جو کام جنرل ایوب، جنرل یحیی، بھٹو، جنرل ضیاء، بینظیر بھٹو، نواز شریف، جنرل مشرف، ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، عمران خان کے ادوار میں نہ ہوا نہ وہ اس حد تک سوچ ہی نہیں سکتے تھے وہ اکیلا ایک وزیر محسن نقوی جناب شہباز شریف کی پوری حمایت سے کرے گا کیونکہ وہ ہر قیمت پر وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں چاہے نقوی صاحب پورے اسلام آباد کی لنکا ڈھا دیں۔
وزیر مخولیات ڈاکٹر مصدق ملک اور سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرمین شیری رحمن بھی محسن نقوی کے رعب دبدبے اور اپنی پوزیشن بچانے کے نام پر اس موقع پر وہ اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کی بجائے گونگے بن جائیں گے۔ بلکہ ابھی وہ بزنس کلاس ٹکٹ کٹوا کر روم میں ماحولیاتی کانفرنس پاکستانی میں ماحول کو تھریٹ پر لیکچر دینے نکل جائیں گے، پوری دنیا کو بھاشن دینے والے جناب وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال فوراََ ناروال کے دورے پر نکل جائیں گے، ہر چھوٹے بڑے ایشوز پر کمنٹ کرنے والے ہمارے پیارے خواجہ آصف کا موبائل فون نقوی صاحب کا سوچ کر ہی جام ہو جائے گا، پارلیمنٹ کے سینٹ/اسمبلی کے ساڑھے پانچ سو ممبران خوف کے مارے منہ میں انگلیاں دبا لیں گے، اس شہر میں دو سپریم کورٹ ہیں کوئی جج جرات نہیں کرے گا کہ سی ڈی اے چیرمین کو بلا کر زرا انہیں ائینی قانونی ڈوز دیں کہ وہ اس شہر کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔
اس شہر میں بڑے بڑے وکیل ہیں کوئی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ پیٹیشن نہیں کرے گا اور سب سے بڑھ کر ہمارے بڑے بڑے صحافی /اینکرز محض محسن نقوی صاحب سے تعلق کے نام پر شہر کی تباہی کو نظرانداز کریں گے کیونکہ کسی کو سی ڈی اے، ایف ائی اے، ائرپورٹ، نادرا یا وزارت میں کام پڑ سکتا ہے۔
ہماری توقعات کے برعکس نقوی صاحب اس شہر کے لیے اچھی خبر بن کر نہیں آئے۔ ایک چھوٹا سا شہر ان کے آئڈیاز اور ان کے ٹھیکداروں کی لالچ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
شہباز شریف، نقوی صاحب اور بابو چیرمین سی ڈی اے سہیل اشرف آج ہیں چند سال بعد نہیں ہوں گے لیکن اگر ایف نائن پارک پر لاڈلے لاہوری ٹھیکداروں کو بلڈوزر سمیت چھوڑ دیا گیا تو یہ شہر پھر شہر نہیں رہے گا۔ جنہوں نے نقوی صاحب کو اس شہر پر لانچ کیا ہے وہ ہی اس طوفان کو روک سکتے ہیں کہ دو سال میں کافی ماحول کی بربادی ہوچکی، ہزاروں درخت کٹ چکے، جنگل تباہ کر چکے، پہاڑوں تک پر بلڈوزر چلوا چکے، ایک پارک بچا ہے اس کی جان چھوڑ دیں۔
حیران ہوں ایک وزیر اکیلا کیسے پورے شہر کی قسمت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ نہ کابینہ نہ عوام نہ پارلیمنٹ صرف اکیلا محسن نقوی فیصلہ کرے گا؟
شہباز صاحب بڑا آپ کی سپیڈ کی کہانیاں سنتے تھے آپ تو جمالی صاحب اور شوکت عزیز کے برابر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ آپ ایک ہمارے پیارے نقوی صاحب کی مار نکلے۔
افسوس ہے ساٹھ رکنی کابینہ، پارلیمنٹ، سینکروں صحافی اینکرز محسن نقوی صاحب کے ڈر، رعب دبدے اور ذاتی تعلقات کی وجہ سے اس نئے حیران کن ماحولیات دشمن منصوبے پر گونگے بن گیے ہیں۔ لاہور اور دلی اس وقت الودگی پر ٹاپ ہیں۔ لاہور آلودگی ماڈل شہباز شریف صاحب کا تھا اور نقوی صاحب نے ایک سال اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ اب اسلام آباد ماحولیاتی بربادی کی سزا بھگتنے کو تیار ہو جائے۔ ان سب نے ایک دن پتلی گلی سے نکل جانا ہے۔