Sunday, 12 April 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Iran Aur Burj Asad Walay Americi Sadar

Iran Aur Burj Asad Walay Americi Sadar

مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہ مزاکرات کامیاب ہوں گے؟ ہوسکتا ہے میرا یہ اندازہ غلط بھی نکلے لیکن میرے اس اندازے کی وجہ کوئی اندرونی خبر یا سکوپ نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ ان مزاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس ہیں جن کا برج اسد ہے۔

اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب جب امریکہ پر ایسے صدر کی حکمرانی تھی جس کا برج اسد تھا اس نے اسرائیل، فلسطین سے لے کر ایران تک صلح صفائی اور ڈیل کی اور معاملات سدھارے۔

اگر آپ کو یاد ہو بل کلنٹن پہلے لیو Leo صدر تھے جنہوں نے 1993/94 میں اوسلو معاہدہ کرایا تھا اور وائٹ ہاوس میں یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم کا تاریخی مصحافہ دنیا نے دیکھا جو ایک ناقابل یقین منظر تھا۔

پھر 2015 میں جب بارک اوبامہ صدر تھا تو ایران اور امریکہ کے درمیان طویل مزاکرات کے بعد نیوکلیر معاہدہ ہوا تھا جسے بعد میں ٹرمپ نے توڑا اور مسائل شروع ہوئے۔ باراک اوبامہ بھی لیو تھا۔

اب نائب صدر جے ڈی وینس بھی لیو ہے۔ دو اگست۔

ابھی نیویارک ٹائمز نے پچھلے دنوں تفصیلی رپورٹ چھاپی کہ جب اسرائیلی وزیراعظم تیرہ فروری کو وائٹ ہاوس صدر ٹرمپ کو ایران جنگ پر قائل کرنے آیا تو یہ طے کیا گیا کہ اس دن جے ڈی وینس امریکہ میں نہیں ہوگا تاکہ اسے اس اہم خفیہ اجلاس میں نہ بلایا جائے۔

یہ اہم خفیہ اجلاس اس دن رکھا گیا جب جے ڈی وینس امریکہ سے باہر آزربائیجان کے دورے پر تھا۔ یہ اتفاق نہیں تھا کہ وہ اس اہم اجلاس میں شریک نہ ہوا۔ اس کے بیرونی دورے کی تاریخ کو دیکھ کر ہی اسرائیلی وزیراعظم اور موساد کے چیف نے صدر ٹرمپ کو امریکہ جاکر بریفنگ دی اور راضی کر لیا کہ حملہ ہوگا۔

اگرچہ مارک ربیو، جنرل کینز، سی آئی اے چیف سب جنگ کے خلاف تھے لیکن وہ ایک حد تک صدر ٹرمپ کے پلان کی مخالفت کرسکتے تھے۔ اگر نائب صدر اجلاس میں موجود ہوتا تو وہ اسرائیلی وزیراعظم کی اس کوشش کو ناکام بنا سکتے تھے اور اس کا اندازہ نیتین یاہو کو اچھی طرح تھا۔

اگلے دن جب وینس واپس آیا تو اسے اس اجلاس کے بارے بتایا گیا تو بھی اس نے مخالفت کی۔ تاہم جب اس نے دیکھا کہ صدر ٹرمپ فیصلہ کرچکے ہیں تو اس نے کہا ٹھیک ہے میں حمایت کروں گا لیکن اس کے فلاں فلاں نقصانات ہوں گے اور ایران حملے کے بعد وہی کچھ ہوا جو جے ڈی وینس نے کہا تھا۔

جے ڈی وینس کی جنگ مخالفت سے میں حیران نہیں ہوں۔ لیو رحم دل اور تشدد پسند لوگ نہیں ہوتے ہیں۔ یہ خود بھی خوش اور پرسکون رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش اور ہنستا مسکراتا دیکھناچاہتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر انہیں اپنا ذہنی سکون اور ہر طرف امن پسند ہوتا ہے۔ یہ غیر ضروری لڑائیاں نہیں لڑتے ہاں کوئی بہت تنگ کر دے تو پھر آپ ان سے ڈریں۔ لیو کے بارے کہا جاتا ہے وہ آپ سے لڑنے سے ڈرتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ آپ سے خوفزدہ ہیں۔ وہ اپنے آپ سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایک دفعہ جنگ یا لڑائی شروع کر دی تو پھر مخالف کو برباد کر دیں گے اور وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔

آپ نوٹ کریں کہ نیتن یاہو کوشش کے باوجود امریکہ کے دو طویل عرصے تک صدر رہنے والے کلنٹن (1993/2001) اور ابامہ (2009/2017) کو ایران پر حملے کرنے پر قائل نہیں کرسکے اور دونوں صدر لیوز تھے۔ نیتن ہاہو ان دونوں کے ادوار میں بھی اسرائیل کے وزیراعظم رہے۔

اس لیے جب تک ہمارا کامریڈ لیو جے ڈی وینس ایرانیوں کے ساتھ کمرے میں موجود ہے، آپ اچھے کی امید رکھیں۔۔ امن کی امید رکھیں۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais