Tuesday, 01 September 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Pakistani Cricket Team, Insani Waqar Ki Talash Mein

Pakistani Cricket Team, Insani Waqar Ki Talash Mein

عرصہ ہوا پاکستانی کرکٹ سے دلچسپی تقریباََ ختم ہی ہوچکی۔ مجھے تو اس وقت موجودہ ٹیم کے تین چار کھلاڑیوں کے علاوہ کسی کے نام کا بھی علم نہیں ہے۔ آپ حیران ہو کر پوچھیں گے کہ اگر ٹیم یا کرکٹ سے دلچسپی نہیں رہی تو یہ بھاشن کیوں دے رہا ہوں۔

میں نے انگلینڈ میں جاری پاکستان کی سیریز کی ایک بال بھی نہیں دیکھی حالانکہ کسی دور میں ٹی وی چھوڑیں ریڈیو پر ہی کمنڑی سننے کو پتہ نہیں کیا کیا جتن کرتے تھے۔

بس فیس بک پر کچھ دوستوں کے میچ کے بارے کمنٹس پر نظر پڑی تو دل کیا کچھ لکھا جائے۔ آخر ہم بھی پرانے عاشق ٹھہرے۔۔ اتنا حق تو پرانے عاشقوں کا بنتا ہی ہے کہ کبھی کبھار دل تنگ کرے تو محبوب کی گلی سے نظریں جھکائے ہی گزر جائے۔۔

کبھی میں بھی کرکٹ کے بارے بہت جذباتی تھا۔ بہت کمنڑی سنی، بہت کرکٹ کھیلی۔ بہت کرکٹ میچز ٹی وی پر دیکھے اور پھر وقت نے سیانا کر دیا اور دھیرے دھیرے ٹیم کی کارگردگی /جوئے نے اتنا مایوس کیا کہ میچ دیکھنے ہی چھوڑ گیا۔

اب اسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت یا جنوبی افریقہ کے میچز کبھی کبھار کچھ دیر کے لیے دیکھ کر پرانی ٹھرک پوری کر لیتا ہوں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ کھیل اور کھلاڑی انجوائے کرتے ہیں چاہے وہ کسی ملک کا ہو۔

انگلینڈ میں جو پاکستانی کھلاڑیوں بارے کہا گیا کہ پچاس سالوں میں اسے سے بیکار ٹیم آج تک ٹور پر نہیں آئی سے یاد آیا 1975/76 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا ملتا جلتا حشر ڈینس للی اور تھامسن نے کیا تھا بلکہ بھرکس نکال دیا تھا۔ کلائیو لائیڈ کو وہاں احساس ہوا کہ ان کے سپن بولنگ اٹیک سے بات نہیں بنے گی۔ وہ واپس کیربین گیا اور ایک ایک جزیرے پر جا کر اس نے را ٹیلنٹ ڈھونڈا جو سپیڈ، پاور اور جارحانہ مزاج کا امتزاج ہو۔

یوں جب وہ اپنے ان نوجوان باولز کے ساتھ انگلینڈ ٹور پر گیا تو کپتان ٹونی گریگ نے بی بی سی سپورٹس کے پروگرام میں اس ٹیم کا مذاق اڑایا اور کہا اسے ہم دھول چٹا دیں گے۔ اس کے ذہن میں اس ٹیم کے ساتھ جو حشر اسٹریلیا میں للی اور تھامسن نے کیا تھا وہ تھا۔

اس کمنٹ پر بڑا تنازعہ بھی اٹھا کہ اس نے بے عزتی کی تھی۔

تاہم کلائیو لائیڈ چپ رہا۔ جب سیریز شروع ہوئی تو نوجوان مائکل ہولڈنگ اور اینڈی رابرٹس نے اپنی سپیڈ اور جارحانہ بولنگ سے انگلینڈ خصوصا ٹونی گریگ کا وہ حشر کیا کہ اس نے جھک کر اپنے کمنٹ Grovel پر معافی مانگی تھی۔

ٹونی گریگ کا اشارہ اس طرف تھا کہ اسٹریلیا میں جو حشر اس ٹیم کا ہوا تھا وہ اب یہاں انگلینڈ میں وہی کریں گے اور اسے دھول چٹائیں گے۔ بلکہ اس ٹیم کا ناک رگڑائیں گے۔

یہ بول ٹونی گریک کو بہت مہنگا پڑا تھا۔ یہ سیریز ویسٹ انڈیز نے تین صفر سے جیتی تھی۔ انگلینڈ کی ٹیم کو مار مار کر دنبہ بنا دیا تھا۔

پھر کلائیو لائیڈ کی ٹیم نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میلکم مارشل نے بعد میں اس کالی آندھی کو جوائن کیا جہاں جوئیل گارنر، کولن کرافٹ، رابرٹس، ہولڈنگ نے ایسی تباہی مچائی ہوئی تھی کہ سپن باولنگ کو موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ لائیڈ کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میچز سپن بولنگ سے نہیں جیتے جا سکتے۔ للی اور تھامسن نے انہیں یہی سکھایا تھا۔

کلائیو لائیڈ کے ذہن میں تھا کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ سپیڈ کا مقابلہ سپیڈ ہی کرے گی۔

اب (شاید) مائکل وان نے پاکستان ٹیم کے بارے بھی ٹونی گریک کی طرح ملتا جلتا کمنٹ کیا ہے کہ اس سے زیادہ بیکار پاکستانی ٹیم آج تک برطانیہ کے دورے پر نہیں آئی۔

اب کلائیو لائیڈ جیسا کپتان موجودہ ٹیم میں سے کہاں سے لائیں جو وہی کرے جو لائیڈ نے کیا تھا اورٹونی گریک کو معافی مانگنے پر مجبور کیا تھا۔

میرے دوست سابق چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم کہا کرتے تھے کرکٹ کے کھیل میں انسانی وقار اور ذاتی انا کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ شعیب اختر کی ایک سو ساٹھ کی رفتار سے آنے والی بال کے سامنے انسانی وقار اور انا ہی کسی بیٹسمین کو جان خطرے میں ڈال کر کریز میں کھڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔

ہم پاکستانی برانڈ کلائیو لائیڈ ان حالات میں ڈھونڈ بھی لیں لیکن انسانی وقار اور انا۔۔ وہ کہاں سے لائیں گے۔۔ وہ کھلاڑی کہاں سے لائیں جنہوں نے ٹونی گریگ کا ایک طنزیہ یا بہیودہ کممنٹ اپنے بارے سن کر ایسا سخت ردعمل دیا تھا کہ انگلینڈ کی پوری ٹیم کو دابڑ دھوس کر دیا تھا۔۔

بس یہ انا اور وقار اور عزت والا کام ان حالات میں زرا مشکل لگتا ہے۔۔

نصیرالدین شاہ کی فلم ڈیرہ عشقیہ یاد آئی جب مرحوم نواب کی بیوہ مادھوری کے عشق میں مبتلا شہر کا غنڈہ اس کے ایک بندے کو اٹھا لایا اور مار مار پوچھنے لگا بتا تیری مالکن کو کیسے پٹائوں؟

اس نے کہا حضور اس کے لیے آپ کو نوابی ڈی این اے چاہئے۔۔ پھر ہی وہ پھنسے گی۔

غنڈے نے چماٹ کر اس سے پوچھا اب جلدی سے بتا وہ نوابی ڈی این اے کس پنساری کی دکان سے ملے گا؟

اس نے روتے ہوئے جواب دیا تھا حضور وہ نوابی ڈی این اے آپ کے اندر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔۔ یہ پنساری کی دکان سے نہیں ملتا۔

عزت، وقار اور انا بھی کلائیو لائیڈ کی ٹیم کی طرح آپ کے اندر ہی ہوتی ہے جو ٹونی گریگ کا طنزیہ کمنٹ سن کر جاگ اٹھی تھی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Karobar e Hayat, Hamari Nasal Aur Tawazum Ki Talash

By Unzila Siddiqui