Wednesday, 16 September 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Kya Sialkot Ab Bhi Aisa He Hai?

Kya Sialkot Ab Bhi Aisa He Hai?

کل رات میں نے اے حمید کی "سنگ دوست" پڑھنی شروع کی جو خاکوں پر مشتمل ہے تو اس میں ایک خاکہ کلیم اختر پر بھی تھا۔ مجھے ایک پیرا گراف نے پکڑ لیا اور اس کی خوبصورتی میں گم ہوا۔ میں سیالکوٹ شہر میں کبھی نہیں گیا صرف ایک دفعہ ائرپورٹ کسی کو اسلام آباد سے ڈراپ کرنے گیا تھا۔ اس لیے میں اے حمید کی آنکھ سے اس شہر کو دیکھ رہا ہوں۔ کیا ہی خوبصورت اور پیارا شہر ہے۔۔

اے حمید لکھتے ہیں "سیالکوٹ کی ایک تصویر میرے ذہن میں تھی۔ پاکستان بنا تو ایک روز لاہور ریلوے اسٹیشن سے ریل گاڑی میں بیٹھا اور سیالکوٹ کے اسٹیشن پر اتر گیا۔ میں نے شہر کی آوارہ گردی شروع کر دی۔ اس زمانے میں ابھی لوگوں کا اتنا رش نہیں ہوا تھا۔ بڑا پرسکون شہر لگا۔ جیسی اس شہر کی میرے ذہن میں تصویر تھی ویسے ہی پایا۔ سڑک پر ایک پل بنا تھا۔ اس پر سے گزرا تو سامنے سرسوں کے کھیتوں اور بسنتی پھولوں کا زعفران بکھرا پڑا تھا۔ پیرس روڈ پر ایک پرانی دکان میں گیا جس کی چھت بہت اونچی تھی۔ یہاں تمباکو اور پائپ فروخت ہوتے تھے۔ پھر شہر کی گلیوں میں نکل آیا۔ بڑے زندہ دل چہرے دکھائی دیے۔ ان کا بات کرنے کا اسلوب دوسرے شہر کے لوگوں سے مختلف اور دلچسپ تھا۔

کہیں کہیں گلیوں میں بھی شیشم اور شتہوت کے درخت نظر آئے۔ کسی گلی کا موڑ مڑا تو اچانک شتہوت کا سرسبز درخت آجاتا۔ کاسنی اور سرخ شتہوت لٹک رہے ہیں اور بچے درختوں پر چڑھے توڑ توڑ کر کھا رہے ہیں۔

درختوں والی گلیاں بڑی خوش نصیب ہوتی ہیں۔ درخت ان گلیوں پر ٹھنڈا سایہ ڈالے رکھتے ہیں۔ جو گلیاں جو شہر جو لوگ درختوں سے محروم ہو جاتے ہیں ان کی مثال یتیم سی ہوتی ہے جس کے سر سے اس کے ماں باپ کا سایہ اٹھ گیا ہو۔ مکانوں کی ممٹیوں اور منڈیروں پر گلاب اور گیندے کے پھولوں والے گملے پڑے تھے۔۔

میں نے پرانی حویلیوں کی محرابی ڈیوڑھیاں دیکھیں جن میں پھول دار بیلوں نے ٹھنڈا خوشبودار سایہ کر رکھا تھا۔ سرخ نیلے اور سبز شیشوں کی ٹکڑیوں والے پرانے روشن دان دیکھے۔ اسکول کو جاتی معصوم بچیاں دیکھیں اور فالودے کی ایک دکان دیکھی جس کے ٹیبل فین سے لگی رنگدار باریک کاغذ کی جھالریں ہوا کے ساتھ لہرا رہی تھیں۔

شہر سے باہر چھائونی اور پیرس روڈ کی طرف جاتی سڑک کے دونوں جانب گنجان ٹاہلیاں کھڑی تھیں۔ ٹاہلی کی ان درختوں پر چیت، بیساکھ کے مہنیوں میں بور آتا ہوگا اور اس کی خوشبو سارے شہر میں پھیل جاتی ہوگی۔

میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ چیت بیساکھ میں سیالکوٹ ضرور آئوں گا"۔۔

یہ سب کچھ پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کیا سیالکوٹ ابھی ایسا ہی ہے یا انسان اسے کھا گیا ہے۔۔ مجھے نہیں پتہ اے حمید صاحب جا سکے یا نہیں لیکن یہ پڑھ کر سوچ رہا ہوں کیا مجھے بھی چیت بیساکھ میں ہی سیالکوٹ جانا چاہیے؟

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui