پچھلے سال میلوڈی مارکیٹ میں قبلہ مہار صاحب اور میں شدید گرمیوں میں گرم چائے پینے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ وہی بات کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے لہذا گرمی کو گرم چائے سے شکست دینے کی کوشش میں مصروف تھے۔
ایک دوست کی فون کال آئی۔ فون اٹھایا۔ اس کے گائوں کے کچھ لوگوں کا مسئلہ تھا۔ بقول اس کے ان کے لوگوں کے ساتھ پولیس زیادتی ہورہی تھی اگرچہ ایشو خیر خاصا سنگین تھا۔
میں نے اپنے ایک مہربان اور شاندار انسان دوست طارق قریشی صاحب کو ریکوسٹ کی جو ہمیشہ کام آتے ہیں۔ وہ بھی کینسر اسٹار ہیں لہذا بے چارے سارے جہاں کا درد اپنے جگر میں چھپائے پھرتے ہیں۔
قریشی صاحب کی کمال مہربانی انہوں نے ضلع کے ڈی پی او کو کہا۔ انکوائری ہوئی تو پتہ چلا وہ واقعی قصور وار نہیں تھے۔ تین چار دن کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس نے بندوں پر تشدد بھی نہیں کیا جیسے ہوتا ہے۔ صرف سائنسی انداز میں تفتیش کی گئی۔
اس دوران روز وہ دوست مجھے فون کرتا تھا اور رولا ڈالا ہوا تھا۔ زور شور سے کہتا کہ کچھ کرو۔ کچھ کرو۔ گائوں میں میری عزت کا سوال ہے۔ میں بھی فالو کرتا رہا۔
اگلے دن اس دوست کا فون آیا اور کہا یار بندے رہا ہوگئے ہیں۔ کہنے لگا ویسے رہا تو انہوں نے ہوجانا تھا۔ کوئی اتنی بڑی بات بھی نہیں تھی۔
جنید مہار نے مجھے اور میں نے انہیں دیکھا کہ جنید مہار کو علم تھا کہ میں نے تین چار دن تک اس ایشو کو مسلسل فالو کیا، قریشی صاحب کی جان کھائے رکھی تھی اور میرے اس دوست کا خیال تھا یہ خالص میرٹ کا کام تھا ویسے بھی ہو جانا تھا۔ مطلب اسے لگا کہ اتنی بات بھی نہیں تھی جس کے لیے اسے میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ میں ایسے ہی اس چھوٹے سے میرٹ کے کام کے لیے بیکار میں اس کے لیے پریشان رہا۔
خیر میں نے قریشی صاحب کو فون کرکے لمبا چوڑا شکریہ ادا کیا۔ ان کی بہت مہربانی۔ اس ملک میں میرٹ یا آپ بے قصور ہوں تو بھی تگڑی سفارش درکار ہے۔
خیر کچھ دن کے بعد جنید مہار اور میں پھر وہیں ڈھابے پر بیٹھے گرم چائے کے ساتھ میچ ڈالے بیٹھے تھے کہ پھر اسی دوست کا فون آیا اور کہا یار ایک چھوٹا سا کام ہے۔
اس نے پورا گھنٹہ لگا کر مجھے کام سمجھایا۔
میں نے کہا یہ میرٹ پر کام ہے۔
وہ پرجوش ہو کر بولا بالکل میرٹ پر ہے۔
میں نے کہا پگلے پھر فکر کس بات کی ہے۔ مفت میں خود بھی پریشان ہورہا ہے مجھے بھی کررہا ہے اور میں بھی آگے کسی کو پریشان کروں گا۔ جو کام میرٹ پر ہے وہ بھلا کیسے رک سکتا ہے۔ کون مائی کا لعل اسے روک سکتا ہے۔ میرٹ کا کام ہے تو ویسے ہی ہوجائے گا اور یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
جنید مہار بھی ساتھ تھے ان کا ہانسہ نکل گیا اور ان کے ہاتھ سے چائے گرتے گرتے بچی۔۔
میں نے کہا اور کیا خود ہی تو کہہ رہا تھا کہ میرٹ کا کام ہے، اوپر سے کہا چھوٹا سا کام ہے یہ تو ویسے ہی ہو جائے گا۔ میں کیوں خواہ مخواہ تین چار دن خوار ہوتا پھروں۔
سیانے کہتے ہیں قدرت کے کاموں اور پاکستان میں "میرٹ" پر ہونے والے کاموں میں چھیڑ خانی ویسے بھی نہیں کرنی چائیے۔