Friday, 04 September 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Bekhabri Nemat Hai

Bekhabri Nemat Hai

آج رات لاہور سے آئے ایک پرانے دوست کے ساتھ ہوں۔ بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اس نے کہا یار کہیں لانگ ڈرائیور پر چلو اور مجھے کسی ڈھابے سے چائے پلائو۔ میں نے گاڑی بہارہ کہو کی طرف موڑ دی اور پرانے لتا رفیع کے گانے لگا دیے۔ ایک ڈھابے پر رکے اور چارپائیوں پر بیٹھے تو اچانک اس نے پوچھا یار تمہارے دوست انور بیگ کا کیا حال ہے؟ آج کل کہاں ہوتے ہیں۔ بڑا عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی۔

میں خاموش اسے دیکھتا رہا۔ وہ مجھے انور بیگ سے اپنے پرانے تعلق کے بارے بتاتا رہا۔ میں خاموش اور اداس رہا کہ اسے علم نہ تھا کہ انور بیگ کو فوت ہوئے بھی تین سال گزر گئے تھے۔

اسلام آباد میں انور بیگ، ارشد شریف اور میں ہفتے میں روز نہیں تو ہر دوسرے روز کسی کیفے یا لنچ پر اکھٹے ہوتے تھے۔ بیگ صاحب مجھے اور ارشد کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ ان کے بچے کہتے تھے بیگ صاحب کے دو بچے رئوف اور ارشد بھی ہیں۔

جتنی محبت سے میرا لاہور سے آیا دوست بیگ صاحب کا ذکر کررہا تھا میں ہمت نہ کرسکا کہ اسے بتا سکوں بیگ صاحب کو گزرے تو تین برس گزر گئے۔ ہماری بیگ صاحب اور ارشد کے بغیر اسلام آباد کی دوپہریں اور شامیں اجڑ گئیں۔ وہ دونوں اپنے ساتھ سب کچھ لے گئے۔ ہماری محفلیں ویران ہو گئں۔ اب تو گھر سے نکلنے اور کسی سے ملنے کو کم ہی دل کرتا ہے۔

اپنے اس دوست کو انور بیگ کی باتیں کرتے سن کر مجھے یاد آیا کہ نعیم بھائی کو فوت ہوئے سال دو سال ہوئے تھے کہ ایک دن پارلیمنٹ ہاوس میں ایک نوجوان بھاگ کر میری طرف آیا اور روک کر کہا آپ رئوف ہیں۔ میں نے کہا جی۔ کہنے لگا آپ ڈاکٹر نعیم کے بھائی ہیں؟ میں نے کہا جی۔

وہ بولا میں یہاں فلاں کے پاس ڈرائیور ہوں۔ کافی دیر تک نعیم بھائی کی اس کے ساتھ کبھی کی گئی نیکیاں گنواتا رہا اور پھر بولا عرصہ ہوا میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ملیں تو انہیں میرا سلام محبت کہنا ہے۔ میں اب اسلام آباد ہوتا ہوں۔

اس نے جس محبت اور احترام اور چاہت کے ساتھ نعیم بھائی کے نام اپنا سلام دیا میں اسے بھی بتانے کا حوصلہ نہ کرسکا تھا کہ وہ تو کب کے اپنا جہاں بدل گئے ہیں۔ مجھ سے صرف اتنا بولا گیا تھا جی انہیں بتا دوں گا۔

کافی دیر سے میرا یہ دوست بھی رات کے اس پہر بہارہ کہو سائیڈ پر ایک ڈھابے پر بیٹھا چائے پیتا انور بیگ صاحب کی باتیں کررہا ہے اور میرا حوصلہ نہیں پڑ رہا کہ اسے بتا سکوں جیسے پارلیمنٹ میں اس نوجوان کو نعیم بھائی کے بارے نہ بتا سکا تھا۔

بے خبری نعمت ہے تو باخبری الگ سے بڑا دکھ ہے وہ بھی عمر بھر کا۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui