Saturday, 02 May 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Aik Sindhi Pardesi Ki Kahani

Aik Sindhi Pardesi Ki Kahani

کل رات پنڈی دیر تک گھومتے رہے۔ اگرچہ مارکیٹس بند ہوتی ہیں لیکن پھر بھی کسی کونے کھدرے میں کوئی ڈھابہ چھپ چھپا کر چائے بنا دیتا ہے۔

میں اور قبلہ جنید ایک جگہ رکے۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔

گاڑی پارک کی۔ ڈھابے والے کو قبلہ نے کہا کرسیاں یہاں زرا سامنے رکھ دیں۔ اس نے جو جواب دیا اس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ جناب ایک چوری اوپر سے سینہ زوری یہ نہیں ہوسکے گا ہم سے۔

خیر قبلہ کچھ بحث کرنے لگے کہ کوئی پولیس والا آیا تو ہم دونوں رضاکارانہ گرفتاری پیش کر دیں گے۔

وہاں ایک نوجوان لڑکا سا کھڑا تھا وہ بیزاری سے بولا گرفتار نہیں کرتے، بھاری جرمانہ کرتے ہیں۔

ہم دونوں نے مڑ کر اس نوجوان کو دیکھا جس کی عمر شاید بیس بائیس برس ہوگی۔

اونچا لمبا سا مناسب معصوم شکل لیکن لگ رہا تھا پہلی دفعہ شاید پنڈی آیا ہے۔

لہجے سے ہماری طرح دیہاتی لگا تو قبلہ نے پوچھ لیا کہاں سے ہو۔

وہ کچھ تھکا تھکا چڑا چڑا سا لگا۔ اس نے بتایا سندھ سے آیا ہے، وہاں کسی گائوں کا بتایا۔

اب ہم دونوں نے غور سے اسے دیکھا کہ وہ نوجوان بہت دور کا سفر کرکے آیا ہے۔

سندھی اور سرائیکی اکثر اپنے گائوں اور گھروں سے دور جانے کو بہت بڑی زحمت سمجھتے آئے ہیں۔ ایک مونجھ اوپر سے پردیس۔۔ یہ ہمارے ولن ہیں۔ کم کھا لیں گے لیکن رہیں گے اپنی ماں دھرتی کے چرنوں میں۔

خیر اس نوجوان نے کہا ڈھابے کے پیچھے بیٹھ جائیں وہاں کرسیاں رکھ دیتے ہیں۔

قبلہ کا ابھی بھی موڈ تھا باہر سڑک رخ بیٹھا جائے کہ آسمان پر پورا چاند چمک رہا تھا۔

میں نے آگے بڑھ کر کرسی اٹھائی اور ڈھابے کے پیچھے چلا گیا تو قبلہ بھی تشریف لائے۔

لڑکا کچھ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔

خیر اتنی دیر میں پتہ نہیں پٹھان بھائی کو ہم پر ترس آیا کہ خیر ہے جو ہوگی دیکھی جائے گی۔ اس نے کہا آپ کرسیاں باہر رکھ لیں۔

لڑکے نے پھر تھکے انداز میں کرسیاں اٹھانے کی کوشش کی تو میں نے خود اٹھائی اور باہر لے آیا۔

اتنی دیر میں وہ چائے لے آیا تو مجھے اس کی باڈی لینگویج دیکھ کر لگا جیسے یہ بہت دیر سے نہیں سویا لہذا جہاں تھکاوٹ طاری ہے وہیں اس کے لہجے میں کچھ چڑچڑاہٹ بھی ہے۔

میں نے اس سے گفتگو شروع کی تو وہ تھکے تھکے جواب دینے لگا کہ یہاں مزدوری کرنے آیا ہوں۔ میرے لیے حیرانی تھی کہ اندرون سندھ کا لڑکا اتنی دور تک نکل آیا تھا۔ خیر تنخواہ کا پوچھا تو بتایا سترہ ہزار ملتا ہے۔ حالانکہ کم از کم مزدوری حکومت نے چالیس ہزار فکس کررکھی ہے۔

