Thursday, 02 April 2026
  1. Home/
  2. Rauf Klasra/
  3. Rafi Sahab

Rafi Sahab

ایک دفعہ بھارتی فلموں شعلے اور زنجیر اور دیوار جیسی بلاک بسٹر فلموں کے رائٹر سلیم خان صاحب سے سنا کہ اچھا انسان کون ہوتا ہے تو جواب ملا جس کے گھر کے ملازم اور دوست پرانے ہوں۔

آج پرانی انڈین فلموں کی خوبصورت اداکارہ ممتاز کا پوڈ کاسٹ سنتے ہوئے خیال آیا کہ ایک تیسر انسان بھی اچھا ہوتا ہے جسے اس کے مرنے کے تقریباََ پچاس سال بعد بھی ممتاز جیسی اداکارہ یہ کہہ کر یاد کررہی ہو کہ ان جیسا اچھا انسان کوئی نہ تھا۔

اس سے پہلے امیتابھ بچن نے بھی رفیع صاحب کے بارے میں ایک واقعہ سنا کر یہی بات کی تھی۔ چند دن پہلے نوشاد کا ایک پرانا کلپ سنا تو بھی انہوں نے بھی رفیع صاحب کے بارے یہی کہا۔

ممتاز کہنے لگی وہ رفیع صاحب کو بہت تنگ کرتی تھیں۔ وہ بہت سادہ اور پیارے انسان تھے۔ وہ گانا گانے اسٹوڈیو ہوتے اور وہ کاغذ پر لکھے گانے کی بول یاد کررہے ہوتے تھے تو وہ ان کے سامنے جا کر کھڑی ہو کر کہتی سلام رفیع صاحب۔۔ آئی لو یو۔

وہ سلام کا جواب دے کر اگنور کرتے۔ وہ انہیں بار بار کہتیں رفیع صاحب آئی لو یو۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کہتے ممتاز جی مجھے گانا یاد کرنے دیں۔ تنگ نہ کریں۔

وہ خوبصورت ممتاز جس سے ہر کوئی فلرٹ کرنا چاہتا تھا۔

امتیابچن کو بہت پہلے سنا کسی شہر میں کنسرٹ تھا۔ رفیع صاحب اپنے حصے کے گانے گا کر فلائٹ پکڑنے ائرپورٹ نکل گئے۔ جس گلوکار نے بعد میں پوری رات گانے تھے وہ نہیں آیا تو منتظیمن گھبرا گئے کہ اتنا بڑا مجمع ہے اب کیا کریں۔

فورا ائرپورٹ دوڑے تو پتہ چلا رفیع صاحب تو جہاز میں بیٹھ چکے ہیں۔ جہاز تک رسائی حاصل کی گئی۔ رفیع صاحب کو بتایا گیا یہ مشکل آن پڑی ہے۔

بولے اچھا۔۔ بغیر ایک لفظ کہے نیچے اتر آئے اور جا کر پوری رات گاتے رہے۔

نوشاد صاحب سے سنا کہ ایک فلم میں راگ بھرا کا گانا تھا۔ پروڈیوسر کو گانا پسند نہ آیا کہ صاحب کمرشل فلم میں کون راگ سنے گا۔

رفیع صاحب کو اس گانے کی کمپوزیشن اچھی لگی۔ بولے صاحب مجھے گانے دیں۔ اس کے پیسے نہیں لوں گا۔ فلم/گانا ہٹ ہوا تو پھر منہ مانگی قیمت دے دیجیے گا۔

پروڈیوسر تیار ہوگیا۔ گانا گایا گیا۔ فلم چلی اور گانا بہت ہٹ ہوگیا۔ پروڈیوسر بہت امیر ہوگیا۔ اس نے رفیع صاحب سے کہا جی صاحب بولیے کتنا معاوضہ دوں۔

بولے کیسا معاوضہ؟ میرا معاوضہ تو فلم بینوں اور جنتا نے دے دیا ہے۔ معاوضہ دینا ہے تو نوشاد صاحب کو دیں جنہوں نے کمال دھن بنائی جس سے گانا ہٹ ہوا۔

نوشاد صاحب نے کہا بھائی اس میں میرا کیا کمال تھا یہ تو سب راگ کا کمال تھا یا رفیع صاحب کا۔

لتا منگیشر اور آشا بھوسلے سے رفیع صاحب کے تعلقات درمیان میں خراب ہوگئے تھے۔ وجہ رفیع صاحب کی سادگی اور نان بزنس اپروچ تھی اور لتا جی نے رفیع صاحب کے ساتھ گانے سے انکار تک کر دیا تھا۔

لتا جی نے برسوں بعد ایک انٹرویو میں کہا رفیع صاحب بہت سادہ دل انسان تھے۔ پروڈیوسر انہیں تھوڑے سے پیسے دے کر گانے گوا لیتے تھے۔ لتا کا کہنا تھا ہمیں گانے کی رائلٹی ملنی چاہیے اور تحریری کنٹریکٹ ہو۔

رفیع صاحب کہتے چھوڑو یار جو دینے ہیں یہیں دے دو۔ کون اب رائلٹی کے چکر میں پڑے۔ جس نے جو دے دیا وہ بغیر بحث جیب میں رکھ لیا اور گانا گا دیا۔۔ کسی سے بحث جوڑ توڑ یا لین دین نہیں۔

زیادہ کم گلہ شکوہ کچھ نہیں
سب دی خیر تے سب دا بھلا

یہ تھے رفیع صاحب۔۔ ویسے آپ نے نوٹ کیا اس دنیا میں کچھ ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جن کے نام کے ساتھ "صاحب" سوٹ کرتا ہے۔ اگر آپ صاحب نہ لگائیں تو وہ نام ادھورا رہتا ہے۔ یقین نہیں آتا اور تجربہ کرنا ہے تو زرا اونچی آواز میں پہلے محمد رفیع اور پھر "رفیع صاحب " کہہ کر خود سنیے۔۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Sisyphus Aur Hum

By Syed Muhammad Owais