اور سعودی افواج نے کی، اسے بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق عراق کی سرزمین پر موجود چند مسلح ملیشیائیں جو مسلسل بین الاقوامی جہازرانی اور خطے کے استحکام پر حملے کر رہی تھیں۔ اس کارروائی کا ہدف عراق کی خودمختاری نہیں تھی، نہ عراقی عوام تھے، بلکہ وہ مخصوص ٹھکانے تھے جہاں سے یہ حملے ہو رہے تھے۔ یہ کارروائی بھی اعلان کرکے نہیں، مجبوری میں کی گئی اور اس کا مقصد آگ کو بجھانا تھا، بھڑکانا نہیں۔ سعودی عرب نے اس موقع پر بھی کہا کہ وہ عراق کی وحدت اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ عراق کسی دوسرے ملک کے لیے محاذ نہ بنے۔

یہاں پاکستان کا کردار ایک چراغ کی مانند ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے دل میں حرمین کا احترام بھی ہے اور تہران اور بغداد سے بات کرنے کا راستہ بھی۔ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کی سلامتی ہے، یہ صرف نعرہ نہیں، یہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایمان ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے ایران سعودی مفاہمت میں سہولت کاری کا کردار ادا کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ آگ بجھانے والوں میں ہے، آگ لگانے والوں میں نہیں۔ پاکستان آج بھی او آئی سی کے پلیٹ فارم پر یہی کہتا ہے کہ یمن کا حل یمنی عوام کی بات چیت میں ہے اور خلیج کی سلامتی میں سب کا فائدہ ہے۔ یہی وہ پل ہے جو اسلام آباد بنا سکتا ہے۔

یقیناً کچھ لوگ کہیں گے کہ جب بات چیت ہو رہی ہے تو کارروائی کیسی۔ یہ سوال بظاہر معصوم لگتا ہے مگر اس کا جواب باغبان جانتا ہے۔ باغبان پودوں سے محبت کرتا ہے، روز پانی دیتا ہے، مگر جب کوئی ٹہنی پورے باغ کو بیمار کرنے لگے تو اسے کاٹنا بھی محبت ہی ہوتی ہے۔ سعودی عرب نے سات سال صبر کیا، ہاتھ بڑھایا، امداد دی، مگر جب جہازوں پر اورتیل پر حملہ ہوا تو خاموش رہنا صبر نہیں، غفلت بن جاتا۔ اس لیے تحمل اور تحفظ ساتھ ساتھ چلے۔

آنے والے دنوں میں تین راستے ہیں۔ بہترین راستہ یہ کہ ایران میں مستقل جنگ بندی ہو، یمن میں سیاسی بات چیت بحال ہو اور ایران سعودی رابطہ مزید مضبوط ہو جس میں پاکستان سہولت کار بنے۔ درمیانہ راستہ جو زیادہ ممکن ہے وہ یہ کہ کشیدگی آئے گی اور جائے گی، مگر بڑی جنگ ٹلے گی کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ جنگ میں کسی کی جیت نہیں اور تیسرا راستہ جس سے سب بچنا چاہتے ہیں وہ بڑے تصادم کا ہے جس کا نقصان کراچی سے قاہرہ تک ہوگا۔ ریاض نے تحمل سے دنیا کو یہ سکھایا ہے کہ طاقت صرف میزائل کا نام نہیں، بات سننے کا حوصلہ بھی طاقت ہے اور جب بات نہ سنی جائے تو اپنے لوگوں اور مقدس مقامات کی حفاظت بھی فرض ہے۔ اس فرض میں پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور رہے گا، کیونکہ یہ رشتہ کسی معاہدے کا نہیں، کلمے اور قبلے کا ہے۔

Check Also

Heatwave Aur Tabqati Tazad: Suraj Aik, Sadme Do

By Unzila Siddiqui