میں نے قبلہ کو کہا ڈی سی یا کمشنر کو کہہ کر یہاں سرکاری ریگولیٹر/لیبر آفسر بھیجا جاسکتا ہے لیکن پھر یہی پٹھان بھائی یا کوئی بھی اسے نوکری سے نکال دے گا۔ اب کم از کم کچھ تو اسے مل رہا ہے۔ اندازہ کریں اسے روزانہ اٹھارہ گھنٹوں کا سترہ ہزار مل رہا ہے۔

قبلہ کہنے لگے اتنی ان تھک محنت ہمارے پٹھان بھائی کرسکتے ہیں، ہمارے علاقے کے نوجوان اتنی محنت کے عادی نہیں ہوتے۔ اوپر سے مائیں انہیں سست کر دیتی ہیں۔ اب یہاں ڈھابے پر پٹھان ہی بھاگ دوڑ کر چوبیس گھنٹے بغیر سوئے کام کرسکتا ہے، یہ بے چارہ تو پھٹیک برداشت نہیں کر پائے گا۔

میں نے پوچھا گزارہ ہوجاتا ہے تو دھیمے لہجے میں کہا بس جی ہوجاتا ہے۔

اس نوجوان کی تھکی تھکی معصومیت نے مجھ پر گہرا اثر کیا۔ خیر میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو کچھ نکلا وہ اسے تھما دیا۔

وہ کچھ دیر ان روپوں کو دیکھتا رہا پھر پہلی دفعہ شرما کر مسکرا پڑا۔

قبلہ چائے کا بل دینے گئے تو اس لڑکے کو الگ سے ٹپ دی۔

ہم دونوں کو ایک عجیب سی انسیت سی محسوس ہوئی جو اتنی دور سے اپنا مستقبل بنانے پنڈی آیا تھا۔ صاف لگ رہا تھا وہ اپنے گھر کے لیے اداس ہے۔ شاید ماں باپ یا کسی نے طعنہ دیا ہوگا یا باپ کی غربت اسے مجبور کرکے گھر سے نکال لائی تھی۔

گاڑی میں جا بیٹھے تو کچھ دیر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ آخرکار قبلہ نے خاموشی توڑی اور گہرا سانس لے کر بولے آپ اور میں کیا کریں، رات گئے کسی نوجوان بچے کو اس حالت میں دیکھتے ہیں تو ہمارے اپنے بچے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سب کی شکلوں میں ہمیں وہی نظر آتے ہیں۔

میں چپ رہا۔ ایک گہرا سانس لیا اور گاڑی آگے بڑھا دی اور پھر کافی دیر تک اداس خاموشی کا راج رہا اور اس نوجوان کا اپنے گھر، گائوں، ماں باپ، بہن بھائیوں اور وطن سے دور اداسی بھرا چہرہ ابھرتا رہا۔

پھر میں نے سوچا یہ معصوم نوجوان یہاں جلے گا تو ہی سونا بن کر ایک دن اپنی قسمت بنائے گا۔ اپنا مول پائے گا۔ گھر بیٹھے بھلا کب کسی کو نروان ملتا ہے۔ گوتم کو بھی برگد کے درخت نے پناہ دی تھی جیسے خان کے ڈھانے نے اس نوجوان کو دی تھی۔

اب جو اسے میں ٹپ دے آیا تھا وہ اتنی ضرور تھی کہ اس سے وہ سندھ گائوں واپسی کا پنڈی سے ٹرین ٹکٹ لے کر جاسکتا ہے یا ان پیسوں کو ایزی پیسہ کرا کے گائوں میں انتظار کرتے ماں باپ/بہن بھائیوں کو پردیس میں سے اپنی پہلی کمائی بھیج دے اور خود گلی گلی نگر نگر کریہ کریہ گائوں گائوں نروان کی تلاش میں سرگرداں رہے۔۔ یہ اہم فیصلہ اس نوجوان نے کرنا تھا۔

ویسے بھی جو سب سے مشکل کام تھا وہ تو پہلے ہی کرچکا تھا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais