Friday, 30 October 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Politicians Should Be Thick Skinned

Politicians Should Be Thick Skinned

وزیرداخلہ محسن نقوی کو جے یو آئی کے سینٹرز کے ساتھ شدید جھڑپ میں نواز لیگ سینٹرز/کابینہ وزراء میں ماسوائے عابد شیر علی کسی نے سپورٹ نہیں دی۔ عابد شیر علی سینٹر کامران مرتضی سے سینگ اڑاتے رہے جبکہ باقی نواز لیگ کے باقی سینٹرز لاتعلق رہے کہ نقوی جانے اور مولانا جانے ہمارا کیا لینا دینا ہے ان پرانے دوستوں کے اس نئے جھگڑے میں۔

سینٹر کامران مرتضی اور نقوی کے درمیان مسلسل زبانی لڑائی ہوئی جس میں سینٹر مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطا الرحمن بھی شامل ہوگئے۔ تاہم رانا ثناء اللہ، بیرسٹر عقیل ملک سمیت دیگر وزراء indifferent رہے۔

پی پی پی سینٹرز بھی نیوٹرل رہے۔ نقوی صاحب جو آج لمبی تقریر اور مولانا کے خلاف جارحانہ موڈ بنا کر آئے تھے انہیں اس شور شرابے اور ان پر سینٹر کامران کے جوابی زبانی حملوں کے بعد اپنی تقریر مختصر کرنی پڑی اور وہ جلد ہاوس سے چلے گئے۔

مجھے لگا وہ اپنی بات پوری نہیں کرسکے۔ ابھی انہیں اسمبلی یا سینٹ میں وہ اعتماد نہیں ملا جو اس ماحول میں سروائیو کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے ڈھائی سال سے زائد پارلیمنٹ نہ جا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ اب وہ اعتماد اور دھڑلے سے بات نہیں کرسکتے۔ ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ شائستگی کا دامن تھامے ہوئے ہیں اور کچھ کچھ وہ شرمیلے بھی لگتے ہیں لیکن پھر شرمیلے بندے کا پارلیمنٹ میں کیا کام ہے؟

جب صبح خواجہ آصف نے اسمبلی میں جوابی تقریر کر دی تھی اس کے بعد محسن نقوی نے اس ٹیمپو کر بڑھانے کی بجائے انٹی کلائکمس ہی کیا ہے۔ اگرچہ وہ جاتے جاتے مولانا اور ان کی پارٹی کو دھمکی کہیں یا وارننگ دے گئے ہیں کہ اب ان کو جواب ملے گا۔ اب جواب دینے کا مطلب مولانا کے خلاف کل ریاست کے خلاف تقریر کرنے پر قانونی کاروائی کرنی ہے یا ان کی مراد یہی زبانی گولہ باری اور الزامات ہیں جو نقوی صاحب نے اپنی نامکمل تقریر میں لگائے ہیں؟

بہرحال نقوی صاحب جو سخت میسج دینے گئے تھے وہ پوری طرح نہیں دے سکے کیونکہ انہیں توقع نہ تھی کہ آگے سے سینٹر کامران مرتضی اور مولانا عطا الرحمن جوابا پڑ جائیں گے اور ان کی کابینہ کے وزراء اور پی پی پی سینٹرز سب اس مہابھارت میں نیوٹرل رہیں گے کہ نقوی صاحب اپنی لڑائی خود لڑیں ہم کیوں آپ کا بوجھ اٹھائیں۔

ہوسکتا ہے کچھ عرصے بعد نواز لیگ اور پی پی پی کو مولانا سے مل کر ہی محسن نقوی کے خلاف ہی لانگ مارچ، احتجاج کرنا پڑے اور مولانا کی اس طرح ضرورت پڑ جائے جیسے آج عمران خان کو پڑ گئی ہے۔ محسن نقوی کے لیے حکومتی وزرا اور پی پی پی سینٹرز مولانا کو اپنا مستقل دشمن کیوں بنائیں؟

نقوی صاحب ہاوس مسلسل آئیں گے، کچھ سنیں گے تو کسی کو سنائیں گے، اپنے اعصاب پر قابو پانا سیکھیں گے، تو ہی مقابلہ کر سکیں گے۔ اپنی شائستگی اور شرم شرما اپنے دفتر رکھ کر آئیں گے تو ہی وہ یہ خوفناک دنگل لڑ پائیں گے۔

کچھ دن انہی پارلیمنٹ میں ایسے دنگل لڑنے کے لیے سیاسی ٹیوٹرز رکھنے ہوں گے کہ مولانا کا مقابلہ تو نواز لیگ کے بڑے بڑے جگادری نہیں کر پارہے۔

ویسے مولانا کو ہاوس میں ٹکڑ دینے کے لیے جگہ تو خالی ہے اگر نقوی صاحب کچھ حوصلہ دکھا سکیں۔ لیکن چرچل نے کہا تھا Politicians should be thick skinned. لیکم اس میں وقت بڑا لگتا ہے۔ برسوں لگ جاتے ہیں۔ آج تو نقوی صاحب کا پہلا دن تھا۔ کل مولانا شاید جواب دینے بھی تشریف لائیں گے۔

نقوی صاحب بہادری یہ ہوگی اس وقت آپ بھی موجود ہوں اور مولانا کے منہ پر ان سے ٹکر لیں۔ ایک دوسرے کی عدم موجودگی میں تقریرں کرنا آسان ہے۔

اب میدان بھی ہے، گھوڑا اور تلوار بھی۔ دیکھتے ہیں اس سوئمبر کا فاتح کون بنتا ہے۔

نقوی صاحب کو اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلہ ہونے کا زعم ہے تو زیرک مولانا صاحب ان لڑائیوں کا طویل تجربہ اور لاکھوں مذہبی فالورز رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں میدان کس کے نام ہوتا ہے یا دونوں جوشیلے پہلوان چند دن کے بعد ہنس مسکرا کر صلح کر لیں گے۔ چڈھو جی لڑائی اچ کی رکھیا اے۔ اپنی اپنی پرانی تنخواہ پر ہم دونوں کام کرتے ہیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Jamhuriat Aur Awami Masail: Falsafa Aur Haqiqat Ka Fasla

By Unzila Siddiqui