جس لہجے میں مریم اورنگزیب صاحبہ نے پنجاب اسمبلی میں کہا کہ ہاں، جہاز خریدا ہے، ہو سکتا ہے بہت سے دوست کہیں کہ اس میں چھپانے والی کون سی بات ہے؟ اب تو پورے جہان کو علم ہے، اگر انہوں نے صرف تصدیق کر دی ہے تو اس میں ایسا کیا برا ہے؟
تصدیق تک تو بات ٹھیک تھی لیکن اصل بات لہجے کی ہے۔ یقیناََ وزیراعلیٰ کے کیمپ میں داد دی گئی ہوگی کہ دیکھا مریم اورنگزیب نے کیسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ جاؤ، جو کرنا ہے کر لو۔
مگر یہ جمہوری جواب نہیں ہے۔ یہ اتھارٹی کے زعم کا اظہار ہے۔ مریم اورنگزیب کبھی بینظیر بھٹو، نصرت بھٹو، سیدہ عابدہ حسین، حنا ربانی کھر اور مریم نواز کی طرح براہِ راست الیکشن لڑ کر پارلیمنٹ میں نہیں آئیں لہٰذا ان پر عوامی نمائندگی کا وہ بوجھ نہیں ہے جو براہِ راست الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں آنے والی خواتین پارلیمنٹیرینز محسوس کرتی تھیں یا آج بھی کرتی ہیں۔ اسی لیے جو لوگ عوام کے براہِ راست ووٹ لے کر آتے ہیں ان کا جمہوری رویہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف اکثر کہا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو ایک ٹف وزیراعظم تھیں جو کابینہ کے اجلاسوں میں اپنے ساتھ اخبارات کے تراشوں کی پوری فائل لے کر آتی تھیں اور پھر متعلقہ وزیروں اور سیکرٹریوں کی خوب دھلائی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب زراعت کے وفاقی سیکرٹری تھے، اس لیے بینظیر بھٹو ان سے زیادہ بحث کرتی تھیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب آگے سے جواب دیتے تھے جبکہ دیگر افسران "جی میڈم پرائم منسٹر" کہہ کر خاموش ہو جاتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب بتایا کرتے تھے کہ بینظیر بھٹو کو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے پر بہت غصہ آتا تھا کیونکہ ان کا ووٹر غریب مزدور تھا اور انہیں عوام کی فکر رہتی تھی۔ اسی لیے آپ کے پاس کتنا ہی سرپلس بجٹ یا پیسہ کیوں نہ ہو، بعض اوقات آپ کو سادگی سے زندگی گزارنا ہوتی ہے تاکہ آپ کے ووٹر یا عوام کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کا حکمران ان سے ٹیکس لے کر اپنی ذاتی عیاشیوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف لوگوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہو، ان کا جینا دشوار ہو اور دوسری طرف حکمران اپنے لیے ہوائی جہاز خرید رہے ہوں تو عوام میں غصہ پیدا ہونا فطری ہے۔ ایک لیڈر کا طرزِ زندگی عوامی ہونا چاہیے۔ کسی بھی جمہوری لیڈر کو عاجزی سوٹ کرتی ہے تکبر یا غرور نہیں۔
اگر جہاز پر سوال اٹھا تو اس کا جواب وہ نہیں بنتا جو مریم اورنگزیب صاحبہ نے اسمبلی میں دیا کہ "ہاں خریدا ہے جہاز"۔ گویا "کر لو جو کرنا ہے"۔ اگر آپ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو یہ جواب مناسب نہیں تھا۔
اس سے بہتر تھا کہ آپ خاموش رہتے یا یہ بتاتے کہ جہاز کیوں خریدا گیا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام کے پیسوں سے کوئی چیز خرید کر کہا جائے کہ ہاں خریدا ہے، جاؤ جو کچھ کرنا ہے کر لو۔