Monday, 20 July 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Mushkil Kaam

Mushkil Kaam

میرے لیے مشکل کام کسی بندے کو ملنے یا مدد سے انکار کرنا ہے۔ میں خود کو اس بندے کی جگہ رکھتا ہوں تو انکار نہیں کر پاتا۔ کبھی خیر سب کو ملتا اور جہاں کسی کی مدد کرسکتا تو کرتا تھا۔ لیکن پھر ایسے بھیانک تجربات ہوئے کہ ان دونوں کاموں سے دل اچاٹ ہوتا چلا گیا۔ خود پر مزید جبر نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ابھی بھی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں اور یوں اچھے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے۔

فیس بک دوست عائشہ علوی صاحبہ کا میسج تھا کہ ہم جڑنوالہ سے آئے ہوئے ہیں۔ آپ سے ملنا ہے۔ عائشہ علوی صاحبہ اور ان کی اماں سے کافی بینز بیورلے سینٹر پر ملاقات ہوئی تو ہرگز محسوس نہ ہوا پہلی دفعہ مل رہے ہیں۔ وہ میری بکس پر میری دستخط کرانا چاہتی تھیں۔

اماں کی شخصیت میں وہی ہماری روایتی مائوں والی مٹھاس اور سادگی۔ عائشہ علوی صاحبہ کا تعلق جڑونوالہ سے ہے۔ والد صاحب سکول چلاتے تھے اور اب وہ چلاتی ہیں۔

بتانے لگیں ان کے مرحوم والد پکے مسلم لیگی تھے۔ میرے نواز شریف کے خلاف کالمز یا پروگرامز پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن جب عمران خان دور حکومت میں ان کے سکینڈلز بریک کرنے شروع کیے تو وہ پھر مجھے پسند کرنے لگے۔

والد صاحب کی کچھ سال پہلے وفات ہوئی ہے۔ اچانک میں نے دیکھا عائشہ صاحبہ کی آنکھوں میں باپ کا ذکر کرتے کرتے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ ساتھ ہی ان کی اماں کی آنکھیں بھی آنسوئوں سے تر ہوگئی ہیں۔

مجھے ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر یاد آیا دو تین برس پہلے میں کچھ پرانے کاغذات ڈھونڈ رہا تھا تو اماں کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر سامنے آگئی۔ میں کچھ دیر دیکھتا رہا۔ مجھے لگا میری آنکھوں میں آنسو ہیں۔

اماں 1992 میں فوت ہوئی تھیں۔ تیس برس گزر گئے۔ شادی ہوگئی، بچے ہوگئے، محبت تقسیم ہوگئی۔ لیکن میں حیران ہوا تیس برس کا زخم بھی وقت نہ بھر سکا تھا۔

اس طرح 2014 میں جب امریکی ریاست ڈیلیور میں اپنے بھائی ڈاکٹر عاصم صبہائی کے گھر رہ کر بیوی کا کینسر علاج کرا رہا تھا تو مجھے ایک نوجوان اسد زبیر کا ای میل آیا کہ میرے داد کی عمر بیاسی چوراسی سال ہے۔ وہ آپ کے کالم پڑھتے ہیں۔ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ دو تین دفعہ میں نے اگنور کیا لیکن پوتے اسد کی تیسری ای میل پر ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔

چوہدری اسلم صاحب سیالکوٹ سے تھے۔ شاندار دوست زبیر بھائی کے والد۔ بیاسی سال عمر تھی۔

کہنے لگے میں آپ کے کالمز پڑھتا ہوں۔ مجھے آپ کی مدد درکار ہے۔ ہمارے مشکل وقت میں کچھ لوگوں نے ہماری بہت مدد کی تھی۔ اب ہم یہاں امریکہ بہت خوشحال ہیں۔ بچے سیٹل ہوگئے، نواسے پوتے بڑی یونیورسٹیز میں پڑھ گئے لیکن دل کرتا ہے اپنے ان محسنوں کو تلاش کروں جنہوں نے اس وقت ہمارے خاندان کی بڑی مدد کی تھی۔ آپ کالم لکھ کر مدد دے سکتے ہیں؟ وہ الگ کہانی ہے کیسے ان کے محسنوں کو ڈھونڈ نکالا تھا۔

اسلم صاحب اپنی ماں کے بارے باتیں کرنے لگے اور اچانک رونے لگے۔ بیاسی سال کی عمر میں بھی وہ اپنی مرحومہ ماں کی محبت میں بیٹھے رو رہے تھے۔

میں نے عائشہ صاحبہ کو کہا آپ کا غم تو بہت تازہ ہے یہاں تو بیاسی سال کی عمر میں بھی کئی دہائیوں پہلے فوت ہونے والی ماں کا دکھ نہیں جاتا۔۔ ہمارے پیارے کہیں نہیں جاتے وہ ہمارے ساتھ اردگرد ہی رہتے ہیں اور جب چاہتے ہیں ہمیں رولا دیتے ہیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais