ایک دن میرے دفتر میں ایک نوجوان آیا۔ اس کا تعلق ہمارے علاقے سے تھا۔ بات چیت ہوئی تو کہنے لگا میں ایم فل میں داخلہ لینا چاہتا ہوں میرے پاس فیس نہیں ہے۔ آپ مدد کریں۔ مجھے ساٹھ ہزار روپے دیں۔
میں نے کہا آپ ایم فل کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
اس نے کوئی کہانی سنائی کہ اسے تین چار سال سے کوئی نوکری نہیں ملی۔ آج کل فارغ ہوں تو سوچا ایم فل کر لوں۔
میں نے کہا آپ نے میرے نام کے ساتھ کبھی لفظ ڈاکٹر پڑھا ہے۔۔ وہ بولا نہیں۔
میں نے کہا اس کی وجہ ہے کہ میں نے ماسٹرز کرنے کے بعد کبھی پی ایچ ڈی کرنے کا سوچا تک بھی نہیں نہ سوچوں گا۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نکھٹو ہوں، نالائق یا کند ذہن ہوں لہذا ماسٹرز کرکے ہی خوش ہوگئے یا پھر آگے ترقی کا شوق نہیں ہے۔
میرے خیال میں ماسٹرز کے بعد آپ کو اپنا تعلیمی معیار پی ایچ ڈی سے نہیں بڑھانا چاہیے اور نہ ہی بڑھتا ہے۔ اس کے لیے کچھ اور لوازمات ہوتے ہیں۔ پی ایچ ڈی کا مطلب ہے بہت اعلی پائے کی ریسرچ جس سے معاشرے کے بڑے طبقے پر اثر پڑے۔ کچھ نئی تھیوری، کچھ نئی سوچ، نئی ایجادات۔۔ کچھ نیا۔۔ جو پہلے ہمارے علم میں نہ تھا۔
شاید پاکستان میں کچھ لوگ یقیناََ پی ایچ ڈی کے بعد قابل ہوجاتے ہوں اور ان سے ہمیں فائدہ ہوتا ہو۔
میں نے کہا دنیا بھر میں بنیادی تعلیم سب کا حق ہے لیکن اعلی تعلیم یا تمہارے کیس میں بہت زیادہ اعلی تعلیم وہ حاصل کرے جو افورڈ کرسکتا ہو۔
امریکہ میں گریجویشن تک نوجوان پڑھتے ہیں۔ ہمارے پاکستانی یا دنیا بھر سے دیگر نوجوان اکثر وہاں ماسٹررز کرتے ہیں ورنہ امریکن نوجوان بی اے/گریجویشن سے آگے نہیں جاتا۔ اب جس نے یونیورسٹی جانا ہے وہ خود کام کرتا ہے، ارننگ کرتا ہے اور اپنی فیس خود دیتا ہے۔
وہ کسی سے مدد مانگنے نہیں جاتا کہ میں نے ایم فل کرنی ہے یا پی ایچ ڈی۔ اگر بہت ضروری ہوا تو وہ اسٹوڈنٹ لون لے گا اور اس دوران وہ پارٹ ٹائم کام کرتا رہے گا تاکہ قرضہ واپس کرسکے۔ اعلی تعلیم تو بہت ذہین نوجوان حاصل کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بعد میں دنیا کے کام آتے ہیں۔ نوبل پرائز لیتے ہیں۔ ریسرچ کرتے ہیں۔ دن رات ایک کر دیتے ہیں۔
میں نے کہا آپ نے جس مضموں میں ماسٹرز کیا اگر وہ بھی عملی زندگی میں آپ کے کام نہیں آیا تو ایم فل یا پی ایچ ڈی کیا کر لے گی؟ اگرآپ انٹرویو میں جائیں تو اپنی قابلیت اور گفتگو سے دوسرے کو اتنا قائل یا متاثر تو کرسکیں کہ وہ آپ کو جاب دے۔
آپ نے ایم فل کرنی ہے تو یہ ایک عدد عیاشی ہے ضرورت نہیں۔ آپ اس عیاشی کے لیے خود کہیں پارٹ ٹائم جاب کریں اور اس میں سے اپنی فیس کا بندوبست کریں تو ہی آپ توجہ اور محنت سے پڑھ کر کچھ نیا سوچیں اور لکھیں گے۔ میری یا کسی کی مدد ضائع جائے گی کیونکہ اس میں آپ کی اپنی کمائی شامل نہیں ہے۔ چیرٹی سے کوئی نئیں پڑھتا۔ چیرٹی سے پیٹ کی بھوک مٹائی جاسکتی ہے، ذہنی یا انٹکیچول نہیں۔
ویسے بھی اس ملک میں اب اتنے پی ایچ ڈی پیدا ہوگئے ہیں کہ وہ ایک پیراگراف بھی انگریزی میں نہیں لکھ سکتے۔ کاپی پیسٹ کلچر نے تباہی بول دی اور اوپر سے پی ایچ ڈی میں بھی سفارش چلتی ہے کہ فلاں استاد یا پروفیسر فلاں کو کہہ دے۔۔ زیادہ سے زیادہ پی ایچ ڈی پیدا کرنے کے چکر میں معیار تباہ ہوا۔ میں حیران ہوتا ہوں کوئی کسی کی پی ایچ ڈی میں کیسے سفارش کرسکتا ہے کہ یار کچھ نہیں اس کی پروموشن کا مسئلہ ہے جانے دو یار۔ کیا فرق پڑتا ہے۔
کالجز یونیورسٹی میں تعنیاتی اور ترقی کے لیے جب سے پی ایچ ڈی لازمی قرار پائی تو پھر چل سو چل۔ ایسے ایسے عنوانات پر پی ایچ ڈی ہورہی ہے کہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔
اب زندگی میں کتنے ایسے پی ایچ ڈی لوگوں سے ملتے ہیں جو آپ کو اپنی گفتگو کے معیار سے متاثر کرتے ہوں یا لگے وہ واقعی کسی مضموں پر اعلی نسل کی ریسرچ کیے بیٹھے ہیں۔
میں زندگی میں جتنے بھی پڑھے لکھے لوگوں سے متاثر ہوا ہوں ان میں ماسوائے ڈاکٹر ظفر الطاف ایک بھی پی ایچ ڈی نہ تھا۔ استادوں میں جس پی ایچ ڈی ڈاکٹر نے متاثر کیا وہ ڈاکٹر انوار احمد ہیں۔
ورنہ جن سے میں متاثر رہا ہوں یا اب بھی ہوں ان میں سے اکثریت تو یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی جیسے ہمارے چوک اعظم لیہ کے مرحوم گرو رانا اعجاز محمود۔۔ کیا کمال انسان کے ذہین بلکہ جینس تھے۔
علم کا سمندر سناتھا لیکن دیکھا رانا کی شکل میں۔ تعلیم صرف بی اے تھی یا پھر ہمارے سرائیکی وسیب کا لاڈلہ مرحوم محمود نظامی۔۔ شاید بنیادی تعلیم میٹرک بھی نہ تھی لیکن اس جیسی ذہانت بھری اور مستقبل میں جھانک کر دانشورانہ گفتگو شاید ہی کوئی کرسکتا ہو۔