بیوروکریسی میں بہت کم افسران بچ گئے ہیں جن میں حس جمال، لٹریچر کا شوق، درخت، سبزے یا صفائی، یا ماحولیات کی فکر ہو۔ اکثر کو دیکھا ہے وہ ترقی کے نام پر سب کچھ تہس نہس کر دیں گے شہر بے شک جہنم بن جائیں۔ کسی قدم یادگار یا تاریخ کو محفوظ رکھنے کی تو بات ہی نہ کریں۔
ابھی اسلام آباد کو دیکھ لیں یہاں چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے چالیس ہزار درخت کاٹ ڈالے، سو سال پرانی جنگ عظیم اول کی چالیس فٹ یادگار گرا دی گئی۔ اکبر بادشاہ دور کی یادگار گرا دی گئی۔
ان سے بات کریں تو الٹا حیران ہوتے ہیں کہ ان چیزوں میں کیا رکھا ہے کہ آپ سب لوگ اتنے بے چین ہیں۔لیکن ان حالات میں ابھی بھی کچھ اکا دکا افسران بچ گئے ہیں جیسے ہمارے لیہ کے ڈپٹی کمشنر آصف ڈوگر صاحب ہیں۔ شاید وہ ڈی ایم جی کے نہیں ہیں بلکہ پنجاب سول سروس سے ہیں لہذا گردن میں سریا نہیں ہے یا عوامی خدامت یا کام سے نہیں گھبراتے۔
ڈپٹی کمشنر آصف ڈوگر نے لیہ میں خستہ حال انگریز کرنل کی یادگار کو محفوظ بنانے کی ٹھان رکھی ہے۔ وہ وہاں وزیراعلی مریم نواز صاحبہ کی ہدایات کی روشنی میں کافی اچھے کام لیہ میں کررہے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے کوٹ سلطان سے گزرا تو اپنے سکول کے آگے ریڑھیوں کو خوبصورت ترتیب میں لگا دیکھ کا اتنا اچھا لگا اور رانا اشرف کو کہا دیکھو زرا۔ سڑکیں کھلی ہوگئی ہیں۔ بازار صاف اور کچھ کھلے ہوئے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے معظم شریف کی ویڈیو رپورٹ کرنل راس کی یادگار پر کی تھی کہ وہ گرنی والی تھی۔ مریم نواز صاحبہ کو ٹیگ کی تھی تو ڈی سی لیہ نے اس پر کام شروع کرایا۔ میرا خیال تھا وہ بھول چکے ہوں گے جیسے بیوروکریسی کرتی ہے کہ چلیں چند دن کس کو یاد رہے گا۔
انہیں پرسوں ویسے میسج کر دیا کہ سر جی یادگار کا کیا بنا؟
انہوں نے میرے خیال کو غلط ثابت کیا اور جوابا تصویریں بھیجیں کہ اب تک وہاں کیا کام ہوا ہے۔ باقاعدہ ڈیجیٹل نقشہ بھی بھیجا کہ ان کا ایک ادارے سے رابطہ ہے کہ اسے کیسے محفوظ رکھنا ہے۔
شکریہ آصف صاحب۔۔ چلیں اکا دکا بیوروکریٹ ابھی بھی ان قدیم یادگاروں کی اہمیت کو سمجھتا ہے ورنہ یہاں تو جنگ عظیم اول تک کی یادگار ایک بابو، بلڈر اور بلڈوز کی مار ہیں۔