Monday, 11 May 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Parhe Likhe Berozgaar Bache

Parhe Likhe Berozgaar Bache

کچھ دن پہلے اپنے گائوں گیا۔ جائوں تو اجنبی لوگوں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جو ملنے آئے ہوتے ہیں۔ اپنے رشتہ دار دوستوں سے تو محفل جمی رہتی ہے۔ تاہم گائوں کی نئی نسل کے بارے پوچھنا پڑتا ہے کہ یہ کس کابچہ ہے۔ ایک عجیب سی شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ جس گائوں میں پلے بڑھے وہاں کے اب بچوں کا علم نہیں کہ کون کس کا بچہ ہے۔

خیر اس دفعہ گیا تو میں گھر سے باہر نکلا تو ایک باریش بزرگ میری طرف بڑھے۔ میں رک گیا۔ پیار محبت سے ملا تو کہنے لگے آپ سے ایک کام ہے۔ میں نے کہ جی بتائیں۔ کہنے لگے میری بیٹی کچھ پڑھی لکھی ہے۔ اسے کسی کو کہہ کر کہیں سرکاری نوکری لگوا دیں بے شک کہیں درجہ چہارم ہی کیوں نہ ہو۔ پھر کہا چپڑاسی لگوا دیں۔

مجھے جھٹکا سا لگا کہ پہلی دفعہ کس بندے نے کہا کہ بیٹی کو نوکری لگوا دیں اور بھی چپڑاسی کی۔ ورنہ تو ہر لڑکا/لڑکی براہ راست گریڈ سترہ افسر سے کم کی نوکری کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔ پہلا بندہ ملا جو قناعت پرست تھا کہ وہ چیز مانگیں جو شاید مل جائے۔

میں نے ان کے ہاتھوں میں پکڑے کاغذات لیے۔ میرا خیال تھا اس کی بیٹی شاید مڈل پاس ہوگی یا میڑک پاس۔

میں نے سی وی پڑھنی شروع کی تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میں نے اچانک نظر اٹھا کر اس باپ کو پھر دیکھا جس کی بیٹی نے میٹرک سے ایم اے، ایم ایڈ تک فرسٹ ڈویزن نمبرز لے رکھے تھے اور آج بوڑھا باپ بیٹی کے لیے درجہ چہارم کی نوکری مانگ رہا تھا۔

میڑک فرسٹ ڈویزن، ایف اے فرسٹ ڈویزن، بی اے فرسٹ ڈویزن، ایم اے اردو (بہاء الدین زکریا یونیورسٹی) سکینڈ ڈویزن اور بی ایڈ فرسٹ ڈویزن۔۔

میں اسلام آباد لوٹ آیا ہوں لیکن ابھی تک اس جھٹکے سے نہیں سنبھل سکا ہوں کہ ایک باپ نے ہمارے جیسے علاقوں میں پہلے بیٹی کو پڑھایا، قابل بیٹی نے بھی مایوس نہیں کیا اور ہر کلاس میں بہترین پرفارم کیا۔ پتہ نہیں کتنے جواز اور دلائل دے کر بیٹی کو راضی کیا ہوگا یا بیٹی نے خود کو تسلی دی ہوگی کہ چلیں چپڑاسی ہی سہی۔۔

زندگی میں بہت لوگ ملے لیکن جس سادگی اور بغیر تمہید باندھے اس باریش انسان نے مجھے کہا کہ بیٹی کو کہیں چپڑاسی لگوا دیں، ایسا تجربہ کبھی نہ ہوا تھا۔

وہ منظر آنکھوں سے نہیں جاتا کہ ایک بوڑھا باپ ہمارے گائوں گھر کے باہر اپنی قابل بیٹی کی ڈگریاں پکڑے کھڑا تھا کہ زیادہ نہیں مانگ رہا کہیں درجہ چہارم ہی لگوا دیں۔ ایسی قابل بچی زیادہ ڈیزرو کرتی تھی۔ اس سے زیادہ عزت وہ باپ ڈیزرو کرتا ہے جس نے اپنی بیٹی کو ملتان یونیورسٹی تک تعلیم دلوائی دی تھی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais