پمز میں آگ سے جھلس کر جان بحق ہونے والے چودہ بچوں کا سن کر بندہ سن ہو جاتا ہے خصوصا جو خود والدین ہیں۔ جن کے اپنے بچے ہیں اور جو ماں یا باپ بننے کے اس عظیم تجربے سے گزر چکے ہیں۔ انہیں سب یاد ہے وہ لمحات کہ اپنے بچے کی پیدائش پر ان کے کیا جذبات تھے۔
ایک ماں کا نو ماہ تک اپنے اندر کھلنے والے پھول کو ہرلمحہ محسوس کرنا۔۔ روز نام سوچنا۔۔ ایک باپ بننے کے انتظار میں ایک ایک لمحہ گننا۔ یہ تصور ہی اذیت ناک ہے کہ آپ کو چند گھنٹے پہلے ماں باپ بننے کی خوشخبری ملی اور پھر ایسی ہولناک خبر۔۔ ساری عمر یہ والدین اس ٹراما سے نہیں نکل سکیں گے جو اسلام آباد کے اس ہسپتال یہ سوچ کر آئے تھے کہ وہ سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔۔
جو شرم ناک صورت حال سامنے آرہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اس وقت سب کو غم ہے غصہ ہے دکھ ہے۔ سب حکومت پر برس رہے ہیں اور برسنا بھی چاہیے کہ یہ اس کا کام ہے کہ وہ سب انتظامات کرکے رکھے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال کرے۔۔ ہماری نہیں تو ہمارے بچوں کی جان تو بچائے۔ اس چیز کے لوگ پیسے آپ کو دیتے ہیں۔
لیکن اس صدمے میں ایک لمحے کے لیے رک کر بتائیں یہ حکومت کون ہے۔۔ وہ پمز کے عہدے داران/ اہلکار کون ہیں جن کی غفلت سامنے آرہی ہے۔۔ وہ کون ہیں۔۔ یہ کوئی اوپر سے نہیں اترے۔۔ حکومت آپ اور میں ہی ہیں جو پمز میں جاب کرتے ہیں اور جن کے ذمے یہ سب ڈیوٹی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہونا چائیے۔
یہ سب ہم اور آپ ہیں ہیں لیکن اپنا کام اور فرض پورا نہیں کرتے۔
وہ بھی ہم ہیں جنہوں نے ایمرجنسی ایگزٹ پر بھی تالے لگا رکھے ہیں، وہ بھی ہم ہیں جو ایمرجنسی میں پانی یا دیگر الات کو روزانہ چیک نہیں کرتے۔۔ وہ بھی ہم ہیں جو ہر وقت ڈنگ ٹپائو کام سے گزارہ کرتے ہیں۔ وہ بھی ہم سب ہیں جع ہڈ حرام ہیں۔ وہ جو سرکاری نوکری ملنے کے بعد کام اور ذمہ داری سے بھاگتے ہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک۔۔ یہ سب ہم ہی ہیں۔ ہم ہی حکومت ہیں جو ہسپتال کو چلا رہے ہیں اچھا یا برا۔
یہ ہم ہی ہیں یا ہمارے عزیز ہیں کہ جن کو فون پر فائر برئیگڈ دفتر میں آگ لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے تو بھی ہم پہلے بڑے سکون سے اپنے سگریٹ ختم کرتے ہیں، پھر چائے کا کپ پورا پیتے ہیں، ٹہلتے ہوئے پھر ٹی وی چیک کرتے ہیں کہ واقعی آگ لگ گئی ہے۔۔ پھر ایک دوسرے کو آوازیں دیتے ہیں اور اس وقت پہنچتے ہیں جب سب کچھ جل کر راکھ ہو چکا ہو۔ پمز ہسپتال اور فائر برئیگڈ کا راستہ مشکل سے پانچ منٹ ہوگا۔ پتہ کرا لیں وہ کتنی دیر میں پہنچا ہے۔
ہر بلڈنگ اور ہسپتال میں تو خصوصا آگ لگنے کی صورت میں خودبخود پانی کے شاور چلنے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ بھی وارڈ اگر نورائیدہ بچوں کا ہو تو کیا کیا احتیاط درکار ہوتی ہے۔
چیک کر لیں خود پمز میں آگ بجھانے کا کیا نظام ہے۔۔ خبریں آرہی ہیں سب بھاگ گئے۔۔ ایک بہادر نرس صرف ایک بچہ بچا سکی۔۔
اس سے پہلے ساہیوال ہسپتال میں بھی اس طرح بچے آگ سے جان بحق ہوئے تھے۔۔ ہم سب نے کیا سبق سیکھے۔۔ اب یہ اسلام آباد کے بڑے ہسپتال میں سب کچھ ہوا ہے۔ تسلی رکھیں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا، کوئی وزیر مستحفی نہیں ہوگا۔ کبھی ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے آگ آلات بجھانے والے سسٹم کا جائزہ تک نہیں لیا ہوگا۔
ان والدین کا سوچ کر ہی میرا دل دکھ سے بھر گیا ہے جنہیں اس عظیم صدمے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ وہ ماں جو ابھی گائنی وارڈ میں درد کی سب تکلیف بھول کر اپنے بچے کی منتظر ہے۔