Tuesday, 24 March 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Coffee Ka Aik Cup

Coffee Ka Aik Cup

کل عید کا دن تھا۔ شام کو دل کیا کیفے پر جا کر کافی پیتے ہیں۔ وہاں خاصا رش لگا ہوا تھا۔ سب نوجوان لڑکے لڑکیاں عید کے خوبصورت جوڑے پہن کر وہاں اندر باہر موجود تھے۔ ہر چہرے پر خوشی اور رونق اور کیفے کا اسٹاف بری طرح مصروف تھا۔

پہلے وہ مجھے دیکھتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کر لیتے ہیں لیکن آج اتنا رش اور مصروفیت تھی کہ ہم مسکرانا ہی بھول گئے۔

خیر مجھ سے پہلے دو تین گاہک کھڑے تھے۔ میں ویٹنگ میں تھا۔ اچانک ایک نوجوان آکر مجھ سے آگے وہاں ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔

اس نے قطار کو فالو نہیں کیا۔ میں کبھی ان موقعوں پر حق و سچ کا علم نہیں اٹھاتا کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ مجھ سے پہلے وہ کافی کا آڈرکر لے گا۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ میرے آگے دس لوگ کھڑے ہوتے۔ لہذا میں چپ رہا۔

ویسے بھی سنتے پڑھتے رہتے ہیں کہ کسی جگہ قطار یا گاڑی پارکنگ پر پھڈا ہوا تو لوگ زخمی ہوگئے۔ انسانی انا بڑی خطرناک چیز ہے جو بندے کو اوپر بھی لے جا سکتی ہے اور چھ فٹ نیچے بھی۔ لہذا سمجھداری اس میں ہے کہ اسے قابو میں رکھا جائے۔ اپنی مسلسل کونسلنگ کرتی رہنی چاہئے کہ معمولی باتوں پر عزت انا کا مسئلہ نہ بنا لیں۔

اب اس نوجوان کو ٹینشن تھی کہ کیا یہ انکل مجھے کہے گا کہ نہیں کہ آپ پیچھے کھڑے ہوں۔ میں نے بالکل توجہ نہ دی۔ مجھ سے پہلے والے کلائنٹس کو کچھ دیر ہوگئی۔ میں نے بیرون ملک سے جو چند اسباق سیکھے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ سکون سے اپنی باری کا انتظار کریں۔ کوئی شوقیہ وہاں نہیں کھڑا۔ اسے بھی جلدی ہے۔ اگر کچھ سست معاملہ ہوگیا ہے تو یقیناََ کوئی بات ہوگی۔ لہذا میں بڑے صبر سے انتظار کرتا ہوں اور پش نہیں کرتا کہ بھائی کیا ہورہا ہے، جلدی کرو۔

خیر اس نوجوان کے اندر گلٹ تھا کہ وہ قطار توڑ کر آیا ہے لہذا اس کے اندر بے چینی تھی۔ وہ کبھی اس ٹل پر کھڑے لڑکے کو دیکھتا جو آڈرز لے رہا تھا اور کبھی مجھے۔

کچھ تک دیر وہ لڑکا مجھے اور اس لڑکے کو کنکنھیوں سے دیکھتا رہا اور وہ اب میرے ری ایکشن کا انتظار کررہا تھا اور شاید وہ سوچ رہا ہو کہ اگر میں نے کہا دیا کہ میں آپ سے پہلے کھڑا ہوں تو وہ مجھے کیا جواب دے گا۔ حالانکہ میرے ذہن میں ان مواقع پر وہی ڈائیلاگ ہوتا ہے کہ تسی لنگھ جائو، ساڈی خیر اے۔

ایسے نوجوان بچوں کو دیکھ کر میرے سامنے میرے اپنے بچے آن کھڑے ہوتے ہیں کہ شاید وہ بھی یہی رویہ رکھتے ہوں لہذا اگر میں کسی کے بچے کو گنجائش دے رہا ہوں تو کوئی کہیں میرے بچے کو بھی گنجائش دے گا۔

میں کرما پر بہت یقین رکھتا ہوں۔ آپ کی چھوٹی چھوٹی سہولتیں پلٹ کر آتی ہیں۔

پتہ نہیں اچانک اس نوجوان لڑکے کو کیا سوجھی کہ وہ وہاں سے ہٹ کر میرے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا۔ شاید وہ اپنے اندر کے احساس کے زیادہ دیر تک سامنا نہ کرسکا کہ وہ غلط جگہ کھڑا تھا۔

جب میری باری آئی تو میں پیچھے ہٹ گیا اور اس نوجوان لڑکے کو مسکرا کر اشارہ کیا کہ وہ پہلے آڈر کر لے۔

اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور کہا نہیں نہیں آپ پہلے کھڑے ہیں۔ آپ لے لیں۔ میں نے کہا میں خود اپنی جگہ آپ کو دے رہا ہوں۔ میں یہاں تفریح کرنے آیا ہوں۔ کون سی ڈیڈ لائن پوری کرنی ہے کہ لیٹ ہورہا ہوں۔ ہم دونوں نے کافی لی۔

وہ اندر بیٹھ گیا جبکہ میں کافی لے کر باہر نکل آیا۔ بل چیک کیا تو پتہ چلا کافی کے کپ کی قیمت بھی عید کے روز ہی ستر روپے بڑھا دی گئی تھی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais