Tuesday, 15 September 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. 100 Rupay Fi Liter Subsidy

100 Rupay Fi Liter Subsidy

ہمارے جن موٹر بائیک صاحبان اور دیگر کو ایک سو روپے فی لٹر سبسڈی ملے گی اس کا مطلب ہے جنہیں نہیں ملے گی انہیں ان کا ایک سو روپے بھی ادا کرنا پڑے گا۔ مطلب بائیک والا پٹرول 277 فی لٹر پر لے گا تو گاڑی والے کو 477 کا پڑے گا۔ چاہے اس وقت پٹرول پمپ والا بل 377 کے حساب سے ہی کیوں نہ لے۔

یہ ایشو اس طرح سمجھ لیں کہ کوئی چیز مفت یا سستی پٹرول پمپ پر نہیں ملتی ہے۔ جتنا تیل آتا ہے اس کی ادائیگی آئل کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ کے حوالے سے کرنی پڑتی ہے۔

اب یا تو حکومت بائیک والوں کے لیے پٹرول/ڈیزل پر اپنا سو روپے ٹیکس کم کرے (جو مشکل ہی کرے گی) یا پھر کسی ترقیاتی پراجیکٹ کے اربوں روپے اس پٹرول سبسڈی کی طرف لگا دے، منصوبوں کی خیر ہے۔۔ بعد میں کبھی دیکھ لیں گے۔۔

یا پھر بنکوں سے ستر اسی ارب روپے بھاری سود پر قرضہ لے کر آئل کمپنیوں کو اس ایک سو روپے فی لٹر رعایتی پٹرول کی ادائیگی کرے۔

بعد میں یہی عوام اس بھاری ستر اسی ارب روپے قرضہ کو سود سمیت ادا کرے گی۔۔ پہلے ہی اس ملک پر 82 ہزار ارب قرضہ ایسے ہی چڑھا ہے اور صرف اس سال 8 ہزار ارب سود بنکوں کو ادا کرنا ہے۔ ماشاء اللہ بنکوں کی خوب عیاشی چل رہی ہے۔

اس کا مطلب یہی ہوا یہ سارا پیسہ /سو روپے فی لٹر سبسڈی سب کچھ اسی عوام نے ہی دینا ہے۔ وہ سو روپیہ بھی وہی دیں گے جنہیں پٹرول ڈیزل پوری قیمت پر ملے گا۔ اگرچہ وصولی کا طریقہ مختلف ہوگا۔ آپ کا کان کسی اور طرف سے پکڑ لیں گے۔

تاہم ایک سرکاری افسر سے آج ملاقات ہوئی تو کہنے لگے سو روپے کو چھوڑیں وہ کیسے کہاں سے پورا ہوگا وہ بعد کا مسئلہ ہے، بہت جلد آپ ہمارے ہاں پٹرول پمپس پر جھگڑے فسادات دیکھیں گے کہ جو بھی بائیک والا رجسٹرڈ نہ ہوا اس نے پڑول پمپ والے کی بات نہیں سننی کیونکہ اس نے سن رکھا ہے سب کو ایک سو روپے سستا پٹرول ملنا ہے۔۔ بہت جلد دلچسپ ویڈیو کلپس دیکھنے کو ملیں گے۔۔

کوئی ان حالات میں پٹرول/ڈیزل کا استمعال کم کرنے کو تیار نہیں ہے۔۔ سڑکیں بھری ہوئی ہیں چاہے پٹرول دو سو روپے تھا یا چار سو فی لٹر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ بلکہ اب تو مزید اس کا استمعال بڑھے گا کیونکہ ایک سو روپے فی لٹر سستا جو ملے گا جس کی ادائیگی پوری قوم کرے گی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui