کل ارشد شریف کے بغیر چار سال گزر گئے۔ یہ سارا عرصہ بے پناہ تکلیف، دکھ اور درد سے بھرا ہوا ہے۔ ارشد کے قتل نے میری پوری فیملی کو بہت ڈسٹرب کیا ہے۔ میرے بچے زیادہ متاثر ہوئے جن سے ارشد کا fatherly figure والا رشتہ تھا۔ آج بھی ہمارے گھر روز ارشد کا کسی نہ کسی حوالے سے ذکر ہوتا ہے تو اس ٹی وی لائونج میں اداس سی خاموشی چھا جاتی ہے جہاں ہم دوست رات گئے تک گپیں مارتے تھے۔
اور تو اور ہمارا ڈومیسٹک ہیپلر مجاہد بھی آتے جاتے اداس چہرے کے ساتھ مجھے بتائے گا کہ اس ڈرائنگ روم/ٹی وی لائونج جہاں ہم دوستوں کی ویک اینڈ پارٹیاں /محفلیں ہوتی تھیں کہ ارشد صاحب یہاں بیٹھتے تھے۔ وہ میری پکائی ہوئی فلاں ڈش پسند کرتے تھے۔
ارشد کی وجہ سے لگتا تھا پورا شہر ہمارا دوست ہے کہ اس کے ان گنت دوست تھے۔ اس کی وجہ سے شہر میں بہت دوست بنے۔ ایک ذہین، بہادر اور یاروں کا یار۔ ارشد جس بات کو درست سمجھتا تھا وہ اس کے لیے جان دے سکتا تھا اور وہی ہوا۔
جتنا بھی اسے کسی پر غصہ ہوتا تو میرے روکنے یا سمجھانے پر ٹھنڈا ہوتا تھا۔ کہتا تھا تم ہی مجھے غصہ کے وقت manage کر سکتے ہو۔ وہ واٹر سائن اور میرا فائر سائن شاید یہی وائبز تھیں جنہوں نے ہمیں دوستی میں جوڑ رکھا تھا۔
ایک دفعہ اے آر وائی ٹی وی نے ارشد کی پہلی برسی پر ڈاکومنٹری بنانے کا فیصلہ کیا تو میرا بھی انٹرویو کیا گیا۔ (وہ ڈاکومنٹری نہیں چلنے دی گئی)
میں نے اس میں کہا "دس سال کا تھا، بابا فوت ہوئے، بیس سال کی عمر میں والدہ فوت ہوئیں، پھر ہمارے ماں باپ جیسے بڑے نعیم بھائی فوت ہوئے، ڈاکٹر ظفر الطاف جیسا دوست فوت ہوا" اپنے یہ سب دکھ اکٹھے کرلوں اور انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھوں اور دوسرے پلڑے میں ارشد شریف کے قتل تو ارشد کا دکھ مجھے سب سے بڑا اور گہرا لگتا ہے۔
ارشد کے بعد شہر کی رونقیں ختم ہوئیں، ہماری محفلیں ختم ہوئی، ہماری سوشل لائف ختم ہوئی، اب تو گھر سے باہر نکلنے یا کسی سے سوشل ہونے کا دل ہی نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ دن کے سولہ گھنٹے گزرتے تھے۔
اس کے بے رحم قاتلوں نے صرف ارشد شریف صحافی کو قتل نہیں کیا، انہوں نے پانچ پیارے معصوم بچوں سے ان کا باپ چھینا ہے، ہماری بہن سمیعہ ارشد کا خوبصورت خاوند چھینا ہے۔ ماں سے بیٹا چھینا تھا۔ ان کے یہ جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ اس دنیا میں نہ سہی خدا کی عدالت میں انہیں سزا ہوگی۔
ایک صحافی اپنی باتوں سے کسی کا کیا بگاڑ سکتا تھا کہ اس کو بے رحمانہ انداز میں قتل کیا جانا ضروری تھا؟
جنہوں نے ارشد کے قتل کا حکم دیا، انتظام کیا یا کرایا ان کے اپنے بچے نہیں تھے یا کیا گارنٹی ہے ان کے بچوں سے قدرت وہی انتقام نہ لے کیونکہ Karma بڑی خوفناک چیز ہے۔ ہر اچھا برا عمل ہماری طرف لوٹ کر آتا ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں ارشد کے قاتلوں یا قاتلوں کے پیچھے چھپے ہاتھوں کو سزا نہیں ملی۔ انصاف نہیں ہوا۔ میرے خیال میں بعض جرائم اتنے سنگین اور بھیانک ہوتے ہیں کہ ان کا فیصلہ زمینی پولیس عدالتیں یا جج کرنے کی ہمت یا صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کا سوموٹو خود خدا لیتا ہے۔