میں اور قبلہ جنید اکثر ویک اینڈ پر رات گئے اسلام آباد اور پنڈی آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں جو شہر میں گند اور گندگی کی حالت ہوتی ہے۔ پنڈی پہلے بہت گندہ تھا لیکن اب کچھ بہتر ہے۔ لیکن اسلام آباد جیسے سابق چیرمین محمد علی رندھاوا کے دور میں گند اور گندگی کا شاہکار تھا ویسے موجودہ چیرمین سہیل اشرف کے دور میں بھی بدترین ہوچکا ہے۔
قبلہ جنید اور میری بیوروکریسی/افسران کی اپنے کام میں عدم دلچسپی اور بیزاری پر کبھی کبھار گرم سرد بحث ہو جاتی ہے۔ وہ خود ایک عدد سابق ڈپٹی کمشنر رہے ہیں لہذا اکثر ان کے دل میں اپنے پرانے کامریڈز کی ہمدردی جاگتی ہے۔ وہ کتاب پڑھنے والے ذہین افسر ہیں لہذا وہ ایشوز کو فلاسفکل ٹچ دے کر نکل جاتے ہیں۔
خیر پرسوں رات ایف سکس مرکز میں پیدل چل رہے تھے تو وہاں اس پوش ایریا کی مارکیٹ میں گند اور گندگی کے ڈھیروں نے حسب معمول ہمارا استقبال کیا۔ میں نے تصویر لے کر ٹوئٹ کی تو آج سی ڈی اے نے وہ گند اٹھا کر جواباََ ٹوئٹ کی اور داد کے طلب گار ہوئے۔
لیکن کیا ہر دفعہ کوئی شہری یا صحافی ہی گند اور گندگی کی تصویریں لے کر سب کو ٹیگ کرے گا تو وہاں ٹیم جائے گی اور کام کرے گی اور یہ ایف سکس مرکز ہے۔ یہاں سے کروڑں کا ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔ ان مارکیٹس کی حالت دیکھ لیں۔
سی ڈی اے کے پاس 12000 افسران/ملازم اہلکار ہیں اور 152 ارب روپے کا بجٹ ہے۔ ہر سال یہ سب اربوں کے کمرشل/ریذڈنشل پلاٹ بیچ کر کھا جاتے ہیں اور شہر بدترین حالت میں ہے۔
چیرمین سہیل اشرف صاحب کے پاس اگر صرف ایک۔۔ جی ہاں۔۔ صرف ایک اچھا اور کام سے محبت کرنے والا ممبر وہاں دستیاب ہو تو اسے صرف یہی ڈیوٹی دیں کہ اس نے شہر کی مارکیٹس میں صفائی کے نظام کو مانٹیر کرنا ہے، دن میں دو تین دفعہ چکر لگانا ہے، رات دس بجے کے بعد چیک کرانا ہے کہ گاربیج اٹھا لیا گیا ہے تو کیا ہرج ہے؟
بارہ ہزار ملازمین میں سے ایک ایک شفٹ میں بارہ بارہ کا اسٹاف بھی یہ ڈیوٹی نہیں دے سکتا؟
صاف ستھرے سر سبز شہر انسانوں کو اچھے لگتے ہیں۔ لوگ صبح سویرے اٹھیں، پورا شہر آپ کو صاف ستھرا ملے، سبزہ ملے، ٹریفک منظم ملے تو آپ کا پورا معاشرہ ہی بدل جائے۔
آپ نے مارکیٹس میں تاجروں کو پابند کرنا ہوتا ہے کہ وہ دکان بند کرنے سے پہلے اپنے آگے کوئی گند چھوڑ کر نہ جائیں، بڑے ڈرم میں رکھ کر جائیں جو آپ کا عملہ دن میں تین دفعہ وزٹ کرکے پک کرے۔ جو تاجر اپنی دکان کے آگے صفائی نہ کرے اس پر اس کی صفائی کا بل وہ ادا کرے۔
بلیو ایریا یا دیگر کھانوں کے ریسٹورنٹ کے آگے خالی ڈبے پھینکے ہوتے ہیں۔ آپ اس دکان مالک کو ذمہ دار ٹھہرایں۔ وہ لاکھوں کما رہا ہے تیس چالیس ہزار روپے پر ملازم نہیں رکھ سکتا جو صفائی کو دیکھتا رہے؟ ہماری قوم کو تمیز تو نہیں آنی کہ کھا پی کر ٹیک اوے ڈبے وہاں نہیں پھیکنے۔ یہ کام اس ریسٹورنٹ پر سختی سے ہی ہوگا۔۔
یہاں ٹوراسٹ آتے ہیں۔ اندازہ کریں آپ رات کو ایف سکس مرکز جائیں اور آگے گندگی کے ڈھیر ملیں تو کیا محسوس ہوگا۔ ہمارے بیوروکریٹس پوری دنیا پھرتے ہیں شہر دیکھتے ہیں کیا وہاں صحافیوں کو گند اور گندگی کی پکس ٹوئٹ کرنی پڑتی ہیں؟
چیرمین سی ڈی اے کو بارہ ہزار ملازمین میں سے ایک ایسا بندہ چاہئے جو کام کو زحمت نہیں اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہو۔ صرف ایک بندہ جسے وہ ٹیم اور 152 ارب بجٹ سے بجٹ دے اور اسے ذمہ داری دے کہ وہ شہر کی صفائی پر آنکھ رکھے۔ کچھ سختی کرے، کچھ جرمانے کرے، کچھ کو سمجھائے، اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کام کو چھوٹا نہ سمجھے تو آپ چند دنوں میں اثرات دیکھیں گے۔
چیرمین صاحب شہر میں کبھی کبھار خود بھی نکلا کریں۔ عہدہ لیا ہے تو اس کے ساتھ جڑی ذمہ داری بھی لیں۔ محض اربوں روپے کے پراجیکٹس کے ساتھ تصویریں کھنچوانا ان کا مقصد نہیں ہونا چاہئیے۔ سہیل اشرف صاحب کسی دن صفائی مانٹرینگ کی پکس بھی ٹوئٹ کریں۔
کیا سہیل اشرف صاحب کے پاس ایک بھی افسر نہیں جو اس ٹاسک کو پورا کرے کہ شہر کو صاف رکھنا ہے، روزانہ مارکیٹس سے garbage وقت پر اٹھوانا ہے، violators کے خلاف زیرو ٹالرنس دکھانا ہے۔۔
صحافیوں اور شہریوں کو گند اور گندگی والے ٹوئٹس کرنے پڑتے ہیں۔ کیا یہ بارہ ہزار ملازم شہر میں کبھی نہیں جاتے۔ انہیں شہر کی بدترین حالت نظر نہیں آتی؟